مجید نظامی کی رحلت

مجید نظامی کی رحلت
مجید نظامی کی رحلت
کیپشن: pic

  

ڈاکٹر مجید نظامی کی27رمضان المبارک یوم پاکستان پر رحلت سے پورے پاکستان سمیت اسلامی دنیا کی فضا سوگوار ہے۔ اہل ِ پاکستان ان کے خاندان بالخصوص ان کی صاحبزادی رمیزہ نظامی صاحبہ سے دِلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ مجید نظامی مرحوم نے جو پاکستان میں نظریاتی صحافت اور اعلی اوصاف کی ترویج کی اشاعت کی بنیاد رکھی تھی، ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

یہ دنیا عارضی ٹھکانہ اور دار فانی ہے یہاں سے ہر ایک نے کوچ کرجانا ہے ۔ مجید نظامی صاحب کی وفات کے بعد اب رمیزہ نظامی کے کندھوں پر سارا بوجھ آن پڑا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہ حق میں استقامت عطافرمائے۔ مجید نظامی صاحب کی وفات پر جہاں پاکستانی سوگ میں ہیں، وہاں ہمارے دشمن بھارت کی سرکار اور ہندو بنئے سُکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ اب اکھنڈ بھارت اور کشمیر پر پاکستانی حکمرانوں سے بھی بڑھ کر کشمیر کی آزادی کے لئے قومی موقف اختیار کرنے والی آواز خاموش ہو گئی ہے، لیکن بھارت جان لے کہ مجید نظامی کا ادارہ نوائے وقت، ان کے ساتھی کارکن اور پاکستان کے عوام ان کے نصب العین ، مشن کو اسی آب وتاب سے جاری رکھیں گے اور بھارت کو ہر پاکستانی کی شکل میں چلتا ، پھرتا بولتا مجید نظامی نظر آئے گا۔ پاکستان میں فوجی حکومتیں ہوں یا سول حکومتیں ان حکومتوں اور حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے اور ان کے غیرآئینی ، غیر قانونی ، غیر اسلامی اور آئین پاکستان، نظریہ پاکستان سے ماورا اقدامات کے سامنے سینہ سپر ہوکر کلمہ جہاد بلند کرنا مجید نظامی کا طرہ امتیاز رہاہے۔

پاکستان میں ناقص حکمرانی، عوام کے حقوق کی پاسداری ، کسانوں ، مزدوروں ، محنت کشوں،طلبا، سرکاری ملازمین سمیت ہر طبقہ فکر کے حق میں لکھنا اور اقتدار کے ایوانوں تک ان کے مسائل کو پہنچانا اورحل کروانا اسی طرح بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو بلند کرنے اورعالمی استعماری قوتوں کے ایجنٹوں کی پاکستان اسلام مخالف سرگرمیوں سے قوم کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھنے میں انہوں نے کلیدی کردارادا کیا۔ کشمیر پر مسلمہ موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہنا۔ بھارت سے تجارت کی ہر سطح پر مخالفت، بھارت کو تجارت کے پسندیدہ ملک قراردینے ،بھارت کی پاکستانی دریاﺅں پر آبی جارحیت اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر انتہا پسند ہندوﺅں اور بھارتی حکومت کے مظالم کی تصویر کشی اور حقیقت کو آشکار کرنا مجید نظامی جیسے دلیر شخص کی ہی مرہون منت تھا۔ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی مدد کے لئے نوائے وقت ریلیف فنڈ کا مستقل اجرا کرکے محصورین تک امداد پہنچانے کا قومی فریضہ انجام دینا ان کی خدمت خلق کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔اس کے علاوہ دی ٹرسٹ سکول میں غریبوں کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا حصول اور اس کے علاوہ ہزاروں خاندانوں کی ماہانہ کفالت مجید نظامی صاحب کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مجید نظامی صاحب کے درجات بلند کرے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔آمین

مزید :

کالم -