آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم۔۔

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم۔۔
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم۔۔

  



                        انیسویں تراویح

سورة الرحمن ....55 ویں سورت

سورہ¿ رحمن مدنی ہے۔ 78آیات اور 3 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے نمبر 97 ہے۔ ستائیسویں پارہ کے گیارھویں رکوع سے تیرھویں تک ہے۔ پہلے ہی لفظ ”الرحمن“ سے نام لیا گیا ہے۔ (نام کو سورہ رحمن کے مضمون سے بھی مناسبت ہے۔) شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کے مظاہر و ثمرات کا ذکر ہے۔ اس سورت کا مضمون مدنی سورتوں کی نسبت مکی سورتوں سے زیادہ ملتا ہے، اسی لئے بعض مفسرین نے اس کو مکی بھی کہا ہے، بلکہ اپنے مضمون کے لحاظ سے مکہ کے ابتدائی دور کی معلوم ہوتی ہے۔ احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنوں نے بھی یہ سورت سنی تھی اور آیت ”فبای آلاءربکما تکذبانo“ کا جواب ”لابشیءمن نعمک ربنا نکذب فلک الحمد“ دیا تھا۔ چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو بھی اسی طرح جواب دینے کا حکم دیا۔ جنوں کا قرآن سننے کا واقعہ 10 نبوی کا ہے جب آپ طائف سے واپس آتے ہوئے ”نخلہ“ کے مقام پر رکے تھے۔ (بعض مفسرین نے کہا کہ سورہ رحمن دوبار نازل ہوئی، ایک بار مکہ اور دوسری بار مدینہ میں۔)

شروع میں اللہ کی رحمانی کا ذکر ہے کہ اس نے قرآن جیسی بے مثل نعمت عطا فرمائی اور انسان کو پیدا کر کے اسے اولین اور آخرین سب کا علم دیا۔ دنیا کی نعمتوں میں سے سورج، چاند، تارے، آسمان، زمین ،عدل و انصاف، میوے، کھجور، اناج، پھول وغیرہ کیا کیا ہیں جن سے انسان اور جن سبھی مستفید ہوتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ان نعمتوں کا انکار نہیں کر سکتا۔ آدمی مٹی سے، جن آگ سے پیدا کئے گئے۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے دو دو جنتیں ہوں گی۔ ایک تو اللہ کی رضا کی جنت اور دوسری اعمال کے صلے کی جنت۔ ان میں قسم قسم کے پھل ہوں گے۔ دو دو چشمے ہوں گے۔ دو دو قسموں کا ہر میوہ ہو گا۔ جنتی لوگ اپنے بستروں پر تکیہ لگائے ہوں گے جن کا استراستبرق (یعنی قنادیز) کا ہو گا۔ اور میوے اتنے جھکے ہوئے ہوں گے کہ نیچے سے چن لئے جائیں گے۔ پاکیزہ عورتیں ہوں گی۔ گویا وہ لعل اور یاقوت و مرجان ہیں۔ اور نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔

سورة الواقعہ : 56 ویں سورت

سورہ¿ واقعہ مکی ہے، 96 آیات اور 3 رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے 46 ویں سورت ہے۔ یہ ستائیسویں پارہ کے چودھویں رکوع سے سولہویں تک ہے۔ اس کا نام پہلی ہی آیت کے لفظ ”الواقعة“ سے لیا گیا ہے۔ امام سیوطیؒ نے ”الاتقان“ میں لکھا ہے کہ پہلے سورہ ”طہٰ“ نازل ہوئی، پھر ”الواقعہ“ اور پھر ”شعرائ“ یہی ترتیب بیہقی اور دلائل النبوة میں بھی ہے۔ حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کے واقعہ میں ان کی بہن کا ایک فقرہ ہے کہ ”اس کو نہیں چھوتے مگر پاک“ اور یہ اس سورہ واقعہ کی آیت ہے، یعنی ”لایمسہ الاالمطہرون“ ۔حضرت عمرؓ، ہجرت حبشہ کے بعد 5 نبوی میں ایمان لائے۔ سورت کا موضوع آخرت، توحید اور قرآن مجید کے متعلق کفار کے شبہات کا رد ہے۔

قیامت کے دن لوگوں کی تین قسمیں ہوں گی۔ ایک گروہ تو وہ ہو گا جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوں گے اور وہ جنتی ہوں گے۔ دوسرا گروہ وہ ہو گا جن کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ہو گا اور وہ جہنمی ہوں گے۔ تیسرے وہ مہاجرینؓ و انصارؓ ہوں گے جو سابقینؓ اولینؓ میں ہیں اور ان کے ساتھ کچھ لوگ بعد کے بھی ہوں گے جو مقرب بارگا ہ ہوں گے۔ اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! آپ تو اللہ کی تسبیح کریں۔ آپ کو کیسی شان والا قرآن دیا گیا جو محفوظ ہے اور اسے وہی چھو سکتا ہے جو مطہر کیا گیا (یعنی بدعقیدہ شخص اس کو حفظ نہیں کر سکتا) سارے جہانوں کے رب نے اسے نازل کیا ہے۔مرنے والا اگر مقرب بارگاہ ہے، تو اس کے لئے بڑی راحتیں اور جنت نعیم ہے۔ پھر وہ لوگ راحت میں ہوں گے جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوں گے، لیکن جھٹلانے والے لوگ سخت عذاب میں ہوں گے اور ان کی مہمانی کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی۔ اور اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم !آپ اب اپنے عظمت والے رب کی تسبیح کریں۔

سورة الحدید:57 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 29آیات اور4 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 94 ویں سورت، 27 ویں پارہ کے سترھویں رکوع سے بیسویں تک ہے۔ اس کا نام آیت 25 کے فقرہ ”وانزلنا الحدید“ سے لیا گیا ہے۔ بالاتفاق مدنی سورت ہے۔ غالباً غزوہ ”اُحد“ اور ”صلح حدیبیہ“ کے درمیان نازل ہوئی (جبکہ مدینہ کی مختصر اسلامی ریاست کو کفار نے گھیر رکھا تھا۔) اسلام کو جانی قربانی کے ساتھ مالی قربانی بھی درکار تھی۔ زمانہ نزول 4ھ یا 5ھ ہے۔ سورت میں انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے۔

وہی ہے جو تمہیں اندھیرے سے اجالے کی طرف لاتا ہے اور جب اللہ ہی ہر چیز کا وارث ہے، تو پھر اس کی راہ میں کیوں خرچ نہیں کرتے۔بیشک اللہ نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو بھی بھیجی ہے اور انسانوں کے دنیوی فائدے کے لئے لوہا بھی اتارا ہے، جس میں بڑی قوت ہے اور یہ اس لئے بھی ہے کہ اس کے ذریعے اللہ کے دین کی نصرت ہو سکے۔ اور بے شک ہم نے نوحؑ اور ابراہیم علیھم السلام اور ان کی اولاد کو بھی نبوت عطا کی تھی اور پھر ان کے بعد دوسرے رسول اور عیسیٰ علیہ السلام بھی تشریف لائے جن کے تابعین کے دلوں میں نرمی اور رحمت پیدا کی،لیکن ان لوگوں نے اپنی طرف سے رہبانیت اختیار کر لی جس کو وہ نباہ نہ سکے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاﺅ، تم (حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرح) دوگنے اجر کے مستحق ہو کہ تم پہلے نبی اور پہلے والی کتاب پر بھی ایمان رکھتے تھے اور آخرت میں تمہیں ایسا نور حاصل ہو گا جس میں تم چلو گے اور اللہ تمہیں بخش دے گا۔

سورة المجادلہ:58 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 22 آیات اور 3 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 105 ویں سورت ہے۔ اٹھائیسواں پارہ اسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ (سورت تیسرے رکوع تک ہے۔) اس کا نام پہلی ہی آیت کے لفظ ”تجادلک“ سے ماخوذ ہے۔ سورت غزوہ احزاب (5ھ) کے بعد نازل ہوئی۔ سورة میں ”ظہار“ کے قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ نیز مختلف معاشرتی و سماجی مسائل کا بیان بھی ہے۔

فرمایا ”بیشک اللہ سنتا ہے جو تم بات کرتے ہو۔ وہ لوگ جو غصے میں اپنی بیویوں کو اپنی ماں کہہ بیٹھتے ہیں تو وہ ماں نہیں ہو جاتیں۔ مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے ہیں۔ البتہ ایسا کہنا بہت بری بات ہے۔ اگر کوئی ایسا کہہ بیٹھتا ہے (جسے ظہار کہتے ہیں) اور اس کہنے کو واپس کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ایک غلام آزاد کرے اور اگر اس کے پاس غلام نہ ہو تو وہ لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے اور اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تم ایمان رکھو۔ وہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے لئے مشورے کرتے ہیں اور ان کے سامنے السام علیک (یعنی تم پر موت ہو) کے الفاظ کہتے ہیں، تو ایسے لوگوں کا بہت ہی برا انجام ہو گا۔ اے ایمان والو، جب تم آپس میں مشورہ کرو تو اس طرح نہ کرو جس طرح یہودی اور منافقین کرتے ہیں، بلکہ نیکی اور پرہیز گاری کا مشورہ کرو۔

سورة الحشر:59 ویں سورت

یہ مدنی سورت ہے، 24 آیات اور 3 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے 101 ویں ہے۔ اٹھائیسویں پارہ کے چوتھے رکوع سے چھٹے تک ہے۔ اس کا نام دوسری آیت سے لیا گیا ہے۔ (مراد یہ ہے کہ وہ سورت جس میں ”الحشر“ لفظ آیا ہے) بخاری و مسلم کے مطابق سورہ حشر غزوہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباسؓ اس کو سورہ ”النضیر“ بھی کہتے تھے۔ غزوہ بنی نضیر ربیع الاول 4ھ اور غزوہ بئر معونہ کے بعد پیش آیا۔ سورت میں دنیا کے انجام، قانون، جنگ، جنگی مخالفوں کی زمینوں کے احکام اور منافقین کے رویہ پر بحث ہے۔ اور جو مال غنیمت اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر جنگ کے دلوایا تو وہ ان کے اختیار میں ہے جسے چاہیں وہ دیں، اسی طرح جو مال غنیمت جنگ سے حاصل ہو تو وہ بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ہے اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے بھی ہے اور جو کچھ تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔ وہ غریب ہجرت کرنے والے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے، وہ اللہ کے فضل اور رضا کے طالب ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتے ہیں۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور ہر شحص دیکھے کہ وہ کل کے لئے کیا اعمال پیش کر رہا ہے۔ اللہ کو ہر چیز کی خبر ہے۔ اور تم ان جیسے نہ بنو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ وہ خود کو بھول بیٹھے۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو وہ جھک جاتا اور پاش پاش ہو جاتا، لوگ سوچیں کہ ان پر کتنا فضل ہوا ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔   ٭

مزید : کالم


loading...