ماضی میں فلمائے گئے گیت بے حدمقبول ہوئے:شاہدہ منی

ماضی میں فلمائے گئے گیت بے حدمقبول ہوئے:شاہدہ منی
ماضی میں فلمائے گئے گیت بے حدمقبول ہوئے:شاہدہ منی

  

لاہور(فلم رپورٹر) میلوڈی کوئین آف ایشاء پرائڈ آف پرفارمنس گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا ہے کہماضی میں کم وسائل کے باوجود کے باوجود بہترین فلمیں بنائی گئیں اور ان کے گیت ناقابل فراموش تھے۔ جب پاکستان میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دورتھا اورلوگوں کے پاس وسائل کم تھے تواس وقت آشاپوسلے، سورن لتا، صبیحہ خانم، سنتوش کمار، محمد علی، وحید مراد، مسرت نذیر، شمیم آرا اور زیبا نے اپنی بے مثال اداکاری سے لوگوں کوبہت محظوظ کیا جب کہ ان کے چاہنے والوں کی تعداد پاکستان میں توتھی ہی لیکن ان کی اداکاری اورمقبولیت کے چرچے پڑوسی ملک میں بھی عام تھے۔ شاہدہ منی نے کہا کہ رنگین فلموں کے ابتدائی دورمیں چاکلیٹ ہیرو وحید مراد، شاہد اورندیم نے جہاں اردوفلموں کی باگ دوڑسنبھالی وہیں پنجابی زبان میں بننے والی فلموں میں اکمل اورسلطان راہی نے اپنی اداکاری کا سکہ جمایا۔ ان کے ساتھ ایک طرف شبنم، بابرہ شریف، انجمن، نادرہ نے خوب نام بنایا وہیں ان کے رقص کے چرچے بھی عام ہوئے۔شاہدہ منی نے کہا کہ اردوفلموں میں شبنم اوربابرہ شریف کے چرچے عام ہوئے تودوسری جانب پنجابی فلموں کی دوڑ میں انجمن اورنادرہ نے سب کوپیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی فنکاروں نے جہاں اداکاری میں بے مثل کام کیا، وہیں ان پرفلمائے جانے والے گیتوں نے صدا بہارگیتوں کا مقام حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم پاکستانی فلموں کے بہترین میوزک کی بات کرتے ہیں توپھریہی وہ دورہے جس میں فلمائے گئے گیت بے حدمقبول ہوئے اورآج بھی شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا پھرفلم، ٹی وی کے پروگرام، ان گیتوں کے بنا ان کا مزہ دوبالا نہیں ہوپاتا۔ اگر اسی طرح آج کے دورمیں فنکاراپنی عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کریں تواس کا فائدہ جہاں پاکستانی فلم اورسنیما کوہونے کے ساتھ خود ان کوخود بھی ہوگا۔

جب تک ہم اسٹارنہیں بنائیں گے ، اس وقت تک فلم انڈسٹری کووہ مقام نہیں ملے گا، جوماضی میں ہوا کرتا تھا۔

مزید : کلچر