ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امتیاز رشید صدیقی مستعفی ہو گئے

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امتیاز رشید صدیقی مستعفی ہو گئے

لاہور(نامہ نگار خصوصی)ایک مقدمہ میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارسے مکالمہ کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے امتیاز رشید صدیقی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔گزشتہ روز پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوئے ۔عدالت میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی فرانزک آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی تو انہوں نے عدالت کو تجویز دی کہ اس معاملے پر ایڈیٹر جنرل پاکستان سے بھی آڈٹ کروالیا جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ نیا ایڈووکیٹ جنرل آئے گا تو کروالیں گے۔سماعت کے فوراً بعد ایڈووکیٹ جنرل اپنے دفتر پہنچے اور آتے ہی استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے نام بھیجے گئے اپنے استعفیٰ میں امتیاز رشید صدیقی نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے مجھے23جون 2018ء کو ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا ،اب عام انتخابات ہوگئے ہیں ،جلد ہی سیاسی حکومت بننے والی ہے ،میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے استعفیٰ دینے کا وقت آگیا ہے تاکہ آنے والی حکومت اپنی مرضی سے اس عہدہ پر کسی کا تقرر کرسکے۔انہوں نے اپنے استعفیٰ میں مزید کہا ہے کہ وہ اعتماد کرنے پر نگران وزیراعلیٰ اور نگران وزیرقانون کے ممنون ہیں۔

مزید : صفحہ آخر