حکومت کو گرانے کی سازش

حکومت کو گرانے کی سازش
حکومت کو گرانے کی سازش

  

ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ 14اگست کو یوم آزادی مسلح افواج سے اظہار یکجہتی اور دہشت گردی کے خاتمے میں مسلح افواج کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے دن کی حیثیت سے منایا جائے گا۔یہ فیصلہ وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔دونوں قیادتوں کی جانب سے بار بار ملاقاتوں اور اظہار یکجہتی کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت اور فوج میں اختلافات پائے جاتے ہیں جو حلقے ایک مدت سے یہ تاثر پھیلا رہے تھے۔انہوں نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ 14اگست کو عمران خان کے سونامی مارچ ،جس کا نام مولانا طارق جمیل کے مشورے پر اب آزادی مارچ کر دیا گیا ہے،ملک میں انقلاب آ جائے گا اور نواز حکومت ختم ہو جائے گی۔ادھر انقلاب کے ایک اور داعی کینیڈا سے آنے والے خود ساختہ ”شیخ الاسلام“ نے اپنا انقلابی مارچ اگست کے تیسرے ہفتے تک موخر کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ مارچ لاہور سے اسلام آباد تک ہوگا اور اس کے شرکاءاپنے مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت کے لئے پارلیمینٹ ہاﺅس کے باہر دھرنا دے سکتے ہیں۔

اس مارچ اور دھرنے کا فیصلہ بقول شیخل پچاس جماعتوں نے ایک کانفرنس میں متفقہ طورپر کیا تھا۔ان پچاس جماعتوں میں ملک کی کوئی بھی بڑی یاقابل ذکر پارٹی شریک نہیں تھی۔صرف مسلم لیگ(ق) کے چودھری برادران پیش پیش تھے، جنہیں نوازشریف سے ان کا جذبہ انتقام کشاں کشاں لئے پھرتا ہے اور کچھ عجب نہیں کہ شیطان بھی دعوت دے تو وہ اس کی قیادت میں بھی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں شامل ہو سکتے ہیں۔ایک شیخ رشید تھے، جو اپنی پارٹی کے واحد قائد کی طرح شاید واحد رکن بھی ہیں۔تحریک انصاف نے شیخل کی حمایت سے صاف انکار کر دیا کہ اس کے رہنما عمران خان کو خود یہ زعم ہے کہ وہ عالمی سطح و شہرت کے واحد لیڈر ہیں اور اندرونی و بیرونی قوتوں کی تائید و حمایت سے موجود حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔انہیں پہلے چار حلقوں میں بوگس ووٹنگ اور اعداد و شمار میں ہیرپھیر کی شکایت تھی، اب انہوں نے چار حلقوں کی دوبارہ گنتی سے دستبردار ہوکر پورے الیکشن کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ کردیا ہے، جس کی خاطر وہ 14اگست کو اسلام آباد تک آزادی مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔

اُدھر امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم امریکہ کے خیال میں یہ مارچ پر تشدد نہیں ہونا چاہیے اور اس کا مقصد یہ بھی نہ ہو کہ کسی نہ کسی طرح حکومت کو گرا دیاجائے۔پاکستان کے اقتدار پرست اور طالع آزما سیاست دانوں نے پہلے نظریہ پاکستان کو اختلاف کا موضوع بنایا اور اب یوم آزادی کو یوم انتشار کے طور پر منانے کی کوشش کررہے ہیں، حالانکہ دنیا کے نقشے پر 14اگست 1947ءکو یہ نیا وطن اس نظریئے کی بنیاد پروجود میں آیا تھا جو ہر لحاظ سے نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا مکمل منصوبہ ہے....سیاسی و فوجی قیادت کا اس سال یوم آزادی کو افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے طو رپر منانا اس لحاظ سے قابل فہم ہے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔افواج پاکستان ہی شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے بے آسرا سات آٹھ لاکھ افرادکی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور ان کی بحالی کے کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔

گزشتہ سال کے جس انتخاب کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یکسر غلط قرار دے رہے ہیں۔ان کی دو عملی کا یہ عالم ہے کہ اسی انتخابی نظام کے تحت کامیاب ہونے والی نمائندوں پرمشتمل انہوں نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنا رکھی ہے۔ اسی صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 14اگست کو حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔اس سے تین روز قبل شیخل فرما چکے تھے کہ جمہوریت کو ڈی ریل ہو جانا ،یعنی پٹڑی سے اتر جانا چاہیے....بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پس پردہ ایک ہی ہاتھ ہے جو دونوں کٹھ پتلیوں کی ڈور ہلا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وطن عزیز میں حکومتوں کی تبدیلی میں یا تو امریکی ہاتھ کا ذکر کیا جاتا ہے یا پھر فوجی آمریت پر نظریں لگائی جاتی ہیں۔امریکہ پہلے ہی تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے بارے میں کہہ چکا ہے کہ اس سے پاکستان میں عدم استحکام کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔امریکہ نے جہاں حکومت کو خوفزدہ نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے، وہیں عمران خان کو بھی متنبہکر دیا ہے کہ ان کے مارچ کا مقصد حکومت کو گرانا نہیں ہونا چاہیے۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اس وقت پاکستان میں کسی تبدیلی کا خواہاں نہیں ہے۔

میاں محمد نوازشریف کی جانب سے آپریشن ضرب عضب شروع کرنے پر امریکہ پوری طرح مطمئن ہے۔ وہ اسی سال اپنی اور اتحادی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کر چکا ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کے دور میں شائد اسے اپنے انخلاءمیں سہولتیں حاصل ہوجائیں۔عمران خان جیسے متلون مزاج لوگوں سے کوئی ٹھوس امید وابستہ نہیں کی جا سکتی۔جہاں تک طاہر القادری جیسے شیخی باز اور بڑبولے ”روحانی پیشوا“ کا معاملہ ہے تو امریکہ کو ان کے کردار اور عوام میں اثر و رسوخ کی اصلیت اور اہمیت کا اندازہ ہے،لہٰذا وہ ایسے شخص کو پرکاہ کے برابر بھی حیثیت دینے کو تیار نہیں۔بعض مبصرین مذکورہ بالا دونوں شخصیات کے پیچھے فوج کا ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔چھ سال سے میاں محمد نوازشریف کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ان کو بڑا بھائی کہنے والے آصف علی زرداری نے عمران خان کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو قوم نے وزیراعظم بنایا تھا، لیکن وہ خود کو بادشاہ سمجھنے لگے ہیں۔

آصف علی زرداری کے اس بیان سے بھی بعض لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ موجودہ حکومت گئی اور انقلاب آ گیا،حالانکہ فوج از خود سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے اپنے عزم اور آئین کی پاسداری پر قائم ہے، اسی لئے موجودہ فوجی سربراہ ، وزیراعظم نوازشریف سے اکثر ملتے رہتے ہیں، تاکہ قوم کو یہ معلوم ہو سکے کہ اہم فوجی معاملات پر سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور یہ بھی کہ فوج سیاسی حکومت کے تابع رہ کر ہی اپنے فرائض انجام دینا چاہتی ہے، اس میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ملا کر کچھ حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ فوج اپنے سابق چیف کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر خوش نہیں ہے اور اگر موجودہ حکومت نے پرویز مشرف کی جان بخشی کا کوئی راستہ نہ نکالا تو فوج اس کا تختہ الٹ دے گی۔ایسی قیاس آرائیاں اور خوش گمانیاں پیپلزپارٹی کے سابق دور میں بھی ہر ہفتے سامنے آتی تھیں، لیکن وہ اپنے پانچ سال پورے کر گئی۔اقتدار پر قبضے کے معاملے میں جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک فوجی سربراہوں کے سابقہ کردار کے تناظر میں اب شاید ہی کوئی بدنامی کا خطرہ مول لے سکے اور یہ کہ موجودہ حکومت عوامی حمایت سے بالکل محروم ہو جائے۔

مزید :

کالم -