صدارتی انتخاب: نئے، پرانے سوالیہ نشان

صدارتی انتخاب: نئے، پرانے سوالیہ نشان

  



                    بڑی اپوزیشن جماعت کی طرف سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا ’رولا‘ پڑتے ہی مجھ جیسے پہلی نسل کے پاکستانیوں کو دکانوں ، دفتروں اور گھروں میں لٹکے ہوئے وہ نیلے نیلے کیلنڈر یاد آنے لگے ہیں جن پہ قائد ملت لیاقت علی خان کی تصویر ہوا کرتی تھی ۔ وہی گول چہرے ، گول تر چشمے ، قراقلی ٹوپی اور شیروانی والی تصویر جس میں آپ سرحد پہ جمع ہو جانے والی ہندوستانی افواج کو مکا دکھا کر کہہ رہے ہیں کہ آج سے ہمارا نشان یہ ہے ۔ بانیءپاکستان کے انتقال کے بعد ، ہمارے ابتدائی بچپن میں ملک کے پہلے وزیر اعظم کی یہی شبہیہ بیشتر پاکستانیوں کے دلی احساسات کی آئینہ دار تھی ۔ پاکستان کو وجود میںآئے چند ہی سال ہوئے تھے اور اکثریت کو یقین تھا کہ یہی وطن ہمارے لئے انصاف ، امن اور عزت کا گہوارہ بنے گا ۔ دلوں میں خلوص تھا ، سادگی تھی ، ایک اعتماد اور حوصلہ تھا ۔

ذاتی بات کروں تو ان دنوں عام گفتگو میں پاکستان ’بننے‘ کا ذکر بار بار ہوا کرتا اور بچوں کو یہ لگتا کہ ہو نہ ہو ، ہمارے ارد گرد کے مکان ، سڑکیں اور گلیاں کسی وجہ سے نئے سرے سے تعمیر گئی ہیں ۔ پھر خیال آتا کہ اگر پاکستان ’بن‘ گیا ہے تو آبائی شہر کی گندم منڈی ، بڈھی بازار اور محلہ دھارووال کے ادھ جلے مکان جنات کے بسیرے کیوں لگتے ہیں ۔ گھریلو بات چیت میں ایک اور جملہ بھی اکثر سنائی دیتا کہ ’مسلمانوں نے پیسہ نہیں دیکھا تھا ، اب دیکھا ہے تو دماغ خراب ہوگئے ہیں‘ ۔ اس وقت مجھے یہی لگا کہ یہ موری والے ایک پیسے کے سکے کا کوئی چکر ہے (ویسے آج بھی یہی لگتا ہے!) ، اس لئے سمجھ میں نہ آیا کہ جن لوگوں نے پیسہ نہیں دیکھا تھا ، اب پیسہ دیکھنے سے ان کا دماغ کیسے خراب ہو گیا ہے اور اگر ہو گیا ہے تو پھر علاج معالجہ کی کوئی صورت کیوں نہیں ۔

دوسری تیسری جماعت میں پہنچے تو پتا چلا کہ کیلنڈر والی تصویر اپنی عینک اور شیروانی سمیت غائب ہوتی جا رہی ہے ، اور اس کی جگہ وردی والی تصویر نے لے لی ہے ۔ یہ تھے وجیہہ و شکیل کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان جو ’ملکی استحکام‘ اور ’قومی سا لمیت‘ کو بچانے کی خاطر منظر عام پہ آئے اور معاشرت و معیشت کی تمام خرابیوں کو جڑ سے اکھیڑنے کا دعوی کرتے ہوئے اقتدار پہ قابض ہو گئے ۔ چونکہ ایوب خان نے پہلے تو صدر اسکندر مرزا کی شراکت سے اور پھر انہیں فارغ کرنے کے لئے ایک ہی مہینہ میں دو مرتبہ انقلاب برپا کیا ، اس لئے اب ٹھیک سے یاد نہیں کہ جب میں اپنے دادا کی انگلی تھامے ریلوے روڈ اور اس سے آگے بڑے ڈاکخانہ کے قریب سے گزرتے ہوئے مسلح فوجیوں کو دیکھ دیکھ کر سخت خوف کی حالت میں تھا تو اس دن اکتوبر 1958 ءکی کون سی تاریخ ہوگی ۔

پھر بھی سچ پوچھیں تو شروع شروع میں جنرل ایوب خان کے بارے میں ہم بچوں کے خیالات کچھ نیوٹرل قسم کے تھے ۔ ایک تو اس لئے کہ کم و بیش ہر ماہ عبوری دارالحکومت راولپنڈی سے اپنے گاﺅں ریحانہ جاتے ہوئے ، وہ ہمارے گھر کی نواحی شاہراہ سے گزرتے تو یہ سوچ کر ایک اپنائیت کا احساس ہوتا کہ شیر شاہ سوری نے یہ جرنیلی سڑک خاص طور پہ ہمارے اس جرنیل کے لئے بنوائی تھی ۔ دوسرے ، ہمارے اخبار نویس ، شاعر اور ناول نگار دوست ہمراز احسن کے الفاظ میں ، اس زمانہ میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھ پر زندگی ، دل اور دماغ کی بس تین سیدھی سادی لکیریں ہوتی تھیں ۔ باقی لکیریں بعد میں نمودار ہوئیں ، اور اب تک نمودار ہوتی چلی جارہی ہیں ۔ بہر حال ، ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ جنرل ایوب نے اقتدار پہ قبضہ کیوں کیا اور اس سے کون سے رجحانات جنم لیں گے ۔

1964 - 65ءکے صدارتی انتخابات بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت ہوئے تھے ، جس کے لئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست ووٹنگ کی بجائے ملک بھر کو اسی ہزار حلقوں میں تقسیم کیا گیا ۔ ان میں سے ہر حلقہ کا منتخب بی ڈی ممبر یا بیسک ڈیموکریٹ اس انتخابی ادارے کا رکن قرار پایا جو صدارتی اور اس کے بعد اسمبلیوں کے چناﺅ میں ووٹ ڈالنے والا تھا ۔ ہمارے جرنیل کے مقابلے میں ، جسے آئینی ضرورت کے تحت منافع بخش عہدے کی ’تہمت‘ سے بچنے کے لئے فیلڈ مارشل کی کنیت اختیار کرنا پڑی ، بانی ءپاکستان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں عوامی مقبولیت کی لہر دیدنی تھی ۔ ایک جانب یہ سرکاری نعرہ کہ ’ہم نے ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام دیا ہے‘ اور دوسری طرف یہ عوامی مطالبہ کہ ’ہمیں پولیس سٹیٹ نہیں ، قائد اعظم کا پاکستان چاہئیے‘ ۔

 یہ دونوں سوچیں ایک دوسری سے کتنی مختلف ہیں ، اس کا اندازہ تو اس وقت ہوا جب واہ چھاﺅنی کے ویلفئر اسٹیڈیم میں ’یوم انقلاب‘ پہ یرغمال بنائے گئے سکول کے بچوں کی سالانہ پریڈ ہو رہی تھی ۔ اس روز ہمارے بینڈ ماسٹر صاحب نے ، جو دوسری جنگ عظیم کی باقیات میں سے تھے ، پاکستان اور قائد اعظم کے نعروں کے بعد ، زور کلام کی خاطر مائیکروفون پر صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان زندہ باد کا نعرہ بھی لگوا دیا ۔ سرکاری تقریب تھی ، اس لئے یہ کام سٹیج سے ہوا ، جہاں درجنوں باوردی اور بے وردی افسر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس پر عوامی پنڈال سے نکل کر محترمہ فاطمہ جناح کا ایک حامی جو میدان کے وسط میں کودا ہے اور اس نے اپنا بازو بلند کرکے جو پوری طاقت سے کہا ہے ’۔۔۔ ما آآ ۔۔۔ درے ۔۔۔ ملت‘ ۔ عوام نے یکبارگی جواب دیا ’زندہ باد ‘ ۔ اسٹیڈیم کے درو دیوار ہل گئے ۔ سرکاری تقریب تتر بتر ہوگئی ۔

1962ءکے آئین میں صدر کو فوج کے سپریم کمانڈر کے علاوہ تینوں مملکتی شعبوں میں جو مرکزیت حاصل رہی ، اس پہ لائل پور یعنی موجودہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی پھبتی تو خیر کسی ہی گئی ۔ نوائے وقت کے اداریے اور حبیب جالب کی نظمیں اس کے علاوہ تھیں ۔ پنجابی لوک کہانی کا یہ مصرعہ بھی خوب مقبول ہوا کہ ’گلیاں ہو ون سنجیاں وچ مرزا یار پھرے‘ ۔ مگر قربان جاﺅں اس بی ڈی ممبری والے مینڈیٹ کے ۔ صدارتی انتخاب کے دن جب جی ایچ کیو سے کوئی بیس میل دور اپنے حلقے کے ممبر صاحب سے پوچھا کہ آج الیکشن میں کون جیتے گا تو انہوں نے ایک بلیغ جملہ کہا تھا ، جس کا پورا تاثر صرف مقامی زبان میں ملے گا ۔ فرمایا ’ووٹ تے ایوب خان آں دے آئے آں ، تے دعا مائی واسطے پے کرنے آں ‘ ۔ ( ووٹ تو ایوب خان کو ڈال دیا ہے ، لیکن دعا مادر ملت کے لئے کر رہے ہیں ۔)

شام کے وقت جب ریڈیو پہ الیکشن کے نتائج نشر ہونے لگے تو ’بچہ لوگ‘ کا خیال تھا کہ نوائے وقت کی سرخی کے مطابق ’آج مادر ملت انشا اللہ صدر منتخب ہو جائیں گی ‘ ۔ اعلان سننے کے لئے ضد کر کے بجلی کے ریڈیو میں پینتیس پیسے کے دو نئے والو ڈلوائے تھے ، مگر چونکہ ’وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں ‘ اس لئے کچھ ہی دیر میں بڑے ’اوپرے اوپرے‘ سے اعداد و شمار نشر ہونے لگے ۔ جیسے میرے آبائی ضلع میں ، جہاں کے باسی مفکر پاکستان کا ہم وطن ہونے پہ ناز کرتے ہیں ، ریڈیو پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کے ووٹوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتا رہا تھا جبکہ محترمہ فاطمہ جناح کو ملے تھے تین سو سے کم ووٹ ۔ صرف کراچی اور ڈھاکہ نے جمہوریت نوازی کی لاج رکھی ، لیکن ایک کا وہ حال ہوا کہ ’کہیں نہیں ہے ، کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ‘ اور دوسرے کے بارے میں ہم برسوں پوچھتے پھر ے کہ :

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

علم سیاسیات کے نامور استاد اور میرے دوست پروفیسر سجاد نصیر مناسب وقفوں کے بعد اپنی تاریخ کو ’ری وزٹ‘ کرنے کی افادیت بیان کیا کرتے ہیں ۔ پروفیسر صاحب کے ایما پر 1958ءمیں دادا کی انگلی پکڑ کر لرزتے دل کے ساتھ مسلح فوجیوں کے پاس سے گزرنے والا دوسری جماعت کا طالب علم ، مصطفے زیدی کے بقول ’جگہ جگہ کے طلسمات ، دیس دیس کے رنگ‘ دیکھ داکھ کر آج پچپن سال پہلے کے منظر نامہ کو ری وزٹ کر رہا ہے تو کیا اس کے ہونٹوں پہ اسی شاعر کا یہ مصرعہ ہونا چاہئیے کہ ’مرے وطن ، مرے سامان میں تو کچھ بھی نہیں‘ ۔ جی نہیں ، ہمارے مسافر کے سامان میں بہت کچھ ہے کیونکہ اس نے کندھوں پر چھوٹے بڑے ،تلخ و شیریں ، خوشگوار اور پریشان کن ، کئی طرح کے تجربات کا بھاری بھرکم بیگج اٹھا رکھا ہے ۔

 پھر بھی تاریخ کو ری وزٹ کرتے ہوئے اس کے ’ہینڈ لگیج‘ میں جنرل ایوب کے لئے فقط ایک ہی سوالنامہ کا پرچہ ہے مگر سوال نازک نوعیت کا ہے ، اور وہ یہ کہ ’سر ، آپ کا انقلاب پاکستان میں اپنی قسم کی پہلی کامیاب کوشش تھی جس کے لئے کوئی پیشگی نمونہ سامنے نہیں تھا ، اس لئے ہم آپ کی حب الوطنی اور خلوص نیت پہ سوال نہیں اٹھاتے ۔ مگر ایمان کی کہئے ، کبھی خیال آیا کہ بطور قائد آپ کا ہر بڑا فیصلہ صرف وقتی اقدام نہیں تھا ، بلکہ شائد نہ چاہتے ہوئے بھی یہ ایک ایسا رجحان ساز عمل ثابت ہوا ، جو بعد کے ’انقلابات‘ کی سحیح اور غلط کارروائیوں کا جواز بنتا چلا گیا‘ ۔ کوئی بھی با اثر آدمی کسی کاروباری ادارے ، سرکاری محکمے یا دفتر کا سربراہ ہو ، اس کا طرز عمل انہی معنوں میں تاریخی کردار ہوا کرتا ہے ۔ جنرل ایوب تو خیر سے دس سال سے زائد مدت تک صدر مملکت رہے ۔

مشکل یہ ہے کہ اگر فوجی حکمران تاریخ کے اس امتحان میں فیل ہوئے تو نئی ٹرم کے پہلے ہی ٹیسٹ میں ’سپلی‘ تو سیاسی جماعتوں کی بھی لگتی دکھائی دے رہی ہے ، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سمسٹر سسٹم میں ضمنی امتحان کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ جمہوریت کی ٹرین کتنی دشواریوں سے پٹری پہ چڑھی ، کون کون سے سگنل پر سرخ بتیاں جل رہی ہیں اور کس کس سگنل پہ آج بھی آمنے سامنے کی ٹکر کا ڈر ہے ؟ بر سر اقتدار جماعت کا رمضان کے تیسرے عشرہ سے پہلے صدارتی انتخاب کرا نے کا ’نیم مذہبی ‘ مطالبہ تو منفرد تھا ہی ، مگر بڑی اپوزیشن جماعت نے اس کے جواب میں الیکشن کا بائیکاٹ کر کے جمہوری عمل کے منہ پہ چپت رسید کر دی ہے ۔ کھلاڑی کیوں نہیں سمجھتے کہ میچ کا فیصلہ اگر پینلٹی اسٹروک کے ذریعے ہوا تو امپائر کی لگائی ہوئی ہٹ ساری ٹیموں سے زیادہ زوردار ہوگی ۔    ٭

مزید : کالم


loading...