1988ء کے الیکشن کی یادیں (سیشن جج کی عدالت پر حملہ)

1988ء کے الیکشن کی یادیں (سیشن جج کی عدالت پر حملہ)

1988ء کا قومی الیکشن شب کو جب مکمل ہوا تو تمام ووٹوں کے تھیلے سیشن جج چکوال کی عدالت میں بحفاظت رکھے گئے۔ جنرل عبدالمجید ملک غالباً 10 ہزار ووٹوں کی سبقت لے کر بطور ایم این اے جیت چکے تھے۔ ابھی گنتی نہیں ہوئی تھی۔ غیر سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا تھا۔ میں سیشن کورٹ کے قریب واقع عدالت اسسٹنٹ کمشنر چکوال میں موجود تھا تو ہم پر 65 اشخاص نے ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔ میری سرکاری جیپ کو بھی اس جلوس نے آگ لگانے کی کوشش کی۔ عدالت اسسٹنٹ کمشنر پر بھی حملہ ہوا لیکن اللہ کے کرم سے میں عدالت سے باہر نکل آیااور میں نے فوراً الیکشن ڈیوٹی کے کرنل کو وائرلیس پر اطلاع کردی۔ قریباً 10 منٹ بعد فوج نے عدالت کے احاطہ کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کو زد و کوب کرنا شروع کیا۔ میں نے 65 اشخاص کے خلاف پرچہ درج کرواکے گرفتار کرادیا۔ حملہ آور مجھے جانی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کے بعد سیشن کورٹ میں رکھے تمام ووٹوں کے تھیلوں کو نذرِ آتش کرنا چاہتے تھے۔ الحمدللہ! فوج کی بروقت آمد، ایکشن اور مداخلت سے ووٹنگ بیگ محفوظ رہے۔ اگر وہ بیگ نذرِ آتش ہوجاتے تو ایم این اے چکوال کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن ہوتا۔ اس واقعہ کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حلقے کا نتیجہ روک دیا۔ جنرل عبدالمجید ملک کے مدمقابل سردار محمداشرف وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کو ملے تو وزیر اعظم اس طرح مخاطب ہوئیں:

"Sardar Sahib! D.C. Chakwal has butchered you."

’’یعنی سردار صاحب! ڈی سی چکوال نے آپ کو چھری سے ذبح کردیا ہے۔‘‘

جو کارکن سردار محمد اشرف کے ساتھ محترمہ بینظیر صاحبہ کو ملنے وزیر اعظم ہاؤس گئے تھے وہ بعد میں میرے دوست بن گئے۔ میرے اُس دوست نے کہا کہ محترمہ نے جب انگریزی میں الفاظِ بالا کہے تو محترمہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے چھری چلائی کہ اس طرح ڈی سی نے آپ کو ذبح کیا اور آپ کو شکست ہوئی۔محترمہ نے بطور سزا میری ترقی بھی روک دی اور میرا تبادلہ بطور اوایس ڈی اسلام آباد کردیا لیکن چونکہ ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب سے میری رشتہ داری تھی انہوں نے میرا تبادلہ بھی رکوادیا اور ترقی بھی کرادی۔ ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب جب جلاوطن ہوکر لندن گئے تھے تو محترمہ بینظیر بھٹو ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب کے ہمراہ اسی فلیٹ کے بالائی حصہ میں رہتی تھیں۔ ڈاکٹر ظفر نیازی جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دوست بھی تھے اور ڈینٹل سرجن بھی، لہٰذا محترمہ باپ کی طرح ڈاکٹر ظفر نیازی کا احترام کرتی تھیں اور وزیر اعظم بننے سے پہلے ڈاکٹر ظفر نیازی کی کوٹھی واقع اسلام آباد میں رہتی تھیں جو ابھی مکمل طور پر تعمیر نہیں ہوئی تھی۔ میں ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب سے ان کی رہائش گاہ پر ملا تو نیازی صاحب فرمانے لگے: ’’لیاقت نیازی! آپ کیوں پریشان ہیں؟ میری کزن وزیر نیازی صاحبہ بھی میانوالی سے آئی تھیں اور آپ کے بارے میں کہہ کر چلی گئی ہیں۔

‘‘ پھر ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب مسکرا کر کہنے لگے: ’’نیازی صاحب! کوٹھی کے باہر اینٹوں کا ڈھیر دیکھیں۔ محترمہ بینظیر صاحب جب وزیراعظم بننے سے پہلے میری کوٹھی میں رہائش پذیر تھیں تو ان کے انتظار میں صبح کے وقت ایم این اے حضرات ان اینٹوں پر بیٹھے ہوتے تھے کیونکہ میرے پاس اتنی جگہ نہیں تھی کہ میں سینکڑوں ایم این اے صاحبان کو بٹھاسکوں۔‘‘ مجھے ایک دن ڈاکٹر ظفر نیازی کا چکوال فون آیا۔ ڈاکٹر ظفر نیازی فرمانے لگے: ’’میانوالی سے بار بار وزیر نیازی صاحبہ کا مجھے فون آرہا ہے ۔ وہ بار بار کہہ رہی ہیں کہ لیاقت نیازی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس کا تبادلہ رکوائیں۔‘‘ (وزیر نیازی صاحب ڈاکٹر صاحبہ کی خالہ زاد بہن تھیں۔ ان دونوں کا بچپن ایک ہی گھر میں میانوالی میں گزرا۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب وزیر نیازی صاحبہ کا بہت احترام کرتے تھے)۔

پھر ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب فون پر مجھ سے یوں مخاطب ہوئے: ’’نواز شریف کون ہے جو آپ کو پنجاب میں روکے؟ پیپلز گورنمنٹ آپ کی گورنمنٹ ہے۔ آپ وفاقی آفیسر ہیں۔ میں نے وزیر اعلیٰ سرحد آفتاب خان شیر پاؤ سے بات کرلی ہے کہ لیاقت نیازی میرا عزیز ہے۔ وہ جو ضلع پسند کرے اسے وہاں ڈپٹی کمشنر تعینات کردیں۔ ویسے بنوں یا کوہاٹ، میانوالی کے پڑوسی اضلاع ہیں جیسے چکوال میانوالی کے پڑوس میں ہے۔ ان اضلاع میں سے ایک میں ڈی سی لگوادیتا ہوں۔‘‘ میں نے ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب سے عرض کیا کہ میری ضد ہے کہ میں ڈپٹی کمشنر چکوال ہی رہوں۔ میں آپ کے ہوتے ہوئے بطور سزا پنجاب سے باہر نہیں تعینات ہونا چاہتا۔‘‘ ڈاکٹر ظفر نیازی صاحب فرمانے لگے: ٹھیک ہے جیسے آپ کی خواہش! آپ انشاء اللہ چکوال میں ہی رہیں گے۔‘‘ چنانچہ میں چکوال میں ستمبر 1988ء سے 1991 ء تک تعینات رہا۔

مجھے اسی دوران محمد سعید مہدی صاحب، کمشنر راولپنڈی نے کمشنر ہاؤس بلایا اور کہا: ’’نیازی! میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب کا آپ کے نام یہ پیغام ہے کہ آپ پنجاب میں تعینات ہیں لہٰذا آپ پنجاب سے چارج چھوڑ کر مرکز میں نہیں جائیں گے۔‘‘ پھر کمشنر صاحب مجھے کہنے لگے: ’’نیازی لگتا ہے کہ تم وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کی وجہ سے درمیان میں معلق ہو۔ مجھے نہیں لگتا کہ وفاقی حکومت تمہیں پنجاب میں رہنے دے گی۔ ان حالات میں کیا ہوسکتا ہے۔ بس یہی کہہ سکتا ہوں: ’’لیاقت نیازی! پنجاب سے خدا حافظ۔‘‘ میں نے کمشنر کو کہا آپ میرے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔ میں اتنا مسکین، بے بس اور لاوارث آفیسر نہیں ہوں کہ مجھے وفاق میں پھینک دیا جائے۔ پھر میں نے ڈاکٹر ظفر نیازی والا سارا قصہ کمشنر کو سنایا جس سے وہ مطمئن ہوگئے۔

میں سطورِ بالا میں 1988ء کے الیکشن کی بات کر رہا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکم سے چکوال کی ایم این اے کی سیٹ کا نتیجہ روک دیا گیا۔ جیتے ہوئے جنرل عبدالمجید ملک بڑے پریشان تھے کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان دھاندلی کے الزام کی بنیاد پر چکوال کی ایم این اے کی سیٹ کا دوبارہ الیکشن بھی کرواسکتا تھا اور غالباً ایسا ہوجاتا۔ جنرل صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ کہنے لگے: سیشن جج نہیں مان رہا۔ وہ ووٹوں کی گنتی بھی نہیں کر رہا۔ آپ سیشن جج سے ذاتی طور پر ملیں او رالیکشن کا ریکارڈ کسی طریقے سے جلد اسلام آباد بھجوادیں۔ میں نے صدرِ پاکستان غلام اسحق خان سے بات کرلی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو میرے بارے میں سفارش کردی ہے۔

عام حالات میں شاید میں سید محمد رفیق شاہ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال سے یہ کام بطور ڈپٹی کمشنر نہ کرواسکتا کیونکہ عدلیہ آزاد ہے لیکن شاہ صاحب میری عزت کرتے تھے اور اکثر کہتے تھے: کئی اضلاع میں ڈپٹی کمشنر، سیشن جج اور ایس پی میں اکثر جھگڑا اور بدمزگی رہتی ہے۔ سیشن جج کہتا ہے: ضلع میں مَیں بڑا ہوں۔ ڈپٹی کمشنر کہتا ہے: میں بڑا ہوں۔ ایس پی کہتا ہے: میرے پاس پولیس کی نفری میں، میں بڑا ہوں۔ جج صاحب اکثر کہتے تھے: آپ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں لہٰذا میں آپ کا بڑا بھائی ہوں۔ وقار اسلم ملک ایس پی چکوال آپ سے عمر میں 8 سال چھوٹا ہے لہٰذا وہ آپ کا چھوٹا بھائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب آپس میں اتفاق سے رہیں۔ بڑا بھائی چھوٹے پر شفقت کرے اور چھوٹا بھائی بڑوں کا احترام کرے۔‘‘ چنانچہ اس نصیحت کے مطابق ضلع چکوال میں عدلیہ، انتظامیہ اور پولیس کا سہ طرفی تعلق 'Triangular Relationship' بہت اچھا اور عمدہ رہا۔

سیشن جج صاحب کو میں نے الیکشن ریکارڈ اسلام آباد بھجوانے کو کہا۔ انہوں نے میری التماس پر تمام ریکارڈ اسلام آباد بھیج دیا۔ علاوہ ازیں انجام کار جنرل عبدالمجید ملک بطور ایم این اے چکوال منتخب ہوگئے۔ اگر جنرل صاحب کا اپنا تعینات کردہ ڈپٹی کمشنر نہ ہوتا تو شاید انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا۔ مجھے جنرل عبدالمجید ملک نے وزیراعلیٰ پنجاب کو کہہ کر الیکشن سے قبل ڈی سی چکوال تعینات کروایا تھا۔ اگر ڈپٹی کمشنر چکوال دلیری کا مظاہرہ کرکے سیشن کورٹ چکوال میں رکھے ہوئے ووٹنگ بیگز کی حفاظت نہ کرواتا تو وہ نذرِ آتش ہوجاتے اور دوبارہ الیکشن ہوتا پھر نا جانے جنرل صاحب دوبارہ جیت سکتے یا نہ!

مزید : رائے /کالم