پہاڑی پر جلتا ہوا دیا: لارنس کالج مری میں کتاب میلہ

پہاڑی پر جلتا ہوا دیا: لارنس کالج مری میں کتاب میلہ
پہاڑی پر جلتا ہوا دیا: لارنس کالج مری میں کتاب میلہ

  

سر سبز و شاداب درختوں کے جھرمٹ میں بنے مرکزی ہال کے اندر اہل کتاب کی محفل جاری تھی، یہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی ہورہی تھی، مہمان کتابوں کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ سٹیج پر بیٹھے احباب بھی کئی کتب تصنیف کر چکے تھے، حاضرین میں بھی بہت سے ایسے تھے، جو صاحب کتاب تھے، بھری محفل میں بیٹھا میں سوچنے لگا کہ آج کتاب اور درخت کا رشتہ واقعی گہرا دکھائی دے رہاہے ۔دانالوگ کہتے ہیں کہ انسان کو درخت لگانا اور کتاب لکھنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، یہ دونوں انسانوں کو راحت اور راہنمائی دیتے ہیں،دونوں انسان دوست ہیں اور رہبر ورہنما بھی۔ انسان جب تپتی دھوپ میں گرم لو سے جھلستا ہے تو درخت کی ٹھنڈی چھاؤں اسے سکون دیتی ہے اور جب معاشرے کی کجروریوں سے بیزار انسان سکون کا متلاشی ہوتا ہے تو کتاب اسے دوستی کے دامن میں چھپالیتی ہے۔ لارنس کالج مری کے سرسبز وشاداب درختوں کے سائے میں کتابوں کی باتوں نے میری اس سوچ کو تابندہ کر دیا تھا کہ کتاب اور درخت دونوں انسان دوست ہیں اور درختوں کے درمیان کتابوں کی باتوں نے یہاں ایک عجب سماں باندھ دیا تھا جو دونوں کی دوستی کا مظہر ہے۔ لارنس کالج گھوڑا گلی میں سجے تین روزہ خوبصورت کتاب میلے کا یہ دوسرا روز تھا اور یہاں پر کتب کی رونمائی اور مشاعرے کا بھی اہتمام تھا۔ ہمیں اس شاندار تعلیمی تقریب کی دعوت نیشنل بک فاؤنڈیشن کے روح رواں محترم ارشد صاحب کی طرف سے ملی تھی۔ ارشد صاحب بڑے متحرک اور جری انسان ہیں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی جناب ڈاکٹر انعام الحق کی ٹیم کے سرگرم ترین رکن ہیں، جن کو کوئٹہ یا چترال کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بھی کتب میلے کا ٹاسک دیا جائے تو یہ ایک ہفتے میں وہاں بھی میلے کا سماں باندھ دیتے ہیں۔جولائی میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی نے ہمیں مری کی طرف رخت سفر باندھے پراکسایا اور ہم اڑتے ہوئے مری جا پہنچے۔مری کے حسن بلاخیز سے ہماری آنکھیں پہلے بھی کئی بار چار ہو چکی ہیں، مگر ملکہ کوہسار کے دامن میں واقع لارنس کالج کی زیارت آج پہلی بار ہو رہی تھی۔ہفتے کی صبح سویرے ہم ٹیکسی لئے کالج کے گیٹ پر تھے۔ تعارفی مکالمہ جات کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی تو بل کھاتی سڑک پر اترتی گاڑی نے ہمیں اس ماحول کی سحر انگیزی کااحساس دلایا جو یہاں کی فضاؤں میں رچا بسا ہے۔ ترتیب سے جڑا ہرپھول اور سیلقے سے آتی خوشبوئے گل تک یہاں کی تربیت کا اثر چھوڑ رہی تھی۔ سلیقہ شعار عملہ، تہذیب یافتہ طالب علم اور معماران قوم، محترم اساتذہ کرام، کردار میں سب ہی لاجواب تھے۔

مشہور ہے کہ زبان سے نکلی بات کم اور کردار کی بات زیادہ اثر چھوڑتی ہے، شاید اسی لئے میں بہت جلد سب ہی کی محبت گا گروید ہو گیا تھا۔ خدمت کے جذبے سے سرشار حیدر زمان عباسی تین روزہ کتاب میلے کے کوارڈینٹر تھے۔ وہ کتاب میلے کے انتظامات ، مہمانوں کی رہائش، ان کے کھانوں کابندوبست ، تقریب رونمائی کا انصرام، شعراء کی محفل کی دیکھ بھال، وہ پل بھر بھی کہیں چین سے بیٹھے نظر نہ آئے۔حید رزمان عباسی لارنس کالج میں شعبہ اردو کے ہیڈ ہیں اور جن سے ملتے ہی محبت ہو جائے، ایسے انسان۔ شفقت سے بھرپور لہجہ لئے اطمینانیت کی طبیعت والے چیف لائبریرین جناب نوید صاحب اپنے سچے اور شفیق لہجے میں لاہور اور راولپنڈی سے آئے بک سٹال والوں کا دل لبھاتے رہے ۔کالج کے اساتذہ سب ہی نفاست اور ثقاہت میں بلاشبہ کالج کے نمائندے و سفیر نظر آئے۔ طلبہ میں اخلاقیات کی رو بتائی تھی کہ کالج میں تعلیم و تربیت کا میعار اپنی بلندیوں کو چھورہا ہے؂ان سب کے کمانڈر کالج کے پرنسپل برگیڈیئرریٹائرڈمحترم مجاہد عالم صاحب کی شخصیت تو سب سے جدا اور الگ نظر آئی۔ ہزاروں آنکھوں میں سمائے اس عظیم آدمی کی تعریف ہر زبان پر تھی۔

میں نے محفل مشاعرہ میں مجاہد عالم صاحب کوبہت قریب سے دیکھا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر انعام الحق نے محفل مشاعرہ کی ابتداء میں جو کلمات کہے، ان میں بہت سے جملے مجاہد عالم کی علم دوستی ظاہر کر رہے تھے، تین روز کا یہ خوبصورت کتاب میلہ کبھی بھی اس خوشگوار ماحول میں منعقد نہ ہوتا اگر صرف ایک شخص مجاہد عالم نہ ہوتا اور جب مشاعرے کے اختتام پر خود مجاہد عالم صاحب نے اپنے اختتامی خطبے میں بتایا کہ انہیں جب نیشنل بک فانڈیشن کے ایم ڈی جناب ڈاکٹر انعام الحق نے کتاب میلے کے لئے فون کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور ہم نے علم و روشنی کے ا س کام کے لئے سب کچھ سہنے کی یقین دہانی کروائی اور یہی نہیں، بلکہ ہمیں سب مہمانوں کی خوشی اس قدر ہے کہ اب ہمارا عزم یہ ہے کہ یہ کتاب میلہ ومحفل دوستاں ہر سال سجا کرے گی۔

مجاہد عالم صاحب کی علم دوستی کا اظہار کرتے یہ الفاظ سن کر مجھ سمیت سب حاضرین ان کے گرویدہ ہو گئے ایک مجاہدعالم ہی نہیں، یہاں ہر وہ بندہ جو استاد ہو یا طالب علم سب ہی لائق تحسین دکھائی دیتے ہیں، شاید یہ کالج کی تربیت ہے یاماحول کی سحر انگیزی کا اثر جو انسانوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے درودیوار پر بھی ااثر رکھتا ہے ۔اگر اس خوبصورت کالج کے گراونڈ میں بیٹھ کر آپ اڑتے بادلوں کا نظارہ کریں تو آپ کو یوں لگے گا، جیسے آپ جنت کے کسی گوشے میں بیٹھے ہیں، کبھی بھی یہ خیال نہیں آتا کہ یہ مری کے پہلو میں جنت نظیر ٹکڑا کسی انگریز کا انتخاب کردہ ہے۔ کہتے ہیں کہ انگریز کے دور حکومت(1860) میں اس کالج کی بنیادرکھی گئی،جس کا بنیادی مقصد 1857ء کی جنگ آزادی اور جنگوں میں مارے گئے انگریز کے بچوں کو پناہ دینا، یعنی قیام کے وقت بطور یتیم خانے کے اس کا استعمال کیا جاتا رہا۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تب شاید مقاصد اور ہوں، مگر وقت اور ارادے بدلتے رہے ہوں اور لگتا بھی یہی ہے۔ تاریخ کہتی ہے کہ کالج کے بانی پہلے پرنسپل کا نام لارنس تھا، اس لئے انہی کے نام سے کالج کا نام لارنس کالج رکھا گیا۔اس کالج کاکام صرف بچوں کو پناہ دنیا نہیں تھا، بلکہ مکمل طور پر ان کی مذہبی تعلیم وتربیت اور نشوونما کا خیال رکھنا بھی بنیادی مقاصد میں شامل تھا، اس لئے اس کے پہلے تقریباً دس پرنسپل پادری منتخب ہوتے رہے۔ کالج کے قیام کے بعد تقریباً 70 سال تک صرف انگریزی بچوں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔ 1925ء کے قریب مسلمان بچوں کو بھی داخلہ ملنا شروع ہو گیا۔ چودھری عبدالحمیدصاحب اس کالج کے پہلے مسلمان ٹیچر منتخب ہوئے تھے، اب یہاں سات سو سے زائد بچے ہیں، مسلمان بچے مسجد میں نماز پڑھتے نظر آتے ہیں۔ پانچوں وقت یہاں نماز کے لئے اذان کی آواز گونجتی ہے۔ پہلے کی بات اور ہوتی ہو گی، اب تو سب کچھ بدلا ہے۔کالج میں ایک وسیع و عریض چرچ بھی ہے، جس کا قیام کالج کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آیا تھا،آج اس چرچ کا وجود ثابت کرتا ہے کہ مذہب اسلام ہی اقلیتوں کا سب سے بڑا محافظ و ضامن ہے۔مری میں اس کالج کے قیام سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انگریز برصغیر کو سونے کی چڑیا کیوں سمجھتا تھا ۔ڈیڑھ سو سال پہلے اس کی نظر کہاں کہاں تھی، جس کو دیکھ کر وہ للچائی ہوئی نظروں سے قابض ہوا اور ہم آنکھیں ملتے رہ گئے، اب حال میں اس کالج کے پرنسپل بریگیڈیئر مجاہد عالم صاحب ہیں جو آج ہم سب کے میزبان تھے، جن کی شخصیت اور گفتگو بہت متاثر کن تھی۔

مجاہد عالم صاحب کی گفتگو سے دینی جذبہ ، حمیت و احساس چھلکتا ہوا نظر آرہا تھا۔ مجاہد عالم کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کہتا ہوں یہ کالج جس سر زمین پر ہے۔ بلاشبہ یہی لگتا ہے، جیسے یہ جنت کا ٹکڑا ہے اور اسے جنت بنا کر ہی رکھا جائے اور واقعی کالج کا ڈسپلن بتاتا ہے کہ مجاہد عالم صاحب نے اسے جنت سے کم نہیں سمجھ رکھا۔ جیسے پہلے دور میں کالج میں انگریزی مذہبی تعلیم و تربیت کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا، اب بھی پرنسپل صاحب کی محنت و دینی جذبہ قابل دید ہے کہ پریپ کے بچوں کے لئے عربی (قابل استطاعت) لازم ہے۔چھوٹا ہویا بڑا، سٹوڈنٹ سلام میں پہل کرتا ہے۔چھوٹے چھوٹے پھولوں کے چہرے مرجھائے ہوئے نہیں، بلکہ خوش نما اور لاپرواہی سے بالاتر نظر آتے ہیں۔پرنسپل صاحب نے الشیخ جہانگیر محمود صاحب کی انگریزی میں کتاب (آپ صلی اللہ لیہ وسلم بحیثیت معلم) ٹیچروں کے لئے لازمی قرار دی ہوئی ہے، تاکہ بچے کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کی جائے۔

بلاشبہ لارنس کالج کی کامیابیوں کا سہرا پرنسپل مجاہد عالم کے سر ہے جوعمر کے آخر حصے میں بھی جوانوں سے بڑھ کر علم کی خدمت کر رہے ہیں۔ تین روزہ کتاب میلہ اورلارنس کالج کا سجا ہر گوشہ اس کی گواہی دے رہا تھا۔ کتاب میلے کے مہمان خصوصی نگران وزیر اطلاعات و نشریات ظفر علی شاہ اور سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات جناب عامر حسن صاحب نے بھی کتاب میلے کا وزٹ کیاتو انہوں نے بھی کتاب کے فروغ میں اپنی خدمات پیش کرنے پر مجاہد عالم اور ڈاکٹر انعام الحق کو داد دی۔ داد تو اصل میں محفل مشاعرہ میں سبھی شعراء کو دل کھول کر ملی۔ اس کتاب میلے کا ایک کامیاب پروگرام محفل مشاعرہ بھی تھا، جو لارنس کالج کے طلباء مدتوں یاد رکھیں گے۔جیسے ہمیں یہ ہمارا سفرہمیشہ یاد رہے گا۔

مزید : رائے /کالم