الیکٹ ایبل بھی ہار گئے!

الیکٹ ایبل بھی ہار گئے!

انتخابی نتائج پر بات ہو رہی اور ہوتی رہے گی،تاہم نتائج سے بعض اہم انکشافات بھی ہوئے اِن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے دہندگان نے ایسے حضرات کو بھی پسند نہیں کیا،جنہوں نے نہ صرف جماعتی وفاداریاں بدلیں، بلکہ اپنی آبائی جماعتوں کو ہرانے کی بھی کوشش کی، عوام کے مطابق بڑی مثال سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی ہے، جو قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے ایک حلقہ سے ہار گئے،بمشکل اپنے لئے ایک صوبائی نشست بچا سکے۔ ان کے علاوہ گوجرانوالہ سے مسلم لیگ(ن) کے جو چار رہنما میاں طارق محمود، رانا نذیر، رانا عمر نذیر اور رضا حیات ہراج جماعت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اس کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا وہ مسلم لیگ(ن) ہی سے ہار گئے،اِسی طرح پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی، ان کے والد پرویز گورچانی اور یوسف دریشک اور ان کے دوسرے ساتھی بھی ہار گئے،اِن حضرات نے آخری وقت میں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ واپس کر کے جیپ کے نشان پر انتخاب لڑا تھا۔مسلم لیگ(ن) کے بعض دوسرے حضرات کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔یہی حال فردوس عاشق اعوان، غضنفر گل،صمصام بخاری،مرتضیٰ ستی، چودھری غلام عباس، شوکت بسرا، میاں منظور احمد وٹو، ندیم افضل چن اور نذر محمد گوندل جیسے حضرات کا ہوا ان سب نے پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف کا سہارا لیا تھا، شکست کھانے والے بھی (الیکٹ ایبل) جیتنے والے کہلاتے تھے۔ان نتائج سے کم از کم یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رائے دہندگان ایسے حضرات کو پسند نہیں کرتے اور جہاں بھی یہ شعور بیدار تھا،وہاں سونامی کی کوئی لہر بھی نہیں چلی۔ان نتائج سے ایک یہ پہلو اور سبق بھی ملتا ہے کہ جمہوریت اور یہ نظام عمل سے بہتر ہوتا ہے، اگر اسے درست انداز میں چلنے دیا جائے اور مداخلت سے گریز ہو تو عوام باشعور ہیں وہ اِس سے بھی بہتر نتائج دے سکتے ہیں،اِسی لئے شاید یہ بات بھی درست ہے کہ کمزور جمہوریت بھی بہتر ہوتی ہے، اِس لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں نہ صرف جمہوری نظام کو چلنے دیں اور اس کی روح کے مطابق عمل کریں،بلکہ ایسے حضرات کی حوصلہ افزائی نہ کریں،جو وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں،اِس سے جمہوری کلچر بہتر اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی اور نظام کو فائدہ پہنچے گا۔

مزید : رائے /اداریہ