یورپی یونین مبصرین کا الیکشن پر تحفظات کا اظہار

یورپی یونین مبصرین کا الیکشن پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ) یورپی یونین الیکشن مبصرین نے پاکستان میں ہونیوالے الیکشن 2018ء پر تحفظات کااظہار کردیا ۔ چیف آبزرور مائیکل گیلر کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دوران انہیں مختلف پولنگ سٹیشنز پر مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر پریزائڈنگ افسران کی بجائے سکیورٹی افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔اقلیتوں کے ووٹوں کے حوالے سے صورتحال بہتر نہ ہوسکی ، پولنگ اور گنتی کے دوران میڈیا کے نمائندوں کو بھی پولنگ اسٹیشنز پر روکا گیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین کے چیف الیکشن آبزروز مائیکل گیلر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں الیکشن 2018ء کے دوران الیکشن کمیشن کے شکرگزار ہیں ، اگرچہ اس بار اجازت دیر سے دی گئی ، البتہ ہم حکومت پاکستان اور الیکشن کمیشن کے مشکور ہیں ۔ یورپی یونین نے پورے ملک میں الیکشن کے دوران پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا گیا ۔ البتہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال مناسب نہ ہونے کی وجہ سے یورپی یونین کے نمائندوں کو بلوچستان جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ یورپی یونین کے جانب سے 120مبصرین نے الیکشن کے 113 پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا ۔ البتہ مختلف پولنگ سٹیشنز پر یورپی یونین کے مختلف نمائندوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے علاوہ میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کے مختلف نمائندوں کو پولنگ اسٹیشنز کی آزادہ کوریج سے بھی روکا گیا جس کی وجہ سے کوریج متاثر ہوئی ۔ مائیکل گیلر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا بھی اظہا رکیا کہ بدقسمتی سے اس الیکشن کے دوران بھی اقلیتوں کے ووٹوں کے حوالے سے صورتحال بہتر نہ ہوسکی۔انہوں نے پاکستان میں الیکشن میں اقلیتوں کی نمائندگی پر بھی سوال کے جواب میں کہاکہ یورپی یونین پاکستان سے اقلیتوں کے حقوق اور الیکشن میں مکمل آزاد شہری کی حیثیت سے نمائند گی ہونی چاہیے ۔ البتہ کئی سالوں سے ایسا نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مبصر کے طور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کونسی پارٹی اکثریت حاصل کررہی ہے یا کونسی پارٹی متاثر ہورہی ہے۔ہمیں جماعتوں کے جیتنے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ یورپی یونین کے آبزرور کے طور ہمارا کام الیکشن کے نظام کو مانیٹر نگ کرنا ہے اور اس کے بعد اپنی رائے پیش کرنا ہے۔

یورپی یونین الیکشن مبصرین

مزید : صفحہ اول