جاوید محمود: ایک مثالی بیوروکریٹ

جاوید محمود: ایک مثالی بیوروکریٹ
جاوید محمود: ایک مثالی بیوروکریٹ

  



                            سوچ رہا ہوں جاوید محمود کو ایک مثالی بیورو کریٹ کہوں یا ایک درویش بیورو کریٹ ۔سچ پوچھیں تو انہیں بیوروکریٹ لکھتے ہوئے بھی میرا قلم رکتا ہے۔ اس لفظ کا ایک منفی connotation بھی ہے۔ جب دھیان اُدھر جاتا ہے تو جناب جاوید محمود کو بیوروکریٹ کہتے ہوئے مَیں اچھا محسوس نہیں کرتا۔ بیوروکریٹ بالعموم وہ ہوتے ہیں، جن کے سر پر افسری بُری طرح سوار ہوتی ہے۔ وہ کئی ایک بے معنی، رواےتی اور کھوکھلے رو یوں کے غلام ہو تے ہیں ۔ یہ روےے انگریزی دور کی یاد گار ہیں۔سب نہ سہی، لیکن اکثریت کے بارے میں میری رائے درست ہے ۔ جناب رسالت مآب ﷺ کا ارشاد ہے....”ہر شخص کے اندر شیطان ہے،کسی نے شیطان کو قابوکیا ہوتاہے اور کچھ لوگ اپنے شیطان کے قبضے میں ہوتے ہیں“۔یہی بات مَیں افسروں کے بارے میں کہوںگا ۔ کچھ لوگ افسری کے غلام ہوتے ہیں اور کچھ نے افسری کو بے بس کیا ہوتاہے ۔ جاوید محمود ایسے افسر ہیں، جنہوں نے افسری کو قابو کر کے اسے بے بس کیا ہوا ہے ۔ اگر آپ کو پہلے سے پتہ نہ ہو کہ یہ صاحب اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کر چکے ہیںتوان سے ملاقات میں آپ قطعََا ان کے status کا اندازہ نہیں لگاسکتے ۔ مَیں نے انہیں دفتر میں سائلو ںسے بات چیت کرتے دیکھاہے۔ وہ ڈائس کے برابر کھڑے ہو کر، سائل سے بات کرتے ہیں جو ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے ۔دیکھنے والے محمود اور ایاز میں فرق نہیں کر سکتے ۔پتہ نہیں چلتا کہ افسر کون ہے اور سائل کون ۔ اُنہیں سائل سے بات کرتے دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ دو دوست کسی مسئلے کے بارے میں باہم مشور ہ کر رہے ہیں۔ وہ سائل کو ٹرخانے کی کوشش نہیں کرتے ،بلکہ پوری ہمدردی اور دلچسپی سے اس کی بات سُن کراس کی مدد کرتے ہیں۔ کاش ! سب افسروں کا رویہ ایسا ہی ہو جائے۔

مَیں ایک سلسلے میں ان سے ملنے گیا تو سوچ رہا تھاکہ خدا جانے ملاقات ہو یا نہ ہو....اور اگر ہو تو کب اور کیسے ہو۔ اگر شرفِ باریا بی مل گیا تو اپنی بات ٹھیک سے کہہ بھی سکوں گا یا نہیں؟ ان کابلند رُتبہ میرے اور ان کے درمیان دیوار تو نہیں بن جائے گا ۔ ڈھیر سارے ملاقاتی ہوںگے ۔ مَیں اِس ہجوم میں گم ہو کر نہ رہ جاﺅں ۔ اگر صاحب اندر” میٹنگ “میں ہوئے تو کتنا انتظار کر نا پڑے گا۔ مَیںاسی ادھیڑ بن میں ان کے دفتر کے سامنے پہنچا تو پتہ چلاکہ یہ کسی افسر کا دفتر نہیں ہے ،بلکہ ایک درویش کا ڈیرہ ہے ،جہاں ہرشخص بلا دھڑک اند ر جاسکتا ہے ۔ جہانگیر تک پہنچنے کے لئے تو زنجیر ہلانا پڑتی تھی ،لیکن یہاں اس تکلف کی ضرورت بھی نہیں ۔ کمرے کا دروازہ مستقل طور پر کھلارہتا ہے ،جس میں حاجت مندوں کے لئے کرسیاں دھری ہیں ۔ اند ر نام کی چٹ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ جاوید محمود باری باری سب کی بات سنتے ہیں اور گفتگو میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ بیورو کریٹ عموماً کم گو ہوتے ہیں۔غالباًیہ بھی افسری کا ایک انداز ہے، جو انگریز افسروں کی یاد دلاتا ہے۔ اکثر افسر سائلوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اُن سے کھل کر بات کی جائے یا اُن کے مسئلے کے بارے میں کوئی کمٹمنٹ کی جائے ۔ بیچارہ سائل یہ سوچتے ہوئے رخصت ہو جاتا ہے کہ اللہ جانے حضور والا اُن کے مسئلے کو سمجھ بھی پائے ہیں یا نہیں۔ اس لئے کہ نہ حضور والا خود وضاحت سے بات کرتے ہیں اور نہ ہی سائل کو زیادہ بولنے کا موقع دیتے ہیں۔ بیچارہ سائل اُمید و بیم کے عالم میں رخصت ہو جاتا ہے۔ اس افسرانہ روےے کے برعکس، جاوید محمود اتنی اپنائیت ،محبت اور بے تکلفی سے سائل کی بات سنتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے:

 ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں ہے

وہ لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں جو اپنی انسانیت پر کو ئی مصنوعی رنگ چڑھنے نہیں دیتے ۔جو انسان کو انسا ن سمجھتے ہیں اور کسی کو کمتری کا احساس نہیں دلاتے ۔ حالی نے کیا خوب کہاتھا:

اِس نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا

خاکساری اپنے کام آئی بہت

ان لوگوں کو اگر کسی بات پر فخر ہوتا ہے تو اپنی خاکساری پر۔ جو خاکساری ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر سکتی ہے، ©© وہ خود کتنی اعلیٰ ہو گی۔جاوید محمود جب پنجاب کے چیف سیکرٹری تھے تو اپنا شاند ار دفتر چھوڑکرسیکرٹریٹ کے گیٹ کے ساتھ جو محافظوں کا کمرہ ہوتا ہے، وہاں بیٹھ کر لوگوں کی شکایات کا ازالہ کر تے تھے۔ ایئرکنڈیشنرکے محتاج وُہ پہلے تھے، نہ ا ب ہیں۔ ایک عام شخص بھی چیف سیکرٹری کو بے دھڑک مل سکتا تھا۔کیا چشمِ فلک نے کبھی ایساچیف سیکرٹری دیکھا ہے جو عام لوگوں کو انصاف دینے کے لئے اپنے محل نما دفتر کو چھوڑ کر فٹ پاتھ پر بنے ہوئے عام سے کمرے میں آبیٹھے ۔ سر سید کے بارے میں اکبر ا لہٰ آبادی نے کہا تھا:   

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سیّد کام کرتا ہے

 یوں کہےے کہ باتیں کرنے والے تو بہت ہیں ، (کیونکہ باتیں کرنادنیا کاآسان ترین کام ہے )لیکن کام کرنے والے لوگ کم ہوتے ہیں ۔

اس موقع پر مَیں ایک اور بیوروکریٹ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا، جسے مَیں درویش بیوروکریٹ کہا کرتا ہوں۔ وہ ہیں جناب اعجاز رحیم جو ریٹائرمنٹ کے وقت وفاق میںکیبنٹ سیکر ٹری تھے۔ اتفاق سے وہ بھی ایک صوبے کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں۔اُن میں بھی ذرہ برابر افسرانہ خُو بُو نہیں تھی۔وہ کسی انسان کو ، چاہے کوئی چپڑاسی ہو ، مالی ہو یا خاکروب ، یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ کسی لحاظ سے بھی ایک کمتر درجے کا انسان ہے ۔ہر شخص کی مشکل کو ہمدردی سے سمجھنا اور اُسے خلوص دل سے حل کرنے کی کوشش کرنا ، اعجاز رحیم کا شعار تھا ۔ مجھے یہی خُوبیاں جاوید محمو د میںنظر آئی ہیں۔ ان دونوں حضرات میں اتنی مماثلت ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔مجھ سے سی ایس ایس کے طلبہ اکثر پوچھتے ہیں کہ ایک بیوروکریٹ کو کیسا ہونا چاہےے؟ میں ہمیشہ اعجاز رحیم کی مثال دیا کرتا ہوں ۔اب ایک اور مثال کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ کاش ہمارے افسران جاوید محمود اور اعجاز رحیم کو اپنا رول ماڈل بنائیںاور انگریز کے زمانے کی، مکروہ افسرانہ روایات کو چھوڑکر صحیح معنوں میں عوام کے خادم بنیں ۔بہت پہلے مَیں نے ایک قطعہ کہا تھا :

وطن کے حاکمو! اب عرش سے اُتر آﺅ

کہ اس زمیں کے تقاضے پکارتے ہیں تمہیں

حیات جن کے لئے ہے عذابِ مرگ کا نام

اسی حیات کے مارے پکارتے ہیں تمہیں

مَیں اب بھی افسروں سے یہی کہوں گا کہ وہ عرش سے نیچے اُتر آئیں، کیونکہ جس قوم( انگریز) نے اُنہیں عرش پر بٹھایا تھا ،وہ خود زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں سمٹ چکی ہے۔ آپ کو یہ بات تسلیم کرنے میں کتنی دیر لگے گی کہ انگریز جا چکا ہے۔انگریز افسر ہمارے حاکم تھے، لیکن آپ لوگ عوام کے حاکم نہیں ،بلکہ ان کے خادم ہیں۔ آپ کو پبلک سرونٹس کہا جاتا ہے۔ غالباً آپ کی ڈکشنری میں سرونٹ کا مطلب کچھ اور ہی ہے۔ عرش سے اُتر کر زمین پرآ جائیں اور ان مظلوموں کی داد رسی کریں جن کی خون پسینے کی کمائی سے آپ کو تنخواہیں ملتی ہیں۔ زندگی جن کے لئے عذاب ِ مرگ کا نام ہے ،اُسی زندگی کے مارے ہوئے آپ کو مدد کے لئے پکارتے ہیں۔ کانوں پر پڑے ہوئے پردوں اور آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹیوں کو اتار پھینکیں ۔ مظلوم کی آواز سُنےں اور اُس کی حالت ِزار کو دیکھیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیکی کا سُنہری موقع عطا فرمایا ہے، اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ افسری ختم ہو جاتی ہے، لیکن اچھا یا بُرا نام ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔اچھے یا برے کام بھی ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔

مجھے اپنی ستر سالہ زندگی میں بے شمار افسروں سے واسطہ پڑاہے ۔میرے بیسیوں شاگر د اعلیٰ افسران ہیں۔ اُن کے علاوہ بھی بہت افسر دیکھے ہیں ۔ ان میں بہت اچھے لوگ بھی ہوتے تھے اور ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو اچھے اور بُرے کا ” حسین امتزاج“ ہیں۔میری زندگی میں دوسری بار ایسا ہوا ہے کہ میر ا قلم کسی افسر کے لئے رطبُ اللّسان ہوا ہے ۔مَیں نے سینکڑ وں کالم لکھے ،جن میں بمشکل چار پانچ تو صیفی کالم ہوں گے۔میرے ممدوحین میں ،مہدی حسن خان، عبدالستار ایدھی ، ڈاکٹر وزیرآغا ، ڈاکٹر نذیراحمد ، اعجاز رحیم اور منیر نیازی جیسے چند لوگ شامل ہےں ۔سوائے ملک معراج خالد کے مجھے کسی سیاسی شخصیت کی مدح وتو صیف کرنے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ مَیں نے کبھی اپنے ممدوح کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ممدوح خود میرا انتخاب کرتا ہے۔ یہ جو مَیں جاوید محمود کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو آپ یوں سمجھیں کہ یہ ان کی شخصیت کا سحر ہے ،جس نے میرے قلم کو روانی دی ہے ۔ میراقلم ان کی عظمت کو سلام کرتاہے۔ ٭

مزید : کالم