صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ اورپیپلز پارٹی کارویہ

صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ اورپیپلز پارٹی کارویہ

  



                                                                                                                        پاکستان پیپلز پارٹی نے 30جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے او ر سپریم کورٹ کی طرف سے الیکشن کی تاریخ میںتبدیلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طرف سے یہ بائیکاٹ ان کی اپوزیشن کی ابتداءہے۔ اس کے بعد وہ منتخب ہونے والے صدر کو نہیں مانیںگے اور حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ فیڈریشن کو بچانے کے لئے صوبائی اسمبلیوں کے استحقاق اور وقار کی خاطر ایسا کررہے ہیں۔ مسلم لیگ نے اداروں سے مل کر الیکشن شیڈول سبوتاژ کیا ہے۔ انتخابی عمل کے ریورس گیئر سے گاڑی دیوار یا درخت سے ٹکرا سکتی ہے۔ اس سلسلے میںاے این پی اور مسلم لیگ (ق) نے پیپلز پارٹی کاساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے صدارتی امیدوار سابق جسٹس وجیہہ الدین میرٹ پربہترین امیدوار ہیں۔ وہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ نے مسلم لیگ( ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی طرف سے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کو جمہوری روایات کے منافی قرار دیا اور کہا ہے کہ سپورٹس مین سپرٹ کا تقاضا تھا کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ نہ کرتے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صدارتی انتخاب کی خوش اسلوبی سے تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوگی، اور سیاسی جماعتوں کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے تحریک انصاف کی طرف سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے فیصلے کو سراہا۔

صدارتی انتخاب پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 6 اگست کے بجائے اب 30 جولائی کو ہوں گے۔ تاریخ میں تبدیلی الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینٹر راجہ ظفرالحق کی طرف سے یہ درخواست دی گئی تھی کہ بہت سے اراکین اعتکاف یا عمرہ کی وجہ سے چھ اگست کو انتخاب میں اپنے ووٹ کا حق استعمالنہیں کرسکیں گے، جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ بدلنے کا حکم دیا۔ تحریک انصاف کے امیدار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ تاریخ بدلنے کا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ درست اور آئینی ہے، کیونکہ آئینی طور پر یہ تاریخ 7 اگست2013ء یا اس سے آگے نہیں بڑھائی جاسکتی تھی۔

صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی کامیابی پارٹی کی عددی اکثریت کی بناءپر یقینی ہے ، ایم کیو ایم کی حمایت کے دو ٹوک اعلان کے بعد تو اس کامیابی میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے اس الیکشن کے سلسلے میں ایک معمولی بات کی آڑ لے کر ایک دم غصے اور شدید رد عمل کے آخری کنارے پر پہنچ جانا کسی بھی طرح منطقی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ جس انتخاب میں پی پی پی کے امیدوار کی ناکامی پہلے ہی سب پر واضح تھی ،اس سے فرار کا کوئی بہانہ تلاش کرنے میں اسے دقت پیش نہیں آئی۔ تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار جناب وجیہہ الدین کا یہ کہنا درست ہے کہ انتخابی شیڈول طے کرنے میں الیکشن کمیشن سے کوتاہی ہوئی اور اس کی طرف سے ارکان کے اعتکاف بیٹھنے اور عمرے پر جانے کے معاملات کونظرانداز کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے او ر رمضان المبارک میں یہ عبادات مسلمانوں کے معمولات میں شامل ہیں۔کچھ لوگ بھلے ان کی اہمیت نہ سمجھےں ،لیکن عوام کی بھاری اکثریت کے نزدیک ان کی بہت اہمیت اور احترام ہے۔اعتکاف بیٹھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کم بھی ہو ، پھر بھی ان کے اعتکاف میںبیٹھنے کے دوران اتنے اہم انتخاب کا ہونا اسی طرح ہے جس طرح نمازکے پابند لوگوں کے لئے کسی کام کا کرنا جماعت کھڑی ہونے کے وقت ہی پر لازمی قرار دے دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار جناب رضا ربانی پریس کانفرنس میں نہایت غم و غصے کی حالت میں کہہ رہے تھے کہ وہ دو دن کے دوران اسلام آباد، لاہور، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ کس طرح جاسکتے ہیں ۔ رابطوں کے بغیر انہیں کوئی ووٹ کس طرح دے گا؟ یہ کہتے ہوئے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے تھے کہ ان کی جماعت یا ان کے کچھ اتحادیوں کے پاس ووٹ ہی کم ہیں۔ وہ ان ووٹوں سے زیادہ لے بھی نہیں سکتے تھے اور پھر اگر ان کے پاس رابطوں کے لئے زیادہ وقت نہیںتھا توا ن کے ساتھ دوسرے صدارتی امیداوروں کے پاس بھی تو یہی وقت ہے۔پھر صدارتی امیدوارحضرات کے لئے فرداً فرداً اراکین سے رابطوں کا کام ہر جگہ موجود ان کی پارٹی کی قیادت اور دوسرے لوگ کرسکتے ہیں۔ جناب رضا ربانی ،جناب ممنون حسین اور جناب وجیہہ الدین کی شخصیتیں اور ان کا کام اور کردار قومی سیاسی حلقوں میں جانا پہچانا ہے۔ ان کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب حضرات ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے اچھے صدارتی امیدوار سامنے لانے کی عمومی طور پر عوامی اورسیاسی حلقوں میں تحسین کی گئی ہے، تاہم امیدواروں کے ووٹ حاصل کرنے کا انحصار ان کی جماعتوں اور سیاسی اتحادیوں کی عددی طاقت ہی پر ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے سپریم کورٹ پرالزام تراشی اور فیڈریشن کے لئے خطرے کا الارم اوراس بائیکاٹ کو کھیل کا آغازقرار دینا اور حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی ”دھمکی “دینا صورتحال کی سنگینی اور ان کی طرف سے سخت گیر رویہ اختیار کرنے کی غمازی کرتا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کے لیڈر جب بھی سپریم کورٹ گئے، انہیں فوری طور پر ریلیف ملا۔ اب بلی تھیلے سے باہر نکل آئی ہے، وغیرہ ۔یہ باتیں اس جماعت کی قیادت کی طرف سے کہی گئی ہیں جس نے اپنے سابقہ پانچ سالہ دور اقتدار میں سپریم کورٹ کے کسی ایک فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا ، اس کے تمام احکامات کے سلسلے میں تاویل و تاخیر کی تمام حدیں پھلانگ دیں۔ کوئٹہ ، اور کراچی بدامنی کیسوں کے علاوہ میگا کرپشن کے تمام کیسوں میں مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں پروٹیکشن دی گئی۔ خود حکمران اور پارٹی کے بڑے عہدیدار اربوں کے مالی سیکنڈلز میں ملوث پائے گئے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اب بھی سپریم کورٹ کی طرف سے ان تمام کیسوں کے سلسلے میں کسی نرمی کے آثار نظر نہیں آرہے۔ بائیکاٹ کے پس پردہ محرکات یہی دکھائی دیتے ہیں۔

گذشتہ دو ر میں مسلم لیگ (ن) پر یہی الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ اس نے پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے میگا کرپشن کے کیسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔حکومت کے خلاف وہ کچھ نہیں کیا جو کرنے کاحق تھا۔ عام لوگ یہ بھی سوچتے رہے کہ نواز شریف اس لئے بھرپور اپوزیشن نہیں کررہے تاکہ آئندہ ان کی حکومت سے بھی پیپلز پارٹی بھی تعاون کرے۔ اس طرح کی افہام و تفہیم پر پختہ یقین رکھنے والوں میں عوام کے وہ طبقات شامل تھے جنکی طرف سے ملکی سیاست اور نظام میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں لانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

اب اگر پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن سے ماضی کی کسی ایسی ممکنہ افہام و تفہیم کو پس پشت ڈال کرسچ مچ کی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا تہیہ کرلیتی ہے، تو بسم اللہ ! عوام اس کا خیر مقدم کریں گے،کیونکہ انہیں یہ امید بندھ جائے گی کہ اب عدالت اور نئی حکومت لٹیروں سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی،اور اس کے رد عمل کے طور پر پیپلز پارٹی بھی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کو لوٹ مار کرنے کا کوئی موقع نہیں دے گی۔اگر ایسا ہوجائے تواس ملک کے بے بس اور کچلے ہوئے عوام کو اور کیا چاہیے،لیکن ہر کسی کے علم میں ہے کہ حقیقی اپوزیشن کرنے کے بلند بانگ دعوے کرنے والوں کے پیش نظر اس وقت اپنی میگا کرپشن میں پھنسے ہوﺅں کو بچانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ بظاہر یہی دکھائی دے رہا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں کے حوالے سے جیسے جیسے پیش رفت ہو رہی ہے، اپوزیشن کے احتجاج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

 اگر موجودہ حکومت سابق حکمرانوں کی طرف سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس نکلوانے کے معاملات سے آنکھیں بند کرلے ، تو پھر ان کی طرف سے بھی اچھی جمہوریت اور اچھی اپوزیشن کی مثال پیش کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی تمام کوتاہیوں سے نظر یں بند رکھی جائیں گی۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے روز اول سے آج تک قومی سلامتی اور یک جہتی کو اپنے جماعتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے سے کبھی گریز نہیں کیا ، بلکہ محب وطن طاقتوں کو ہمیشہ دھمکی ہی یہ دی کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا، ان کو اقتدار میں حصہ نہ ملا تو وہ قومی سا لمیت کے خلاف اپنے پتے کھیلنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس وقت اپنی میگا کرپشن کی بناءپر سپریم کورٹ کے شکنجے میں آئے ہوئے پیپلز پارٹی والوں کو اپنی کشتی ڈوبتی ہوئی محسو س ہو رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر اسی وقت اپنے تمام پتے کھیلنے اور ہر طرح کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔ ان کی طرف سے (سندھ میں اپنی حکومت کے حوالے سے) فیڈریشن کو درپیش خطرات کی بات ایک بار پھر سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش ہے۔ سپریم کورٹ پر بے جاتنقید اور توہین عدالت کے پہلوﺅں کو نظر انداز کرکے ایک درست اور آئینی فیصلے پر سیخ پا ہونے کے پیچھے بھی جو کچھ ہے اس سے قوم واقف ہے۔ صرف لوٹ کر لمبے مال ہضم کرنے کی کوشش میں سرگرداں لوگوں ہی کو پیپلز پارٹی کی قیادت کی یہ بودی منطق اور دھمکیاں خوش نما معلوم دے سکتی ہیں ۔محب وطن اور حساس پاکستانیوں میں کرپٹ ترین سابق حکمرانوں اور ان کی جماعت کے ملکی سلامتی کے خلاف باتوں کو برداشت کرنے کا مزید صبر اور حوصلہ نہیں۔ انہیں سیاست کا حق ہے، ملکی سلامتی سے کھیلنے اور سپریم کورٹ کا تمسخر اڑانے کا نہیں۔یہ درست ہے کہ انبار در انبار لوٹی ہوئی دولت بہت رنگ دکھاتی ہے اور اس کے بل بوتے پر اپوزیشن والے اپنی طاقت کامظاہرہ ہر وقت کرسکتے ہیں،لیکن انہیں کسی بھی مرحلہ پر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کے لٹے اور اجڑے ہوئے عوام میں سابقہ حکمرانوں کے خلاف اچھا خاصا غیظ و غضب موجود ہے ،جس کو دور کرنا اب اتنا آسان نہ ہوگا۔   ٭

مزید : اداریہ


loading...