پروفیسر ساجد میر نے بھی انتخابی نتائج مسترد کر دیئے ‘ احتجاج کا اعلان

پروفیسر ساجد میر نے بھی انتخابی نتائج مسترد کر دیئے ‘ احتجاج کا اعلان

لاہور ( این این آئی)امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے الیکشن 2018 ء کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ایسے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے جہاں ووٹوں کی گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا گیا اور فارم 45 غیر تصدیق شدہ دیئے گئے،پولنگ ایجنٹس کی عدم موجود گی میں بیلٹ باکس بھرے اور ٹھپے لگائے جاتے رہے،اپوزیشن جماعتو ں کے ساتھ مل کر اس دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف ہرفورم پر آواز اٹھا ئیں گے ۔جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے امیدواروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہا اوروفاداریاں تبدیل کرا ئی گئیں ۔ بندوں کو اٹھایا گیا ،گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا اور مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ کی گئی۔ عمران خاں کاحلقے کھولنے اور تحقیقات کی پیش کش کا فائدہ تب ہو تا جب گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس موجود ہوتے ،ان کی عدم موجود گی میں شمار کیے گئے ووٹوں کو کیسے جانچا جائے گا کہ وہ اصل ہیں یا بعد میں ٹھپے لگا کر شامل کیے گئے ہیں۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت مرضی کے نتائج حاصل کیے گئے۔ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جن حلقوں میں پولنگ ایجنٹس کے بغیر ووٹو ں کی گنتی ہو ئی وہاں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں ۔

پروفیسرساجد میر

مزید : صفحہ آخر