عامر چشتی ہسپتال میں قید 231شہری بازیاب

عامر چشتی ہسپتال میں قید 231شہری بازیاب

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ کے حکم پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمدشان گل کی سربراہی میں خصوصی ٹیم نے چھاپہ مار کر منشیات کی علاج گاہ کے طور پر چلائے جانے والے عامر چشتی ہسپتال میں جانوروں سے بھی بدتر حالت میں قید 231شہریوں کو بازیاب کرالیا۔تمام مریضوں کو مینٹل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ میں منتقل کردیا گیا ہے ۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے لئے گئے ازخود نوٹس کیس میں دیئے گئے عدالتی حکم پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمدشان گل نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے ارکان اور پولیس کے ہمراہ شادباغ لاہور میں واقع عامر چشتی ہسپتال پر چھاپہ مارا ،ٹیم کو بتایا گیا کہ ہسپتال کا مالک عامر چشتی موجودہ عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا امیدوار بھی تھا،وہاں 4کمروں میں 231افراد قید تھے ۔ہسپتال کی عمارت جیل کا منظر پیش کررہی تھی ،جس کے اندر پراسرار انداز میں بنی کئی راہ داریاں تھیں ،ہسپتال کے اندر ہی بکریاں بندھی ہوئی تھیں جبکہ ساتھ والے گھر میں 8بھینسیں موجود تھیں جن کے گوبر کی بدبو ہسپتال میں بھی آرہی تھی ۔عدالت کے حکم پر عامر چشتی ہسپتال کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ اس کے مالکان کے خلاف نیا مقدمہ بھی درج ہوگیا ہے ۔ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر اجمل کی طرف سے سپریم کورٹ کے علم میں لایا گیا تھا اس ہسپتال کو 3مرتبہ سیل کیا جاچکا ہے لیکن اس کے مالکان اسے دوبارہ کھول لیتے ہیں۔ٹیم کو بتایا گیا کہ ہسپتال کا مالک عامر چشتی موجودہ عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا امیدوار بھی تھا۔عدالت کے حکم پر اس ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد شان گل کی طرف سے اس معاملے کی مکمل رپورٹ آج 28جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

عامر چشتی ہسپتال

مزید : صفحہ آخر