پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں صدی کا طویل ترین چاند گرہن دیکھا گیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں صدی کا طویل ترین چاند گرہن دیکھا گیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں صدی کا طویل ترین اور بلڈ مون چاند گرہن گزشتہ رات ہواجوپاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھاگیا۔ چاند گرہن جمعے کی رات کے آخری لمحات میں شروع ہوا اور ہفتہ 28 جولائی کو ختم ہوا۔یہ چاند گرہن گرین لینڈ ، امریکہ اور کینیڈا کو چھوڑ کر دنیا کے بقیہ کئی ممالک میں بہت صراحت سے دیکھا گیا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق چاند گرہن دیکھنے کیلئے کسی بھی حفاظتی اقدامات کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ عموماً سورج گرہن کو دیکھنے میں ہی غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کے طور پر سیاہ چشمے، فلٹر یا ایکسرے استعمال کیے جاتے ہیں۔چاند گرہن کا بہترین نظارہ مشرقی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، بھارت ، پاکستان اور چین کے بعض حصوں میں ممکن تھا۔جب سورج اور چاند کے درمیان زمین ایک ہی لائن میں آجائے تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے جس سے چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ تاہم 27 جولائی کا چاند گرہن ایک جانب تو طویل ترین مظہر تھا تو دوسری جانب سرخی مائل بھی ۔ آخر اس سرخی کی وجہ کیا ہے؟ماہرین کے مطابق مکمل چاند گرہن کے بعد وہ سرخی مائل دکھائی دیا کیونکہ مکمل چاند گرہن کے بعد چاند سے منعکس ہونیوالی کچھ روشنی جب زمینی فضا میں داخل ہوئی تو وہ سرخی مائل ہوگئی ۔ سرخی مائل چاند گرہن کی اس کیفیت کو انگریزی میں بلڈ مون کہا جاتا ہے۔ معتبر ویب سائٹ ٹائم اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کوم کے مطابق گزشتہ رات سوا دس بجے شروع ہونیوالے چاند گرہن کا دورانیہ چھ گھنٹے اور کچھ منٹ تھا۔ پاکستانی وقت کے مطابق گیارہ بج کر 24 منٹ پر جزوی اور 28 جولائی ہفتے کی رات ایک بج کر 21 منٹ پر مکمل چاند گرہن ہوا۔ اس وقت چاند کی روشنی مکمل طور پر غائب ہوفئی اور وہ سرخی مائل بھی دکھائی دیا یہ عمل ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا، اس کے بعد دھیرے دھیرے چاند گرہن ختم ہونا شروع ہوا اور صبح چار بج کر 28 منٹ پر گرہن مکمل طور پر ختم ہوگیا۔اس طرح چاند گرہن کے مکمل عمل کا دورانیہ چھ گھنٹے اور 14 منٹ تھاجو ایک ریکارڈ ہے اور اتنا طویل دورانیہ مستقبل قریب میں دیکھنا ممکن نہ ہوگا۔ دوسری جانب مکمل چاند گرہن کا دورانیہ بھی ایک گھنٹہ 43 منٹ تھاجو اس صدی کا سب سے طویل دورانیہ بھی ہے۔

چاند گرہن

مزید : صفحہ اول