قومی اور پنجاب اسمبلیوں کی موجودہ ہیت ترکیبی میں جنوبی پنجاب صوبہ کیسے بن سکے گا ؟

قومی اور پنجاب اسمبلیوں کی موجودہ ہیت ترکیبی میں جنوبی پنجاب صوبہ کیسے بن ...
قومی اور پنجاب اسمبلیوں کی موجودہ ہیت ترکیبی میں جنوبی پنجاب صوبہ کیسے بن سکے گا ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف کی حکومت تو دو ڈھائی ہفتوں میں بن جائے گی اور اس کے بعد سو دنوں کے پروگرام پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ ایک کروڑ ملازمتیں تو خیر پانچ سال میں دینے کا وعدہ ہے، لیکن جنوبی پنجاب صوبہ والے تو سو دنوں کے اندر یہ خوشخبری سننے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، لیکن جب تک وفاق اور پنجاب میں موجودہ اسمبلیاں موجود رہیں گی، اس وقت تک ہمارے جنوبی پنجاب کے بھائی صوبے کا خیال دل سے نکال دیں، کیونکہ اس وقت تک ’’این خیال است و محال است و جنوں‘‘ والا معاملہ ہے۔ خواہش تو ہماری بھی یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ کل بنتا ہے تو آج بن جائے، لیکن اس کا کیا جائے کہ ووٹروں نے وفاق اور پنجاب اسمبلی کے جو نتائج دئیے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے صوبے کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس خواب کی تعبیر کی راہ میں آئین سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جو یہ کہتا ہے کہ جس صوبے کی حدود میں رد و بدل مقصود ہو، اس کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرے گی، جس میں نئے صوبے (یاصوبوں) کی تجویز دی جائے گی، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں پنجاب اسمبلی اس قسم کی کوئی قرارداد منظور کرسکتی ہے؟ اس کا جواب ایک بڑے ’’ناں‘‘ کی صورت میں ہمیں ملتا ہے، پنجاب کی سب سے بڑی جماعت تو اس وقت تک مسلم لیگ (ن) ہی ہے، لیکن بڑی جماعتوں کو ’’کٹ ٹو سائز‘‘ کرنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے، آج کے اخبارات میں مسلم لیگ (ن) کے کامیاب ارکان کی تعداد 135 بتائی گئی ہے، لیکن یہ سطور لکھتے وقت یہ تعداد کافی کم ہوچکی ہے، ایک جھٹکا اور لگا تو حساب برابر۔

اگر مسلم لیگ (ن) نے اپنی اکثریت کے زعم میں پنجاب میں حکومت بنانے کی کوشش کی تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کام کتنا مشکل ہے۔ دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف ہے، جس کی جانب آزاد امیدوار لڑھکتے چلے جائیں گے۔ ایسی صورت میںآزاد ارکان ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، اور یہاں بھی ان کا کردار حتمی ہوگا، وہ خوشی خوشی تحریک انصاف کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی نے اس فیصلے سے روگردانی کی تو پھر وہ اپنے فیصلے کا خود ہی ذمے دار ہوگا۔ یہ 2013ء تو نہیں ہے جب ’’دھاندلی کے ذریعے‘‘ منتخب ہونے والے وزیراعظم نے کے پی کے میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کے لئے فری ہینڈ دیا تھا، حالانکہ اس کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی اور آزاد ارکان بھی نہیں تھے کہ حکومت بنانے میں کوئی کردار ادا کرتے، اس لئے تحریک انصاف نے جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنائی۔ مولانا فضل الرحمن کی سوچ مختلف تھی، ان کا یہ خیال تھا کہ وہ چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن نواز شریف نے ان کی حوصلہ افزائی نہ کی، پھر جلد ہی دھرنے شروع ہوگئے اور صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے مقابل آکھڑی ہوئی۔ بہرحال کسی نے اس حکومت کا بال بیکا نہ کیا، حالانکہ بہت سے طریقوں سے ایسا کیا جاسکتا تھا، لیکن یہ پنجاب ہے پیارے، اب پنجاب سے قبضہ چھڑانا ضروری ہے، اس لئے سب سے بڑی پارٹی کو ’’غیر جمہوری راستہ‘‘ نہیں دیا جاسکتا، تقدیر کے قاضی کا یہی فتویٰ ہے۔

بات ہو رہی تھی جنوبی پنجاب کے صوبے کی، جس کی جانب پہلا قدم اسی صورت اٹھ سکتا ہے جب پنجاب اسمبلی اس کے حق میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے۔ اب جس اسمبلی میں کسی جماعت کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں اور مانگ تانگ کر سواریاں پوری کی جا رہی ہیں اور اس کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو فن مفاہمت میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، وہاں دو تہائی اکثریت سے قرارداد کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایک صورت البتہ ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) مل کر فیصلہ کرلیں کہ وہ صوبے کے حق میں قرارداد منظور کرائیں گے، ایسی صورت میں معاملہ قومی اسمبلی میں جائے گا، جہاں آئین میں ترمیم کے لئے بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ وہاں بھی اگر اسی طرح کی کوئی مفاہمت روبعمل آجائے تو جنوبی پنجاب صوبے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، اس کے سوا کوئی ایسا آئینی راستہ نہیں، جس پر چل کر جنوبی پنجاب صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ آئینی ترمیم کے لئے مطلوب دو تہائی اکثریت بھی اسی صورت میسر آسکتی ہے، جب مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی میں سے کوئی ایک تحریک انصاف کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو۔ 342 کے ایوان میں سادہ اکثریت 172 ارکان اور دو تہائی اکثریت 228 ارکان سے بنتی ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ نمبر گیم کے ذریعے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، البتہ اگر تین بڑی سیاسی جماعتیں مل کر مسئلہ حل کرنا چاہیں تو ایسا ممکن ہے، لیکن اس کے لئے جس بے غرضی، رواداری اور سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے، وہ کہیں بھی پائی نہیں جاتی۔ جنوبی پنجاب کا نام لے کر جن لوگوں نے پہلے مسلم لیگ (ن) چھوڑی اور پھر براستہ جنوبی پنجاب تحریک انصاف کا حصہ بن گئے، انہیں خود بھی اندازہ ہے کہ اگلے الیکشن تک یہ ایشو ٹھنڈا رہے گا، پھر نئے حالات کے نئے تقاضوں کے تحت ایک بار پھر جنوبی پنجاب کے حامی میدان میں آئیں گے، جنہیں اچانک یاد آجائے گا کہ یہ تو وہ علاقہ ہے جہاں انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں، وقتی اور جماعتی مفادات کے حصول کو اولیت دی جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ویسے صوبے کے حامی جنوبی پنجاب میں بھی ناکام ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب

مزید : تجزیہ