میرا کاں چٹا!

میرا کاں چٹا!
میرا کاں چٹا!

  

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد گمان تھا کہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی سیاسی نادانیوں اور غلطیوں پر تھوڑے بہت پشیمان ضرور ہوں گے اور آئندہ محتاط ہو کر بیک فٹ پر کھیلیں گے ۔2013 کے جنرل الیکشن میں تحریکِ انصاف کی طرف سے عائد کردہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کے بعد بھی کپتان کا لب و لہجہ اور موقف تبدیل نہیں ہوا۔ گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرتے ہیں اور چیف جسٹس صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے بیک فٹ پر جانے کی بجائے جوڈیشل کمیشن کے باؤنسر کو فرنٹ فٹ پر پُل کرنے کی کوشش کی۔ وہی بے تکی منطق اور وہی گھسِے پٹے الزامات پھر دہرا دیے۔ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب نے تحقیقات ادھوری چھوڑ دیں۔ مسلم لیگ (ن) نے آر۔ اوز۔ اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر دھاندلی کی تھی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو ایک دفعہ پھر آڑے ہاتھوں لیا اور دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ میڈیا کی طرف سے معافی کے مطالبہ پر عمران خان نے کہا کہ معافی انہیں نہیں بلکہ نواز شریف کو مانگنی چاہیے۔ خان صاحب کی سیاست پرافسوس ہوتا ہے۔ تحریکِ انصاف دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ خود کرتی رہی اور کہتی رہی کہ اسے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ من و عن تسلیم ہوگا۔ خان صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں فرمایا تھا کہ انہیں چیف جسٹس ناصرالملک پر بھرپور اعتماد ہے اور اگر وہ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے تحقیقات کریں تو وہ انکا فیصلہ تسلیم کریں گے۔ خان صاحب اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتے،اب وہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر تنقید کر رہے ہیں جس کے سربراہ چیف جسٹس ناصرالملک تھے۔

اگست میں جب ناصرالملک صاحب چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہوں گے، اسکے بعد وہ بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی طرح الزامات کی زد میں آ جائیں گے۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے تحت اگر کمیشن کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوجاتا کہ حکمران جماعت نے 2013ء کے جنرل الیکشن میں منظم دھاندلی کروائی ہے تو حکومت کو مستعفی ہونا پڑتا لیکن اگر الزامات ثابت نہ ہو سکے تو تحریکِ انصاف کو اپنے الزامات واپس لینے ہوں گے۔ اب رپورٹ سامنے آنے پر تحریکِ انصاف اپنی اس کمٹمنٹ سے مکرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ساکھ بچانے کے لئے الزامات کا دفاع کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ وہی الزامات پھر دہرانا اور یہ کہنا کہ نہیں جی میرا کاں تو چٹا ہی ہے یہ سمجھ سے بالا تر ہے اور تحریکِ انصاف کی منفی اور پراپیگنڈہ سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ عمران خان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیئرمین صاحب تحریکِ انصاف کی شرمندگی اور پسپائی کا باعث بننے والوں کا احتساب کرتے لیکن آج بھی وہ اپنی سوچ پر قائم ہیں ۔ ان کے نزدیک وہی سچ ہے جو جہانگیر ترین فرماتے ہیں۔ ان کو صرف وہی الیکشن قبول ہو گا جو انہیں وزیرِ اعظم بنا دے، اس کے علاوہ تمام الیکشن جعلی اور بوگس ہیں۔ لاکھوں دستاویزات اور ٹرکوں کے حساب سے ثبوت رکھنے کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنا کوئی الزام بھی ثابت نہیں کر سکی۔ دھرنوں کے دوران اور آج تک 35 پنکچرز کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور اب فرما رہے ہیں کہ وہ ایک سیاسی بیان تھا!۔ خان صاحب کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے دھرنوں سے قبل اور دھرنوں کے دوران عوام سے کچھ وعدے کیے تھے ان میں پہلے نمبر پر آپ نے کہا تھا کہ آپ قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ اب آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ نے اپنی دھرنوں کی سیاست چمکانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کے لئے جھوٹ بولا تھا۔ آپ نے کس کس کی پگڑی نہیں اچھالی؟ آپ نے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری پر الزامات لگائے اب آپ ان الزامات سے بھی مکر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ وہ ایک سنی سنائی بات تھی۔ آپ نے سنی سنائی باتوں پر ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور ملک میں افراتفری اور معیشت کو کھربوں روپے نقصان کا باعث بنے۔قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ ہزاروں نوجوان بچے بچیاں آپ کے دھوکے میں آکر اپنا روزگار اور گھربار چھوڑ کر 126 دن تک آپ کے جھوٹ سنتے رہے اور آپ ان کے جذبات سے کھیلتے رہے۔ اسی طرح آپ نے سنی سنائی باتوں پر آر۔ اوز۔، سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ، جنگ اور جیو گروپ کو بدنام کیا اور انکے خلاف بھی جوڈیشل کمیشن میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ گزشتہ دو سال سے خان صاحب جس طرح سنی سنائی باتوں پر سیاست کرتے رہے ہیں ان سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ خان صاحب کانوں کے بہت کچے ہیں۔ دھرنوں کے دوران جب اکثر صحافی اور تجزیہ نگار حضرات کہہ رہے تھے کہ خان صاحب سنی سنائی باتوں پر کہرام مچا رہے ہیں تب خان صاحب انہیں لفافہ صحافی کا خطاب دے رہے تھے اور آج یہ بات تسلیم کر رہے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد کیا صحافی آپ کو لفافہ سیاست دان کہہ سکتے ہیں؟ ابھی میں تحریکِ انصاف کے رہنما حامدخان کی گفتگو سن رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم جوڈیشل کمیشن میں اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ الزامات جھوٹے تھے۔ حضور! سچ جھوٹ کا سرٹیفکیٹ کیا صرف جہانگیر ترین اور عمران خان صاحب ہی دیتے ہیں؟ دوسرے الفاظ میں آپ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ عدالتیں سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لئے ہی ہوتی ہیں اور ہر وہ الزام جس کا ثبوت نہ ہو جھوٹ ہی کہلاتا ہے۔ لہٰذا کمیشن کی تحقیقات سے آپ جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔

میں حیران ہوں کہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد چند نام نہاد اینکر صحافی جو بلند بانگ دعوے کر رہے تھے وہ کہاں چھپے بیٹھے ہیں؟ ایک صحافی نے تو انتہا ہی کر دی تھی۔ اپنے مشہور ٹی وی پروگرام پر جھوٹی خبر چلائی تھی کہ پولیس اور مظاہرین کے تصادم سے 17 لوگ مارے گئے ہیں۔ اسی روز یہ خبر چلائی تھی کہ آئندہ روز قومی اسمبلی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو فارغ کرنے کے لئے سمری پیش کی جائیگی۔ ان سب لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے قوم کو گمراہ کیا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا یہ مطالبہ کہ جن لوگوں نے یہ سازش تیار کی تھی انکی تحقیقات ہونی چاہیے بالکل درست ہے۔

خان صاحب نے اپنے سیاسی کارکنوں اور ووٹرز کی انتہائی غلط تربیت کی ہے۔ تحریکِ انصاف کے کارکنان اور خان صاحب سے محبت کرنے والے نوجوان مرنے مارنے کے لئے تیار ہیں۔ جیالے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کر رہے اور انہوں نے ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی کھڑا کر دیا ہے۔ ہر وہ بندہ جو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر مطمئن ہے اسے گالیوں سے نوازا جا رہا ہے اور پٹواری کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے مہم چلائی جا رہی ہے اور ججز کے لئے انتہائی گندی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کو ایان علی کیس سے ملایا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو بھی تحریکِ انصاف کی طرف سے یہ باور کروا دیاگیا ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے۔ قومی ادارے اور میڈیا جھوٹ بولتا ہے۔ خان صاحب کو چاہیے کہ اپنے کارکنان اور جیالوں کو اب یہ بات سمجھائیں کہ قومی ادارے معتبر ہیں۔ حقیقت میں ملک کے اندر کسی سیاسی جماعت یا فرد کی حکمرانی نہیں بلکہ قومی اداروں کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے قومی اداروں کی عزت نہیں کرتیں وہاں مصر اور یمن جیسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواب جتھوں کے انقلاب سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام سے شرمندہ تعبیر ہو گا۔ دھرنوں کے بعدسیاسی استحکام آنے سے ملک ایک دفعہ پھر ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ قومی ادارے اور معیشیت مضبوط ہو رہی ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ ہم نے دہشت گردوں کو شکست دے دی ہے اور پاکستان کا امن و سکون لوٹ رہا ہے۔لوڈشیڈنگ اور مہنگائی میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوچکا ہے اور پاکستان کے اندر وسیع بیرونی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ملک کے اندر ترقی اور خوشحالی کا نیا باب ثابت ہو گئی۔ یہ سب سیاسی استحکام کا ثمر ہے۔ موجودہ حکومت کی دوسالہ کارکردگی گزشتہ دو حکومتوں کی مجموعی دس سالہ کارکردگی سے بہتر ہے اور حکومت کو اس کا کریڈٹ نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ تحریکِ انصاف اور عمران خان صاحب کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ محض سنی سنائی باتوں پر انہوں نے قوم کا کتنا نقصان کیا۔ انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ تعمیری سیاست کی طرف راغب ہونا چاہیے۔ اگر وہ ان لوگوں کا احتساب نہیں کریں گے جو انکی شرمندگی کا باعث بنے تو آئندہ بھی انہیں شرمندگی کے سِوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

مزید :

کالم -