انتخابات ہوگئے، امن و سکون بحال کیا جائے

انتخابات ہوگئے، امن و سکون بحال کیا جائے
انتخابات ہوگئے، امن و سکون بحال کیا جائے

  

عام انتخابات کے انعقاد سے ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نئے نمائندے سامنے آگئے ہیں، گزشتہ چند ماہ کی انتخابی مہم کے دوران امیدواروں اور کارکنوں کی شب و روز کی مسلسل کارکردگی سے اُن کو جس جسمانی اور ذہنی محنت و مشقت کا سامنا کرنا پڑا، اب تو اس سے نجات ملی گئی ہے۔ نو منتخب نمائندے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کے حلقوں کے ووٹرز کی اکثریت نے ان کی قیادت اور صلاحیت پر اعتماد کرکے آئندہ عرصہ پانچ سال کے لئے اُن کو متعلقہ سیاسی ذمہ داریاں ادا کرنے کا اعزاز سونپا ہے۔ اب یہ بحث طویل کرنے کی ضرورت نہیں کہ شکست سے دو چار ہونے والے امیدواروں کی اکثریت کو کسی سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ سازی کے تحت ناکامی کا ہدف بنایا گیا ہے۔ اگر بعض امیدوار حضرات اور خواتین محض قلیل تعداد میں سے ہی کامیاب ہونے سے رہ گئے ہیں، تو وہ سوچ سمجھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا اب وہ کسی جلد کامیاب ہونے والی حکمت عملی سے مطلوبہ کامیابی کے نتائج حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر ایسا ممکن نہیں لگتا تو پھر آئندہ بے مقصد اور سالہاسال کی مقدمہ بازی سے گریز کرنا ہی بہتر راستہ ہے، اسے اختیار کرنے پر توجہ دے لی جائے۔کیونکہ مقدمہ بازی میں اُلجھ کر اپنا قیمتی وقت لگانا اور مالی اخراجات خرچ کرنا ہرگز کوئی دانشمندی کا اندازِ کار نہیں۔ نیز ایسی قانونی محاذ آرائی سے باہمی تلخ اور کشیدگی کے حالات بھی تو فریقن کے درمیان کئی ماہ یا سالوں تک جاری رہنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ پھر کہیں جاکر متعلقہ عدالتوں کے فیصلوں کے احکامات صادر ہونے کی اطلاعات سننے میں آتی ہیں جو کسی فریق کے حق میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک تازہ مقدمے کے فیصلے کا اعلان متعلقہ عدالت کے جج صاحب نے رات 11بجے 21 جولائی 2018ء کو سنایا، جس میں راولپنڈی میں حلقہ این اے 60کے امیدوار حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ دیگر سات ملزمان کو بری کردیا گیا۔

اس معاملہ میں جج صاحب نے اس روز دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے فیصلہ محفوظ کرکے سنانے کا اعلان کیا، جو بالآخر نصف شب کے قریب سنایا گیا۔ اس طرح ملزمان کو سخت پریشانی اور اذیت کے عذاب سے دوچار کیا گیا۔اتنی تاخیر ہو جانے سے اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر بعض لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں، جو ناجائز اور غیرمتعلقہ بھی معلوم نہیں ہوتے۔ حنیف عباسی تو اس فیصلے کی رو سے 25جولائی 2018ء کے قومی اسمبلی کے امیدوار کی حیثیت سے نااہل ہوگئے ہیں، حالانکہ ملزمان نے اس فیصلے کو انتخابات مذکور کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا متعلقہ مجاز عدالت سے بھی کی تھی، لیکن اس کو تسلیم نہ کیا گیا اوربالآخر جج صاحب موصوف نے اپنا فیصلہ اسی شب گیارہ بجے کے قریب سنانے کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے خلاف واقعاتی اور قانونی اختلافات اور دلائل تو ہائی کورٹ میں ہی پیش کئے جاسکتے ہیں، لیکن انتخابات کے انعقاد میں وقت کم ہونے کی بنا پر غالب امکان یہی لگتا تھا کہ حنیف عباسی انتخابی مقابلہ بازی کی اہلیت کے حصول سے محروم رہ جائیں گے۔بہر حال فاضل عدالت اگر کسی امیدوار کو اپنی عوامی مقبولیت کے امتحان سے گزرنے کا موقع فراہم کرنا چاہے تو ایسا کرنے میں کوئی خاص رکاوٹ بھی حائل نہیں ہوتی، بلکہ جمہوری اقدار او اصولوں کے بہتر فروغ اور تسلسل کا تقاضا یہ ہے کہ عدالتی منصب کے ذریعے عام لوگوں کو حتمی المقدور قانونی اجازت اور سہولت فراہم کرنے کا استعمال فراخ دلی سے کیا جائے، تاکہ عوامی نمائندگی کے اہم مقصد کے حصول کی خاصر مقابلہ کا موقع دینے کے لئے کسی مثبت صفات اور اوصاف کے حامل امیدوار کو انتخابی میدان سے محروم نہ کیا جائے۔

یہ عدالتی فیصلہ چونکہ عام انتخابات سے محض تین روز قبل صادر کیا گیا ہے اور اس میں راولپنڈی میں حلقہ این اے 60 میں مخالف بڑے امیدوار شیخ رشید احمد تھے، بعد میں یہ انتخاب ملتوی ہوگیا۔ نیز ہر انتخابی نشست پرامیدوار حضرات اور خواتین نے بھی مجموعی طور پر اس سے کہیں زیادہ بھاری مالی رقوم خرچ کی ہیں، اگر متعلقہ قوانین و ضوابط اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق پر صحیح طور پر عمل نہ کیا جائے تو بعض خامیوں اور کوتاہیوں کی بنا پر قانون شکنی کے عادی افراد چور دروازے تلاش کرکے اپنے مذموم عزائم اور ناجائز اہداف کو حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں، جبکہ وہ متعلقہ حقائق اور واقعات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

مزید : رائے /کالم