کیا ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے میں پارلیمنٹ میں گونجیں گے ؟

کیا ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے میں پارلیمنٹ میں گونجیں گے ؟
کیا ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے میں پارلیمنٹ میں گونجیں گے ؟

  

تجزیہ: سہیل چوہدری

کیا ایک زرداری سب پربھاری کے نعرے پارلیمنٹ میں پھر گونجیں گے ، سینیٹ الیکشن کے نتیجے میں جب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا حلف اٹھارہے تھے تو اس وقت ایوان کی گیلریوں میں بھٹو کے جیالوں نے ایک زرداری سب پر بھاری کے زوردار نعرے لگائے تھے ، جس پر ایوان ان نعروں سے گونج اٹھا تھا، انتخابات 2018میں قومی اسمبلی کے نتائج سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ سب سے بڑی بیماری زرداری کا نعرہ لگانے والے کپتان عمران خان کو شائد دوبارہ پاکستان پیپلزپارٹی کی ضرورت پیش آجائے ، دارالحکومت کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے اپنی جوڑ توڑ مہم کا آغاز کردیا ہے ، جس کیلئے پنجاب سے شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان اور چوہدری سرور متحرک ہوچکے ہیں ، جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر ترین سپریم کورٹ سے تو نااہل ہوچکے ہیں لیکن انتخابات کے بعد جوڑ توڑ کی مہم میں کپتان کے دست راست ہیں اور پنجاب میں بعض آزاد اور سندھ سے ایم کیو ایم ارکان سے روابط کررہے ہیں ، شاہ محمود قریشی ایک طرف تو وزریراعلیٰ پنجاب کے امیدوار بننے کے خواہشمند ہیں اور فواد چوہدری اور علیم خان کے ساتھ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ حمزہ شہباز شریف بھی خم ٹھونک کر میدان میں آچکے ہیں جس کی بناء پر پنجاب میں ’’ابھی عشق کے امتحان او ربھی ہیں ‘‘کے مصداق وزارت اعلیٰ کے عہدہ پر ایک بڑا معرکہ متوقع ہے ، دوسری طرف چوہدری پرویز الٰہی بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں انکا خیال ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی انہیں آشیر باد مل جائے تو وہ دیگر امیدواروں کی نسبت بعض پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان اور آزاد ارکان کو باآسانی اپنا ہم خیال بناسکتے ہیں ، چوہدری پرویز الٰہی جنرل مشرف کے دور کے ’’ہم خیالی ‘‘کے تجربہ سے دوبارہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ، تاہم تمام تر غیر معمولی مشکلات کے باوجود ن لیگ نے اینٹی ن لیگ قوتوں سے پنجاب میں سخت مقابلہ کیا ہے اور بہت حد تک لاہور کا میدان بھی مارلیا ہے ، نواز اور مریم کی واپسی کے بعد ن لیگ اپنے مخالفین کیلئے ترنوالہ ثابت نہ ہوسکی اس بناء پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر ن لیگ پنجاب میں حکومت بنانے پر تلی رہی تو اس معرکہ میں وہ سخت جان ثابت ہوگی ، پاکستان تحریک انصاف کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیاسی لحاظ سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے دوسری جانب میں مرکز میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے انتہائی سخت لب و لہجہ میں الیکشن 2018ء کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایک تحریک چلانے کی دھمکی دیدی ہے جس پر ن لیگ نے اصولی اتفاق کیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کیلئے ن لیگ سے مشاورت سے مشروط کیلئے ایک دن کی مہلت مانگ لی ہے ، یہ مہلت آج ختم ہوجائیگی اس بناء پر ن لیگ اگر آج مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس کی کال پر تحریک کا حصہ بن جاتی ہے تو کپتان کو مرکز میں حلف اٹھانے سے قبل ہی ایک بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصروں کی رپورٹ نے بھی شائد جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اس رپورٹ کے مطابق ملک میں جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار کیلئے مطلوبہ سیاسی ماحول فراہم نہ کیا گیا اور کہا گیا کہ صرف آزادانہ ووٹنگ فیئر اینڈ فری الیکشن کیلئے کافی نہیں ، ان مبصرین نے اپنی بریفنگ میں الزام لگایا کہ عدلیہ کے بعض فیصلوں سے بھی انتخابی عمل پر اثر پڑا ہے ، جبکہ میڈیا کی آزادی پر خود ساختہ سنسر شپ کی نہ صرف نشاندہی کی گئی بلکہ میڈیا کی آزادی کو فیئر اینڈ فری الیکشن کیلئے لازم قرار دیا گیا ، درحقیقت یورپی یونین کے انتخابی مبصروں کی پریس کانفرنس نے پورے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں،جبکہ واضح طور پر کہا گیا کہ پولنگ سے قبل سابق حکمران جماعت ن لیگ کے پر کاٹے گئے ، یہ سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اگرچہ پولنگ ڈے پر ووٹ کے آزادانہ استعمال اور پاک فوج کے جوانوں کی جانب سے پولنگ عمل میں عمومی طورپر کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا کہا گیا ہے ، تاہم دو ٹوک اندا زمیں کہا گیا ہے 2013کا الیکشن 2018کے مقابلے میں بہتر تھا ، یہ پیش رفت پاکستان تحریک انصاف کیلئے سنگین سیاسی مضمرات کی حامل ہوسکتی ہے دارالحکومت کے بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ بعد از انتخابات بحران کے پیش نظرپاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین روابط ہورہے ہیں ،بعض لوگ تو یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اورنئے پاکستان کے خاکہ میں رنگ بھرنے والوں کے مابین پہلے سے ہی تال میل موجود ہے پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت بھٹو کے فلسفہ سے ہٹ کر مکمل طورپر ’’پاور پالیٹکس‘‘ کی گرفت میں ہے سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی متبادل سیاسی قوتوں کے طورپر پاکستان تحریک انصاف اور جی ڈی اے کی شکل میں سیاسی بیج بو دیئے گئے ہیں انکا دعویٰ ہے کہ اس فصل کے کٹنے تک پاکستان پیپلزپارٹی کو ساتھ رکھا جائیگا تاکہ زرداری صاحب کا اپنے آپ کا بھاری ہونے کے زعم کو مزید مضبوط کرکے انہیں ساتھ رہنے پر مجبور رکھا جاسکے جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن رہنماء محترمہ شیری رحمان امریکہ میں سفارت کاری کے توسط سے تمام ملکی سٹیک ہولڈرز سے عمدہ انڈر سٹینڈنگ کی حامل سمجھی جارہی ہیں ، دوسری طرف سینیٹر رحمن ملک بھی بیک ڈور روابط رکھنے میں انتہائی مہارت کے حامل ہیں ، ان حالات میں دارالحکومت کے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مرکز میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بناسکتی ہے اگرچہ ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں سے ترین روابط میں مصروف ہیں لیکن ذرائع کا خیال ہے اگر پاکستان پیپلزپارٹی سے مل کر مخلوط حکومت بنانے کی بریک تھرو ہو جاتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کی چھوٹی جماعتوں کے مطالبات سے جان چھوٹ جائیگی بلکہ زرداری صاحب کیلئے بھی وفاقی حکومت کے وسیع دسترخوان کے مینیو میں ان کی من پسند سیاسی ڈشیں منتظر ہونگی ان حلقوں کا تجزیہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی نو آموز حکومت ایک ہی وقت میں دونوں محاذوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ نبردآزما نہیں ہوسکتی ’’سب توں وڈی بیماری زرداری‘‘ کے نعرے کو مصلحتاًکچھ عرصہ بھول کر پہلے نواز تے اوس تو بعد زرداری یعنی واری واری نبڑنے کی حکمت عملی پر سوچا جارہاہے ،پاکستان تحریک انصاف حکومت سازی کیلئے مختلف تدبیروں کو پر کھ رہی ہے جبکہ بلاول بھٹو تاحال کوئی ایسا سگنل نہیں دے رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بنے گی ایسا لگتا ہے وہ ا بھی اپنی سیاسی آپشنز کھلے رکھنا چاہتے ہیں جبکہ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ شاید اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں،پیپلز پارٹی میں بھٹو کے فلسفہ پر یقین رکھنے والے ان کے انکلز کابھی یہی خیال ہے کہ انہیں اپوزیشن میں بیٹھ کر سیاست کرنی چاہیے تاہم دارالحکومت میں جوڑ توڑ کی اس بساط پر پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس بھی سیاسی چالیں موجود ہیں، آنے والے 72گھنٹے ملکی سیاست میں استحکام کے حوالے سے اہم ترین ہونگے ۔

تجزیہ،سہیل چوہدری

مزید : تجزیہ