کپتان کی مشکل ترین اننگ کا آغاز

کپتان کی مشکل ترین اننگ کا آغاز
کپتان کی مشکل ترین اننگ کا آغاز

  

کپتان جب میڈیا کے ذریعے عوام سے خطاب کررہے تھے تو اُن کے کاندھے ذمہ داریوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے تھے، ایک متوقع وزیر اعظم کا خطاب جس طرح پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانیوں نے محبت، اُمید اور دلچسپی سے سنا، اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ واقعی عمران خان نے قوم کو اپنا گردیدہ کرلیا ہے، وہ ایک سیاسی رہنما سے بھی زیادہ عوام کی نظر میں ایک ایسا مسیحا بن گئے ہیں، جو ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال کر اوجِ ثریا تک پہنچائے گا۔ یہ بہت بڑی توقعات ہیں اور ان پر پورا اثر نادر حقیقت عمران خان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ خطاب کے دوران عمران خان میں غرور وتکبر نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ کوئی بہت زیادہ سرخوشی کا اظہار بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے برعکس لہجے میں عاجزی اور کچھ کرگزرنے کے عزم کا اظہار نمایاں تھا۔ اس خطاب کے بعد جس طرح عمران خان کے بارے میں سوشل میڈیا پر اندرون بیرون ملک پاکستانیوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ پہلی بار لگ رہا ہے کہ ہم ایک قوم بننے جارہے ہیں، وہ عمران خان کے لئے ایک بہت عظیم تحفہ ہے۔ جو عوام نے انہیں دیا ہے، جو لوگ دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں،وہ عوام کی ان اُمنگوں، ولولوں اور اُمیدوں کو کیسے جھٹلائیں گے، جو ملک کے طول و عرض میں نظر آرہی ہیں، اگر انتخابات کے نتائج عوام کی اجتماعی دانش کے خلاف آئے ہیں تو ملک میں اتنی سرخوشی اور جوش و اخروش کیوں نظر آرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے پچھلے چند برسوں سے سیاسی شعور بیدار کرنے کی جو مہم چلا رکھی تھی، اس کے نتائج 2018ء کے انتخابات میں سامنے آئے ہیں، یہ پہلے انتخابات ہیں، جن میں عوام نے مذہبی انتہا پسندوں، دین کو سیاست کے لئے استعمال کرنے والوں اور لسانی بنیادوں پر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے والوں کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کردیا ہے، مولانا فضل الرحمن، خادم حسین رضوی، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی شکست اس امر کا کھلا ثبوت ہے۔

عمران خان کا ملک کے پانچ مختلف شہروں سے منتخب ہونا، اُن کی شخصیت کے ملک گیر تشخص کو ظاہر کرتا ہے، یہ منفرد ریکارڈ بھی اُن کے حصے میں آگیا ہے، تحریک انصاف کو صحیح معنوں میں ایک وفاقی جماعت کہا جاسکتا ہے، جس نے وفاق اور تین صوبوں میں حکومت بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے، جبکہ سندھ میں وہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن گئی ہے۔ کراچی کے عوام نے بالآخر مہاجر ازم کی زنجیروں کو توڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا جوفیصلہ کیا، اُس کا ان انتخابات میں کھلا اظہار ہوا ہے، ایم کیو ایم صوبائی اسمبلی کی صرف دس نشستیں حاصل کرسکی ہے، جبکہ قومی اسمبلی میں بھی اُس کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، حیران کن امر یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کا خلا تحریک انصاف نے پر کیا ہے، پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل یا جی ڈی اے کو عوام نے اس قابل نہیں سمجھا۔

اس لحاظ سے عمران خان پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے میں بطور وزیر اعظم اپنا کردار ادا کریں، وہ کراچی کے بارے میں اپنا لائحہ عمل باغ جناح کے آخری جلسے میں دے چکے ہیں، تاہم صوبائی حکومت اور شہر کے میئر کی مکمل اعانت کے بغیر وہ اپنے ایجنڈے پر کیسے عملدرآمد کرائیں گے، یہ بہت اہم سوال ہے۔ خیر حلف اٹھانے کے بعد جب وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ جائیں گے تو ان کی حکمرانی کے جوہر کھلیں گے، فی الوقت اگر ان کے خطاب پر نظر رکھی جائے تو یہ اندازہ کرنے میں دشواری نہیں ہوتی کہ وہ اسٹیٹس کو توڑ دیں گے۔ جیسا کہ انہوں نے عوام سے کہا بھی ہے کہ انہیں گورننس میں ایک واضح تبدیلی نظر آئے گی۔ اس تقریر میں انہوں نے سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ وہ غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اوپر لانے کے لئے بھرپور توجہ دیں گے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ جب تک ملک کے کروڑوں غریب عوام خطِ غربت سے اوپر نہیں آتے اس وقت تک ملک اوپر نہیں اٹھ سکتا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں عسکری و سول حکمرانوں نے نعرہ تو ہمیشہ غریبوں کا لگایا، مگر عملاً ان کے لئے کچھ نہ کیا، بھٹو جیسا لیڈر بھی جو غریبوں، مزدوروں، کسانوں کا نام لے کر اقتدار میں آیا تھا، بہت جلد انہیں بھول گیا، روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ ٹھس ہو گیا۔بے نظیر بھٹو، نوازشریف، پرویز مشرف اور اس سے پہلے ضیاء الحق نے بھی غریبوں کی بات کی، مگر یہ صرف بات ہی تھی، عملاً ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آ سکی۔

عمران خان پہلے بھی اپنے جلسوں میں کہتے رہے ہیں کہ چین نے تیس کروڑ لوگوں کو خطِ غربت سے نکال کر اوپر اٹھایا اور آج چین ایک سپرپاور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپنا یہ خواب کیسے پورا کرتے ہیں۔ خواب کی بات آئی ہے تو عمران خان نے اپنا وہ خواب بھی بیان کیا جو انہوں نے 22سال پہلے دیکھا تھا۔ وہ مدینہ کی ریاست بنانے کا خواب تھا۔ اس کا انہوں نے اظہار بھی کیا اور اس بات پر زور دے کر کہا کہ اب انہیں خدا نے موقع دیا ہے تو اب پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان میں بہت کچھ ہے، بس صرف اسے درست طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دو تین ایسی باتیں کی ہیں کہ اگر وہ ان پر عمل کرنے اور کرانے میں کامیاب رہے تو انہیں ایک کامیاب حکمران بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پہلی بات تو انہوں نے یہ کی کہ وہ سادگی اختیار کریں گے۔ حکومتی وسائل پر شان و شوکت دکھانے کی روایت ختم کر دیں گے۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کی بجائے منسٹر کالونی میں رہنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز کو تعلیمی اداروں یا ہوٹلوں میں بدلنے کا اعلان کیا۔

وہ سیکیورٹی کے نام پر بنائی گئی ریڈ بک کا جائزہ لیں گے جو بڑے عہدے داروں کے پروٹوکول پر مشتمل ہے۔ پولیس اور انتظامیہ اس پر عمل کرتے ہوئے سڑکیں بند کرتی ہے، بیسیوں گاڑیاں قافلے میں شامل کر دیتی ہے اور عوام کے دلوں میں حکمران کے خلاف نفرت ابھارنے کا باعث بنتی ہے۔ عمران خان نے دوسری بات احتساب کے حوالے سے کی ہے اور کہا ہے کہ سب سے پہلے میں جوابدہ ہوں، اس کے بعد میری کابینہ اور پھر نیچے تمام افراد، کوئی احتساب سے ماوراء نہیں ہوگا۔ اس پر عمل ہو گیا تو اس کے اثرات تحصیل کی سطح تک جائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان شمالی کوریا کے صدر جیسا رویہ اختیار کریں، جنہوں نے کرپشن میں ملوث اپنے ایک وزیر کو کیمروں کے سامنے گڑھے میں پھینک کر سزائے موت دے دی تھی۔ تاہم ایسا ضرور کریں کہ کرپٹ افراد کو پہلے تو اپنی کابینہ میں نہ لیں اور کابینہ میں ہونے کے بعد کسی کی زبان سے کرپشن کی حمایت کے بارے میں سنیں تو اسے بخشنے کی بجائے نشانِ عبرت بناکے کابینہ سے نکال دیں۔ انہوں نے نیب کو مزید اختیارات دینے کا عندیہ بھی ظاہر کیا، جو بڑی خوش آئند بات ہے۔

جتنا نیب مضبوط اور آزاد و خود مختار ہوگا، اتنا ہی ملک سے کرپشن ختم کرنے میں مدت ملے گی، انہوں نے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کا جو اعلان کیا ہے، وہ وقت کی ضرورت ہے، ایف بی آر درحقیقت ٹیکس اکٹھا کرنے کی راہ میں خود رکاوٹ ہے۔ اربوں روپے کی ٹیکس چوری ایف بی آر کی وجہ سے ہی ہوتی ہے، اس کی ری سٹرکچرنگ اس طرح کی جائے کہ ٹیکس لینے کی بجائے ٹیکسوں سے ڈراکر لوگوں سے رقوم بٹورنے والے خودبھی قانون کی گرفت میں آجائیں، لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں، لیکن ایف بی آر کے کرپٹ افسران اور عملے کی وجہ سے وہ گھبرا جاتے ہیں کہ ایک بار ٹیکس نیٹ میں آگئے تو نجانے محکمہ اُنکے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔

سب کہہ رہے ہیں کہ نئی حکومت کو چیلنجز بہت بڑے بڑے درپیش ہیں اور ظاہر ہے ان سب چیلنجوں سے نبرد آزما ہونا عمران خان پر منحصر ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک مضبوط اعصاب رکھنے والے انسان ہیں، ان کی شخصیت میں ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے، بس انہیں چا پلوسوں، مطلب براروں، موقع پرستوں اور جی حضوریوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔عمران خان میں ایسے لوگوں کو قبول کرنے کی کمزوری نہیں اور وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی طرح آنکھیں کھول کر خود فیصلے کرنے کے عادی ہیں، تاہم پھر بھی وہ چونکہ پہلی بار وزیر اعظم کی حیثیت سے اقتدار میں آرہے ہیں، اس لئے بیربل اور ملادوپیازہ جیسے کئی کردار اُن کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں کابینہ کے پہلے اجلاس میں بھی یہ چیز واضح کردینی چاہئے کہ وہ کسی ایسے وزیر کو کابینہ میں برداشت نہیں کریں گے، جو اپنے کسی عمل سے حکومت اور تحریک انصاف کی بدنامی کا باعث بنے گا، میرا خیال ہے عوام نے ملکی تاریخ کے کسی حکمران سے اتنی امیدیں نہیں باندھیں، جتنی عمران خان سے باندھ چکے ہیں، اسی لئے عمران خان کے لئے وزارتِ عظمیٰ امتحان ہی نہیں کانٹوں کی سیج بھی ہے، دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں وہ اس امتحان سے کیسے سرخرو ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم