حمزہ شہباز ، علیم خان ، شاہ محمود قریشی ، چودھری پرویز الٰہی کی وزارت اعلٰی کیلئے سرگرم

حمزہ شہباز ، علیم خان ، شاہ محمود قریشی ، چودھری پرویز الٰہی کی وزارت اعلٰی ...

 لاہور ( عباس تبسم سے) عام انتخابات 2018ء کے حتمی نتائج کا عمل مکمل ہوتے ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا۔ وفاق اور دوصوبوں سندھ اور کے پی کے میں تو صورتحال واضح ہوگئی کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں جبکہ بلوچستان اور پنجاب میں مینڈیٹ تقسیم ہونے کے باعث جوڑ توڑ جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں 129سیٹوں کیساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے، مگر اسے بھی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل نہیں اور حکومت بنانے کیلئے اسے مزید18ارکان کی ضرورت ہے۔ اب اسے حکومت بنانے کیلئے آزاد ارکان اور دوسری جماعتوں کا سہارا لے کر مخلوط حکومت بنانا پڑے گی، جس کیلئے پارٹی نے حمزہ شہباز کووزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ پنجاب میں 123سیٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر تحریک انصاف ہے، جس کی پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) سے چند سیٹیں کم ہیں اور وہ آزاد ارکان اور دوسری اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے تحریک انصاف نے عبدالعلیم خان کو پنجاب میں وزارت اعلیٰ کیلئے گرین سگنل دیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے فواد چودھری اورچودھری سرور بھی وزارت اعلیٰ کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف پارٹی رہنماؤں کی طرف سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جائے۔ اسی طرح یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شاہ محمود قریشی نے وزیر خارجہ کا عہدہ لینے سے انکار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ق) بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے متحرک نظر آرہی ہے اور چودھری پرویز الٰہی بھی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے سب سے زیادہ متحرک مسلم لیگ (ق) نظر آرہی ہے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ گزشتہ شام منڈی بہاؤالدین سے آزاد رکن پنجاب اسمبلی ساجد احمد بھٹی مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے جبکہ مسلم لیگ ق یہ بھی دعویٰ کر رہی ہے کہ اس کے مسلم لیگ ن کے کئی ارکان اور آزاد ارکان سے بھی رابطے ہیں۔ کچھ حلقوں کی طرف سے یہ بھی تجویز دی جا رہی ہے کہ اٹک سے کامیاب ہونیوالے رکن پنجاب اسمبلی اور چودھری برادران کے قریبی عزیز میجر (ر) طاہر صادق کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا جائے تو مسلم لیگ (ق) بھی ان کی بھرپور حمایت کرے گی۔مسلم لیگ ن کی طرف سے حمزہ شہباز شریف اور رانا ثنااللہ بھی آزاد امیدواروں سے رابطوں کیلئے متحرک ہیں،رانا ثنااللہ اور حمزہ گزشتہ روز آزاد ارکان اسمبلی سعید اکبر نوانی اور پیر سعید الحسن سے رابطہ کر کے انہیں مسلم لیگ ن حمایت کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی۔

وزارت اعلیٰ پنجاب

مزید : صفحہ اول