نتائج مسترد ، حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ ، اے پی سی کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ

نتائج مسترد ، حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ ، اے پی سی کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف متحدہ مجلس عمل اور ن لیگ کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات مسترد کر دیے۔کل جماعتی کانفرنس میں متفقہ طور پر ازسرنو نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا گیا اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کی تجویز کی اکثریت نے حمایت کردی احتجاجی تحریک چلانے کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے حزب اختلاف نے انتباہ کیا ہے کہ دیکھتے ہیں کون پارلیمینٹ میں داخل ہوتا ہے اور یہ کس طرح ایوان چلاتے ہیں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جمہوریت کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کے محرک مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی سنگین الزام عائد کر دیا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے پریزائیڈنگ افسران کو یرغمال بنا لیا تھا اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے صدر سابق وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد اور تحریک کو راستے میں چھوڑ کر نہیں جائیں گے تحریک میں مکمل طور پر حصہ لیں گے احتجاجی مظاہروں میں پاکستان مسلم لیگ ن بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کی تجویز پر مشاورت کے لیے ایک دو دن کی مہلت مانگ لی ہے اتوار تک لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا متذکرہ فیصلوں کا اعلان جمعہ کی شب اسلام آباد میں ملک کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا مشاورتی اجلاس کے دوسرے میزبان پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیر پاؤ ، نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو، پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ علامہ انس نورانی ، فاٹا کے رہنما حاجی شاہ جی گل آفریدی ، لیاقت بلوچ، راجہ ظفر الحق، غلام احمد بلور، میاں افتخار حسین ودیگر بھی انکے ہمراہ تھے اپوزیشن کا مشاورتی اجلاس اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور انتخابات کو مسترد کرنے اور دھاندلی پر اعتراض کرنیوالی دیگر جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی اجلاس میں شریک نہ ہو سکی میزبان آل پارٹیز کانفرنس کے مطابق آصف علی زرداری سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتفاق رائے سے آل پارٹیز کانفرنس نے 25جولائی 2018کو ہونیوالے انتخابات کے نتائج کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے کسی طور پر ان انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے ازسرنو اتفاق رائے سے صاف شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو احتجاجی تحریک کا شیڈول طے کرے گی اور مشاورت سے آگے بڑھیں گے اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے کے بارے میں میاں شہباز شریف نے ایک دو روز کی مہلت مانگ لی ہے ایک دو روز میں احتجاجی تحریک کے متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا باقی جماعتوں سے بھی رابطے کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جمہوریت کی آزادی کی تحریک چلائی جائے گی جو قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہی سب کچھ ہے ہمارے ہاتھ میں سب کچھ ہے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے فیصلہ با اختیار عوام کا ہے اور سیاسی جماعتیں ان کی رہنمائی کریں گی الیکشن کمیشن آف پاکستان کو رخصت ہونیوالی پارلیمینٹ نے انتہائی با اختیار بنایا تا کہ جمہوریت پنپ سکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کیا 20ارب روپے ا س لئے دیے گئے تھے کہ وہ دھاندلی شدہ انتخابات کروائے انہوں نے کہا کہ جتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اسکے خلاف اتنے ہی بڑے فیصلے کیے جائیں گے ریٹرننگ افسران کو سیکورٹی اہلکاروں نے یرغمال بنا لیا تھا الیکشن کمیشن آف پاکستان بے بس تھا انہوں نے کہا کہ اب عوام نکلیں گے میاں شہباز شریف نے واضح کیا کہ تحریک کو راستے میں چھوڑ کر نہیں جائیں گے حلف نہ اٹھانے کی تجویز کے بارے میں پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرنی ہے اتوار تک اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے احتجاجی تحریک چلانے کے فیصلے سے متفق ہیں مسلم لیگ ن اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

اے پی سی

مزید : صفحہ اول