عام انتخابات! کیا ہوا، اور کیا متوقع ہے!

عام انتخابات! کیا ہوا، اور کیا متوقع ہے!
عام انتخابات! کیا ہوا، اور کیا متوقع ہے!

  

اگرچہ تاحال بھی پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے سرکاری نتائج کے مطابق اعلان یا نوٹیفکیشن سامنے نہیںآیا، تاہم صورتِ حال اس حد تک واضح ہوچکی کہ وفاق میں تحریک انصاف کو اتنی نشستیں مل گئی ہیں کہ وہ جی ڈی اے، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی اور بعض آزاد اراکین سے مل کر حکومت بنائے گی، اور اسی بنیاد پر چیئرمین تحریک انصاف نے متوقع وزیراعظم کی حیثیت سے قوم سے خطاب بھی کر لیا اور اب تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے مشاورتی اجلاس بھی جاری ہیں، متوقع وزرا کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کپتان نے جو خطاب کیا وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں سیاسی اور جلسے، جلوسوں والے سے مختلف اور حکومتی سربراہ کا لہجہ لئے ہوئے تھا، اس میں مستقبل کے لئے بنیادی نکات کا ذکر ہے، صرف ایک بات ذرا ہٹ کر ہے کہ جاری پالیسی کے برخلاف وہ چاہتے ہیں کہ افغان پاک سرحد کھلی رہے اس پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہی کوئی متفقہ فیصلہ کرنا ہو گا، باقی نکات کے حوالے سے ان کی تعریف بھی ہو رہی ہے اور ان انتخابی نتائج کو حصہ لینے والی ملکی جماعتوں میں ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،ایم کیو ایم(پاکستان) اور مسلم لیگ(ن) کو سخت شکایات ہیں اور ان کی طرف سے انتخابی نتائج کو مسترد کیا گیا ہے،مسلم لیگ(ن) نے تو باقاعدہ مشاورت کے بعد تحفظات اور اعتراض کے باوجود حزبِ اختلاف میں بیٹھنے اور اپنے موقف کے اظہار کو جاری رکھنے کا اعلان کر دیا، تاہم مولانا فضل الرحمن نے 1977ء جیسی تحریک چلانے کی دھمکی دے دی اور ایم کیو ایم (پاکستان) بھی باقاعدہ مظاہروں کا اعلان کر چکی، تاہم پیپلزپارٹی نے شدید تحفظات کے اظہار اور احتجاج کے باوجود پارلیمانی رویہ اپنانے ہی کا فیصلہ کیا ہے۔ آج پیپلزپارٹی کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس بھی ہو رہا ہے تو ساتھ ہی مولانا فضل الرحمن اورمسلم لیگ(ن) کی طرف سے گول میز (کل جماعتی۔اپوزیشن) کانفرنس بھی ہو رہی ہے۔ان کے فیصلوں کا بھی بہرحال انتظار ہے۔یہ بات واضح ہے کہ ابھی تک نہ تو کسی جماعت کی طرف سے (ماسوا، ایم ایم اے) کسی تحریک کا اعلان ہے اور نہ ہی ایسی کوئی کیفیت اور ضرورت ہے۔

یہ صورتِ حال تو وفاق میں ہے۔ تاہم صوبوں میں جو انتخاب عمل میں آیا، اس کے نتائج بھی توقع جیسے ہی ہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کو واضح طور پر سادہ اکثریت مل گئی،خیبرپختونخوا میں تمام تجزیوں کے برخلاف تحریک انصاف پہلے سے کہیں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہے، یہاں کوئی مسئلہ نہیں، رہ گیا بلوچستان تو نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اپنے نظریئے میں کامیاب ہے اور واحد اکثریتی پارٹی بن کر اُبھری ہے، کچھ آزاد اراکین مل جائیں گے اور حکومت بن جائے گی۔ مسئلہ پنجاب کا ہے، جہاں ابھی سے جوڑ توڑ شروع ہیں اور وفاق کی طرح یہاں بھی آزاد اراکین اہمیت اختیار کر گئے ہیں، دونوں میں سے کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی، یہاں مسلم لیگ(ن) کو برتری تو حاصل ہے،لیکن حکومت سازی کے لئے کافی نہیں، یوں زور تو لگے گا، تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) دونوں نے ہی پنجاب کے لئے بازی لگانے کا فیصلہ کیا۔مسلم لیگ(ن) کی طرف سے خود مرکزی صدر محمد شہباز شریف آزاد اراکین کو ملیں گے، تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کی ڈیوٹی لگائی ہے، جو خود وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے مگر ان کو صوبائی نشست پر کامیابی نہیں ملی بہرحال کئی اور امیدار موجود ہیں ان میں سابق قائد حزبِ اختلاف میاں محمود الرشید بھی ہیں اور عبدالعلیم خان بھی، جو صوبائی نشست جیت گئے جہاں تک مسلم لیگ(ن) کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ واضح اور سمجھ میں آتا ہے، کہ حکومت سازی کے لئے مقررہ اکثریت مل گئی تو خود سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ہی امیدوار ہوں گے کہ حمزہ شہباز شریف ایسی مشکل صورتِ حال کا تجربہ نہیں رکھتے، اِسی لئے وفاق میں قائد حزبِ اختلاف کا قرعہ خواجہ آصف کے نام نکلا ہے۔ یوں یہ معرکہ آرائی شروع ہے۔

اب ذرا بات کر لی جائے پاکستان پیپلزپارٹی کی کہ اس مرتبہ یہ جماعت سندھ میں تو حکومت بنائے گی تاہم وفاق میں معقول تعداد ہونے کے باوجود اس کا قائد حزب اختلاف نہیں ہو سکے گا، خود آصف علی زرداری اور صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں موجود ہوں گے ۔خورشید شاہ بھی منتخب ہو گئے ہیں۔یوں اب تو پارلیمانی لیڈر اور نائب کا مسئلہ ہو گا۔ دیکھتے ہیں آصف علی زرداری کیا فیصلہ کرتے ہیں، خود سربراہی کر کے پارٹی کی طرح بلاول کو ساتھ بٹھاتے ہیں یا بلاول ہی کو ذمہ داری سونپتے ہیں۔بہرحال یہ طے ہے کہ اب جوڑ توڑ بلاول نہیں زرداری کریں گے کہ بلاول کی جدوجہد کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا۔

اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے حالات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ اس پارٹی کو پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بہت نقصان ہوا، پنجاب سے متوقع امیدوار کامیاب نہیں ہوئے۔ مظفر گڑھ، رحیم یار خان اور پنڈی سے کامیابی ملی، ملتان، گجرات ،اسلام آباد اور لاہور تک فارغ ہوگئے۔ بلاول کی زبردست قسم کی انتخابی مہم کام نہیں آئی اور چودھری نثار کا کہا سچ ہوا کہ بلاول کی غیر معمولی، انتھک اور سنجیدہ انتخابی مہم کا فائدہ آئندہ ہو گا، یہ درست ہے، مگر اس کے لئے بھی شرط ہے کہ پارٹی کی قیادت اور پارٹی رہنما ماضی سے سبق سیکھیں اور مستقبل کے لئے جماعتی تنظیم پر توجہ دیں۔ نئے خون کو شامل کریں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 18سال کی عمر والے کو ووٹر بنوایا تھا تو اس کے پیچھے یہی فلسفہ تھا۔ اب بلاول نوجوان ہے اور نوجوانوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے، تاہم خود پارٹی والے کہتے ہیں کہ محترم زرداری کو اس منظر میں رہنا ہو گا، بلاول کو بھی شکایت ہے کہ ان کو پارلیمینٹ میں آنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی، جو بھی ہو اب اسے بھولیں۔ اپنی کارکردگی کا جائزجہ لیں، بہت ہی مثبت اور مضبوط حزبِ اختلاف کا کردار ادا کریں۔سندھ میں ماضی کی غلطیاں نہ صرف دہرانے کی کوشش نہ ہو، بلکہ ان کو درست کیا جائے، کرپشن سے توبہ اور اس کے خلاف صف بستہ ہوں، تبھی پھر سے وفاق کی جماعت بنے گی۔

B

مزید : رائے /کالم