پُرامن الیکشن اور نیا پاکستان؟

پُرامن الیکشن اور نیا پاکستان؟
پُرامن الیکشن اور نیا پاکستان؟

  

25جولائی کو قومی انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے، پوری قوم نے سُکھ کا سانس لیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ سے جاری افواہیں دم توڑ گئیں ،الیکشن کے پُرامن انعقاد کے بعد خدشات کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ 26جولائی تک آنے والے نتائج کی روشنی میں تحریک انصاف پہلے،مسلم لیگ(ن) دوسرے اور پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی، پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات مقروض قوم کو22ارب میں پڑے ہیں اُس قوم کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہے، جس قوم کا بچہ بچہ ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ روپے کا مقروض ہو،اس کے باوجود جمہوریت کے حصول کے لئے 22ارب روپے کچھ بھی نہیں، پُرامن انتخابات کا بھی ایک ریکارڈ بنا ہے، صرف بلوچستان میں الیکشن کے دن ایک بڑا واقعہ دہشت گردی کے حوالے سے پیش آیا اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ ، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار، چیف الیکشن کمشنر مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے گزشتہ تین ماہ میں بنائی جانے والی کہانیاں مثلاً الیکشن ہوں گے، الیکشن نہیں ہوں گے، الیکشن نہیں سلیکشن ہو گی ایسے ہی بے جا قسم کے خدشات کو پروان چڑھایا جا رہا تھا، سوشل میڈیا نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ،پاک فوج اور اس کے اداروں کے خلاف مہم جوئی میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی، الیکشن ڈے کے حوالے سے بھی پائے جانے والے خدشات کو کامیاب الیکشن کے انعقاد نے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

25 جولائی کے الیکشن میں عمران خان کی پرواز بڑی منفرد انداز میں ہوئی ہے،بائیس سال تک مسلسل جدوجہد کرنے والے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے درمیان بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی۔ایک طرف تحریک انصاف کامیابی پر جشن مناتی نظر آئی ہے تو دوسری طرف بڑے بڑے برج اُلٹ گئے ہیں۔ ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان،محمود اچکزئی، امیر مقام، خواجہ آصف، آفتاب خان شیر پاؤ، غلام بلور،خوجہ سعد رفیق سمیت درجنوں امیدوار جو یقینی فتح کے لئے پُرامید تھے، شکست کھا گئے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں شہباز شریف لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی میں کامیاب ٹھہرے ہیں،باقی تینوں حلقوں سے ہار گئے۔ 25جولائی کے کامیاب الیکشن کے انعقاد کے بعد 2013ء والی تاریخ دوہرائی جا رہی ہے،2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد تحریک انصاف نے جن خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا انہی تحفظات اور خدشات کا اظہار مسلم لیگ(ن) اور ایم ایم اے نے بھی کیا ہے، ایم کیو ایم،پاک سرزمین پارٹی بھی فارم45نہ ملنے پر نالاں ہیں۔ 25جولائی2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی پر سوالات اٹھانے والوں کے ذہن میں رہنا چاہئے کہ2013ء اور 2018ء کے درمیان سوا دو کروڑ نئے رجسٹرڈ ہونے والے نوجوان ووٹرز کا فرق ہے۔سروے کروا لیں سوا دو کروڑ ووٹرز کے فیصلہ کن کردار نے ہی فیصلہ دیا ہے اس میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ پاک فوج کے خلاف جاری بھارتی مہم کا توڑ بھی نئی نوجوان نسل نے ہی کیا ہے، مخالفت برائے مخالفت کی بجائے قومی اداروں کے خلاف جاری مہم کا انتہائی خوبصورتی سے جواب دیا ہے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر سازشیوں کی سازش کو اُنہی پر پلٹ دیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 25جولائی کو تصادم نہیں ہوا اور نہ ہی ناخوشگوار واقعات کی شکایات بھی درج ہوئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہیں ہارنے والوں نے ہمیشہ دھاندلی کا الزام لگایا ہے، سالہا سال سے موجود روایات 25 جولائی کے بعد بھی دہرائی جانے کا امکان ہے۔ 25جولائی کے الیکشن کا وقت ختم ہونے کے بعد سامنے آنے والی شکایات میں زیادہ دم خم نظر نہیں آ رہا،اس کی وجہ یہ ہے صبح8بجے سے شام6بجے تک کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی، پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کا جواب بڑا وزنی ہے، جہاں ایک پارٹی کے دو پولنگ ایجنٹ تھے ایک کو باہر نکالنا ضروری تھا، فارم45 ہر پولنگ اسٹیشن میں موجود تھے،اب ہارنے والوں نے جب ہار دیکھی تو45فارم وصول نہیں کیا۔

مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس اور میاں شہباز شریف کی احتجاج کی کال کچھ کرتی نظر نہیں آتی۔ 25جولائی کے الیکشن میں سب سے بڑا دھچکا جماعت اسلامی کو لگاہے جو چار سال سے ’’اپنا نشان اپنا منشور‘‘ لے کر میدان میں آئی تھی اور کہا تھا ہم اتحادی سیاست کو خیر آباد کہتے ہیں آئندہ ہم اپنے نشان پر الیکشن لڑیں گے۔25جولائی کے الیکشن میں خیبرپختونخوا میں کلین سویپ کی امید لے کر میدان میں آنے والی جماعت اسلامی کی سیاسی بصیرت اور مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ سید منور حسن کے بعد ارکان نے جو امیدیں سراج الحق سے وابستہ کی تھیں، چار سال بعد پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔25جولائی کے الیکشن کے بعد جماعت اسلامی کو دیگر حلقوں سمیت اپنے کارکنان کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،24 جولائی کو الیکشن کے انعقاد سے ایک دن پہلے مَیں نے رائے پیش کی تھی کہ 25 جولائی کو قوم کوبڑے سرپرائز ملیں گے، یقینی جیتی ہوئی نشستیں ہار جائیں گے میرا تجزیہ درست ثابت ہوا۔ مصطفی کمال سے لے کر فاروق ستار تک سب ہار گئے ہیں۔25جولائی کو کامیاب الیکشن کے انعقاد کے بعد نئے منتخب ہونے والوں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہئے۔ عمران خان اقتدار میں رہے ، اُن پر کوئی قرضہ اور نہ ہی نیب کا کیس ہے،ان کو کھل کر کھیلنا چاہئے، قوم کو 22ارب میں ملنے والی اسمبلی پر تحفظات کا اظہار کرنے کی بجائے اُنہیں اعتماد دینا چاہئے یہی وقت اور یہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

مزید : رائے /کالم