”سچ کیا ہے“

”سچ کیا ہے“
”سچ کیا ہے“
کیپشن: pic

  

ارض ِ پاکستان کس طرح معرض وجود میں آئی۔ کس نے ایک آزاد ریاست کے وجود کا خواب دیکھا اور کس نے اس خواب کو شرمندہ¿ تعبیر کیا۔ قائداعظم ؒ کی بے مثل قیادت نے جمہوری جدوجہد کے ذریعے ”پاکستان“ کے خواب کو سچ ثابت کر کے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، لیکن ہم نے اس دھرتی کو ایک اسلامی، فلاحی ریاست بنانے میں جو کردار ادا کیا وہ 18کروڑ سے تجاوز کرنے والی قوم کے سامنے ہے۔ کیا ہم نے وہ سب کچھ کیا جو ہمیں کر دکھانا چاہئے تھا۔ یہ وہ سادہ، لیکن بہت بڑا سوال ہے جو شہریوں کے لبوں پر ہے اور گلی محلوں میں اس کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ کہاں کہاں ہمارے قدم لڑکھڑائے، کہاں کہاں ناقابل تلافی لغزشیں ہوئیں، کہاں کہاں قومی مفاد کو پس پردہ اور ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا گیا؟.... سوالات کی تفصیل طویل ہے اور جوابات زمینی حقائق ہیں۔ ہم نے ہمیشہ حقائق سے آنکھیں چرانا سیکھا، آنکھیں چراتے چراتے ہم نے آنکھیں ہی بند کرنا شروع کر دیں، کیونکہ حقائق کو دیکھنا، پرکھنا اور تسلیم کرنا ہماری سرشت میں نہیں رہا۔ حقائق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری تن دہی اور دیانت داری سے مسائل کا حل تلاش کرنا، کامیاب حکمرانوں کا شیوہ رہا ہے اور ایسی مثالوں کی تاریخ گواہ ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا:”جس دن ہم حقیقت کو دیکھ کر بولتے نہیں، اس دن سے ہم مرنے کا آغاز کرتے ہیں“۔ ہم نے ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا، جو کچھ کیا اس پر کسی قسم کی ندامت دامن گیر ہوئی؟ ہم نے لوٹ کھوٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش جاری رکھی۔2014ءمیں جو عالم ہے، وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ غضب خدا کا14اگست1947ءکو ہمیں عظیم قائد کی قیادت میں وسائل سے مالا مال اور آزاد ریاست نصیب ہوئی۔ کتنا عرصہ گزر گیا، لیکن اس آزادی کے ثمرات عام آدمی کی جھولی میں نہیں ڈالے گئے۔ عقل سلیم انگشت بدنداں ہے کہ 14اگست قومی، ریاستی آزادی کا دن ہے، لیکن طبل بج چکا ہے کہ اِسی روز ”سونامی مارچ“ ہو گا اور ہر حال میں ہو گا۔

احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن ہر حق کی کوئی حد ضرور ہوتی ہے۔ پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ پاکستان کی دشمن قوتیں، غیر ملکی میڈیا، بھانت بھانت کی بولیاں بولیں گے....لیکن ہمیں عالمی برادری سے کیا لینا، ہم نے جو کچھ بھی ہو، جیسے ہو ”وزیراعظم“ ضرور بننا ہے۔گزشتہ چند سال سے ہم اپنا یوم آزادی اس روایتی جوش و خروش سے نہیں منا سکے، جس طرح منایا کرتے تھے۔ وجوہات واضح ہیں۔ ایک عرصے کے بعد ہم14اگست اس دن کی مناسبت سے شان و شوکت کے ساتھ منانے چلے، تو اعلان ہوا کہ اِسی دن ”سونامی مارچ“ ہو گا اور اسلام آباد میں ہو گا۔ بے شمار مسائل تلے مشکل سے سانس لیتی ہوئی قوم سولی پر لٹک کر دائیں بائیں دیکھتی ہے۔ کچھ سجھائی نہیںدیتا۔ بے صبری کا یہ عالم ہے کہ کائنات کے خالق اور مالک کا یہ فرمان تک بھول گئے ہیں کہ ”اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“.... جو کچھ نظر آ رہا ہے، تمام ”توپوں“ کا رخ نواز ، شہباز حکومت کی طرف ہے۔

لال حویلی کے ”جگت باز“ سیاست دان کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں، بند ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ حکومت کو گھر ”ارسال“ کرنے کی کوششوں میں دن رات ایک کر رکھا ہے۔ ان کی ”آنیاں جانیاں“ دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔ ریاست کو کمزور کرنے والے یہ لکھ لیں کہ ایک کمزور سیاست میں مضبوط معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم نے سندھ کا دورہ کیا۔ آصف علی زرداری سے بھی ملاقات ہوئی، جس روز میاں محمد نواز شریف نے ”حاتمیت“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی اور سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے خطیر رقوم کا اعلان کیا، یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس کا ردعمل ضرور ہو گا۔ اس ”سخاوت“ کو سندھ کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا نام دیا گیا۔

مرکزی حکومت کی یہ فراخ دلی ہضم نہ ہوئی، لب کشائی موقع کی تلاش میں تھی، بیان داغ دیا گیا۔ آصف علی زرداری کو یقین ہو گیا کہ حکومت وقت گھمبیر مسائل سے دو چار ہے، بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے جائیں۔ سی او ڈی پر دستخط کرنے والی جماعت کے والی وارث نے طویل خاموشی کے بعد لب کشائی کی جو میڈیا میں شہ سرخیوں سے نشرو شائع ہوئی کہ ”میاں محمد نواز شریف کو عمران کا مطالبہ تسلیم کر لینا چاہئے“؟.... ”میاں صاحب، بادشاہ ہیں“.... ”بادشاہت“ بڑی ”زو معنی“ اصطلاح ہے، جس پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ آصف علی زرداری بزعم خویش یہ سمجھتے ہیں کہ تمام تر توپوں کے کھلے دہانوں کے باوجود انہوں نے کمال فراست سے پانچ سال اس ملک پر حکومت کی۔ راقم کی نظر میں یہ کامرانی نہیں اور یہ تاثر کہ حکومت وقت کی شام ہونے والی ہے۔ کتنا سچ کتنا مفروضہ ہے؟ آپ اپنی ”فتوحات‘ کو نہ دیکھیں، بلکہ چرچل کا یہ قول آپ کی نذر کرتا ہوں: ”تاریخ کسی فرد کو اس کی فتوحات یا شکست سے نہیں دیکھتی، بلکہ ”نتائج“ سے پرکھتی ہے“۔

آپ کے پانچ سالہ دورِ حکومت کے ”نتائج“ عوام بھول نہیں سکتے۔ در گاہوں، مزاروں، گدیوں کا سہارا لے کر سیاست کرنے والے بے تاب ہیں کہ جلتی پر تیل ڈالنے سے بلند ہونے والے شعلے کب فلک بوس ہوتے ہیں۔ بے شمار سیاست کاروں کی موجودہ صورت حال کو ابتر کرنے کے لئے دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ قوم پریشان، فوج دہشت گردی کی جنگ میں ایک بار پھر بہار وطن کو اپنے لہو سے سینچنے میں دن رات مصروف، لیکن ہم عدم استحکام کی ”شب دیگ“ پکانے میں مصروف اور ابن الوقت ”سیاسیے“ اپنے اپنے حصے کا ”گرم مصالحہ“ ڈالنے کے لئے قطار اندر قطار یکجا ہو رہے ہیں، کئی گنگو تیلی ”راجا بھوج“ بننے کے خواب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

”ارض پاک تیرا اللہ حامی و ناصر ہو“۔

مزید :

کالم -