نیک خواہشات اور اچھے عزائم

نیک خواہشات اور اچھے عزائم

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی بڑا چیلنج اور کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہئے۔ پاکستان بھارت تعلقات اچھے ہوں گے تو خطے کی غربت ختم ہو گی، ڈائیلاگ سے مسائل حل ہونے چاہئیں۔اگر بھارت ایک قدم اٹھائے گا تو ہم دو قدم اٹھائیں گے، بلیم گیم کے لاحاصل چکر میں پڑنے کی بجائے ہمیں صاف گوئی سے اصل مسائل کو سامنے رکھنا ہوگا، اُن کا کہنا تھا احتساب کا نظام مضبوط ہو گا، جو مجھ سے شروع ہو گا ، وزیروں سے ہوتا نیچے جائے گا، کرپشن نے کینسر کی طرح ہمارے مُلک کو نقصان پہنچایا ہے ،مَیں قوم کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا،قوم کو وہ حکومت دیں گے جو مُلک میں پہلے نہیں ملی، جس مُلک میں پرائم منسٹر ہاؤس جیسا شاہانہ محل ہے مجھے شرم آئے گی کہ مَیں اس میں جا کر رہوں،مشاورت کے بعد طے کروں گا کہ پرائم منسٹر ہاؤس کا کیا استعمال کرنا ہے، انٹی کرپشن مضبوط کریں گے، کسان پر پیسہ خرچ کریں گے تاکہ وہ پیداوار بڑھائے، نتھیا گلی کی طرح گیسٹ ہاؤس میں ہوٹل بنائیں گے،مُلک میں امن کی بہت ضرورت ہے۔ سی پیک کے ذریعے مُلک میں انوسٹمنٹ لائیں گے جس طرح چین نے70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہم بھی چین کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے،چین سے تعلقات مزید بڑھائیں گے۔ چین نے کرپشن کے خلاف جو تجربات کئے ہم اُن سے سیکھیں گے، پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات قائم کریں گے،افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں بھی امن ہو گا، مَیں چاہتا ہوں افغانستان کے ساتھ یورپی یونین کی طرح بارڈر کھلا رہے، افغانستان میں امریکہ ہے ہم اس سے بھی بات کریں گے،امریکہ سے متوازن تعلقات قائم کریں گے، انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ مثبت ہیں اب دیکھنا ہو گا کہ وہ اپنے ان خیالات کی روشنی میں اپنی حکومت کی جو پالیسیاں بناتے ہیں اُن کی نوعیت کیا ہوتی ہے اور ان پر عملدرآمد کیسے ممکن ہوتا ہے، عام طور پر ہر آنے والا حکمران شروع شروع میں ایسے ہی مثبت خیالات کا اظہار کرتا ہے، انہوں نے بھارت کے بارے میں جو یہ کہا کہ وہ اگر ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قوم بڑھائیں گے، یہ تو الفاظ بھی وہی ہیں جو ہمارے بہت سے حکمران اور فوج کے سربراہ وقتاً فوقتاً دہراتے بھی رہتے ہیں، لیکن بد نصیبی تو یہی ہے کہ پہلا قدم ہی نہیں اُٹھتا اور اگر اُٹھتا ہے تو آگے نہیں بڑھ پاتا، اگر آپ قدم بڑھاتے ہیں تو دوسری جانب سے جنبشیں نہیں ہوتی، بلکہ وہاں زمیں جُنبد نہ جنبد گل محمد والی بات ہوتی ہے۔

، بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ امن و آشتی کی بات کرنے والے ہی گردن زدنی ٹھہر جاتے ہیں، حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے دو سابق انٹیلی جنس چیفس کے خیالات پر مبنی جو کتاب منظر عام پر آئی ہے اس میں بات تو امن کی کی گئی ہے، لیکن اس پر بھی ناک منہ چڑھانے والے کم نہیں تھے، بھارت میں تو نہ جانے کچھ ہوا یا نہیں ہمارے ہاں تو لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو جی ایچ کیو میں بلا کر وضاحتیں طلب کی گئیں، یہ پتہ نہیں چل سکا کہ ان سے کیا وضاحتیں مانگی گئیں اور انہوں نے کیا جوابات دیئے، کیونکہ اس کے بعد اس معاملے پر خاموشی چھائی رہی، یہ درست ہے کہ اس کتاب میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ان میں بعض کے ساتھ ہر کوئی اتفاق نہیں کرسکتا، لیکن دنیا میں کون سا ایسا خیال ہے جس پر ہر کوئی سو فیصد اتفاق کرتا ہو؟ ہمارے ہاں بہت سے لوگ خواہ مخواہ جنرل درانی کے خلاف لٹھ لے کر میدان میں آگئے، حالانکہ اگر انہوں نے یہ بات کی ہے کہ دونوں ممالک کو امن کے ساتھ رہنا چاہئے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ ہمارے ہاں بہت سے سابق جرنیل یہ بات کرتے ہیں بھارت میں بھی یہ رائے موجود ہے، بلکہ جس زمانے میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی چل رہی تھی کئی سابق فوجی اس کا حصہ تھے، لیکن جب ’’پہلے قدم‘‘ کو ہی شکوک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تو اگلا قدم کیسے اُٹھے گا، ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے جس رہنما نے ماضی میں کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا، ان کا تجربہ کیسا رہا؟ کیونکہ بھارت نے ایک قدم بڑھایا تھا، جس کے جواب میں اگلا قدم اٹھتا ہوا ہم نے نہیں دیکھا،بلکہ ایسا ہوا کہ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ کیا اس سلسلے میں مزید کوئی نیا قدم اٹھانے سے پہلے سابق اٹھےّ ہوئے قدموں کا کوئی حساب کتاب کیا جائے گا یا پھر یہ بات ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جائے گی۔

عمران خان احتساب پر بہت زور دیتے ہیں مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ جب وہ حکومت سنبھالیں گے تو احتساب کا آغاز کہاں سے کریں گے، پاناما لیکس میں جو سینکڑوں نام تھے کیا ان کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ ہوگی یا اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا، ایک تجربہ ان کی جماعت کی حکومت میں خیبرپختونخوا میں بھی کیا گیا تھا، لیکن احتساب تو خیر کیا ہوتا احتساب کمیشن کے چیئرمین کو ہی بوریا بستر لپیٹنا پڑا، امید ہے ایسا تجربہ یہاں نہیں ہوگا اور احتساب بلا امتیاز ہو گا اور ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔

پرائم منسٹر ہاؤس اور گورنر ہاؤسوں کے بارے میں ماضی کے بہت سے حکمران بڑے دعوے کرتے رہے ہیں، لیکن جب وہ حکمران بنتے ہیں تو ان کے خیالات میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے، شہباز شریف نے جی او آر ون میں بننے والے سی ایم سیکرٹریٹ کو آئی ٹی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرسکے، یہ تو وہی بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں نہ ہوا، لیکن بظاہر نظر آتا ہے کہ اگر اس عمارت کو یونیورسٹی بنایا جاتا تو پورا جی او آر پارکنگ لاٹ میں تبدیل ہوجاتا، لوگ کاروں پر آتے یا موٹر سائیکلوں پر انہیں کہیں نہ کہیں کھڑا کرکے ہی یونیورسٹی کے اندر جانا تھا،جس کی کوئی گنجائش پورے جی او آر میں نہیں تھی، غالباً اسی وجہ سے اس نیک ارادے کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔

عمران خان اگر وزیراعظم ہاؤس کی بجائے اپنے گھر میں رہنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ بے شک رہیں، لیکن از راہ کرم اپنے گھر کو پرائم منسٹر ہاؤس ڈکلیئر نہ کروائیں، ایسی صورت میں اس پر کروڑوں روپے تو تزئین و آرائش پر ہی اُٹھ جائیں گے، اور سرکاری پرائم منسٹر ہاؤس بے مصرف پڑا رہے گا، ماضی میں بہت سے حکمران ایسا کرتے رہے کہ انہوں نے اپنے عہد میں اپنے ذاتی گھروں کو ایوانِ صدر یا وزیراعظم ہاؤس ڈکلیئر کروایا اور ان پر کروڑوں روپے خرچ کر ڈالے اور سیکیورٹی کے نام پر ان کے ارد گرد بم پروف دیواریں کھڑی کر ڈالیں جو آج بھی موجود ہیں، اور گھر ان کے ذاتی مصرف میں ہیں جبکہ ان پر اخراجات سرکاری خزانے سے ہوئے امید ہے عمران خان اپنے اسلام آباد یا لاہور کے گھر پر سرکاری خزانے سے اخراجات نہیں کریں گے، کیونکہ انہوں نے خود سادگی سے رہنے کا دعویٰ کیا ہے کسی نے انہیں اس پر مجبور نہیں کیا، امید ہے وہ جلد ہی اپنے خیالات میں تبدیلی نہیں کریں گے، لیکن عین ممکن ہے ان کا سادگی کا تصور بھی ہما شما سے مختلف ہو، وہ ابھی حال ہی میں عمرہ کرنے گئے تھے تو چارٹر جہاز لے گئے تھے، جس پر ایک اطلاع کے مطابق دو کروڑ خرچ ہوگئے، وہ وزیراعظم نہیں تھے تو اتنا خرچ کر دیا ایسا نہ ہو کہ وزیراعظم بن کر وہ عمرہ کرنے جائیں تو سادگی کی اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دیں، اللہ تعالیٰ انہیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، جس کا وہ اعلان کرتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ