ا مسلم لیگ ن نے انتخابی نتائج تسلیم کر لئے

ا مسلم لیگ ن نے انتخابی نتائج تسلیم کر لئے
ا مسلم لیگ ن نے انتخابی نتائج تسلیم کر لئے

  

نتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن کے صد ر اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف یہ لکھ کر دے رہے تھے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور وفاق میں ان کی حکومت بن رہی ہے، انتخابات منعقد ہونے کے بعد رات کے وقت پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز لیگ میں واپس لوٹنے کے بعد فرنٹ سیٹ سنبھالنے والے مشاہد حسین سید کا رویہ اتنا ہی جارحانہ تھا جتنا انتخاب ہارنے والی کسی جماعت کا ہو سکتا ہے مگر اس کے باوجود وہ نتائج مسترد نہیں کر رہے تھے، وہ انتخابات کالعدم قرار دینے کا مطالبہ بھی نہیں کر رہے تھے حتیٰ کہ وہ لاہور جیسے شہر میں کسی علامتی احتجاج تک کا اعلان نہیں کر رہے تھے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد میاں شہباز شریف نے اڈیالہ جیل میں مسلم لیگ ن کے حقیقی سربراہ محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔ میاں نواز شریف کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پچیس جولائی کے انتخابات چوری کرنے کا موقف اختیارکیا ہے۔ اسی شام پارٹی کے بڑوں کی میٹنگ ہوئی جس کے بڑے بڑے فیصلوں میں یہ شامل تھا کہ پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے وقت نکالتے اورفارم پینتالیس نہ دیتے ہوئے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی مگر ہارنے والوں کو تسلی دیتے اور جیتنے والوں کو مبارک دیتے ہوئے خطوط بھی لکھے جائیں گے گویا گونگلووں سے مٹی جھاڑ دی گئی۔

صورتحال مزید واضح ہونے لگی جب حمزہ شہباز شریف نے پنجاب میں حکومت سازی کا دعویٰ کیا۔ یہ ایک بڑا دعویٰ ہے جو مخصوص صورت میں ہی پورا ہو سکتا ہے کیونکہ نمبر گیم میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے ہر قسم کی کنفیوژن کو دور کر دیا جب انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت ، تحریک انصاف کی طرح، ملک میں انتشار پیدا نہیں کرے گی۔ آپ چاہیں تواس موقعے پر نواز شریف کے بیانئے اور مریم نواز کے ٹوئیٹس بھی یاد کر سکتے ہیں کہ اگر وہ دونوں موجود ہوتے تو صورتحال کیا ہوتی، یہ بیانیہ اس وقت کہیں ڈسکس نہیں ہو رہا۔ نواز لیگ کے متوالے واٹس ایپ کے بہت سارے گروپوں میں ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں جو کسی طور بھی میاں شہباز شریف اور میاں حمزہ شہباز شریف کے حق میں نہیں ،ہاں، کچھ ’ ماہرین‘ نے رائے دی ہے کہ مسلم لیگ ن کو انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے کہ ووٹ کی عزت کی جدوجہد کسی ایک الیکشن سے مشروط نہیں ہے مگرجذباتی کارکنوں میں اس موقف کو لوٹاہوجانے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اتنی ٹھنڈی ٹھار کیوں ہے، وہ اتنی بھی متحرک اورگرم نہیں جتنے مولانا فضل الرحمان ہیں۔ کیا اس کے پیچھے کوئی کہانی موجود ہے۔ پولنگ سے پہلے اورپولنگ کے بعد دھاندلی کے شدید ترین الزامات لگانے والی مسلم لیگ ن کیا واقعی ملک کو انتشار سے بچانا چاہ رہی ہے اور دلیل یہ ہے کہ مسلم لیگ یہ سب کچھ بھگت چکی، اس کے اپنے اقتدار کا مزا کرکرا ہو کے رہ گیا تھا ۔ دوسرے کیا مسلم لیگ ن کو یہ یقین ہے کہ اس کی احتجاجی تحریک ناکام ہوجائے گی کہ پاکستان کی تاریخ میں حکومتوں کی طرح کوئی احتجاجی تحریک بھی اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہو۔ نون لیگ سسٹم میں اِن ہے اور اسی سسٹم کے اندر’ ری کاونٹنگ‘ میں ریلیف حاصل کرتے ہوئے اپنا پارلیمانی حجم بڑھا رہی ہے مگر سازشی تھیوریاں بتاتی ہیں کہ اس کا اصل مقصد مسلم لیگ نون کے امیدواروں کو ریلیف دینے سے کہیں زیادہ پی ٹی آئی کو اس کی حد اور قد سے باہر نکلنے سے روکنا ہے۔ارکان کی مسلسل کم ہوتی تعداد ہی وجہ ہے کہ نظرئیے کوایک مرتبہ پھر تیل لینے بھیج دیا گیا ہے اور جناب عمران خان نے وزیراعظم بننے کے لئے ایم کیو ایم سے مدد مانگ لی ہے ۔ ایم کیو ایم کے وفد نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد دھاندلی کے خلاف ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے ہاں کے بعدناں کر دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ نظریہ ہر مرتبہ تیل لینے ہی کیوں چلا جاتا ہے۔ میں نے تحریک انصاف کے دھاندلی کے خلاف دھرنوں میں شرکت کرنے اور ایک نیا پاکستان بنانے کے مجاہد کو پی ٹی آئی کی کامیابی پر رقص کر تے دیکھا، پوچھا، کیا وہ اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس نہیں کرتا کہ وہ تصور رکھتا تھا کہ مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے اور دھاندلی سے اقتدار میں آئی ہے اور اب یہی الزامات قومی اور بین الاقوامی میڈیا شہ سرخیوں میں عمران خان پر لگا رہا ہے۔ اس نے مجھے حیرانی سے دیکھا ، بولا، پاکستان میں اقتدار میں آنے کا یہی طریقہ ہے لہٰذا کسی دکھ یا افسوس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات درست ہے کہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے بیان، ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے وہ اصلی ہو یا نقلی، کی طرح کامیابی بھی کامیابی ہوتی ہے چاہے وہ دھاندلی سے ہی کیوں نہ حاصل کی گئی ہو اور یوں بھی آپ،فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان صدارتی انتخاب سے لے کر آج تک کس انتخاب کو دھاندلی سے پاک اور آزاد کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کے سب سے شفاف قرار پانے والے ستر کے انتخابات بھی اپنے اندر بہت ساری کہانیاں لئے ہوئے ہیں۔ نواز لیگ نوے کی دہائی میں اس کھیل کا حصہ رہی ہے اور جانتی ہے کہ اقتدار ملنے کے لئے جو این او سی درکار ہوتا ہے وہ اس کے پاس نہیں ہے۔ کیا اس نے جناب آصف علی زرداری جیسی دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے جس میں انتظار شامل ہے، کچھ طاقتور لوگوں کے ریٹائر ہوجانے کا انتظار، جس کے بعد اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے بیان دینے والے بھی سینیٹ میں اپنا ڈپٹی چیئرمین لے آتے ہیں اور سندھ میں بدترین گورننس کے باوجود وہاں سے اپنی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستو ں میں محض پولیٹیکل مینجمنٹ سے اضافہ کر لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن نے کوئی ڈیل کی ہے یا رضاکارانہ طور پر ہی سرتسلیم خم کر دیا ہے۔ اگر آپ ایک مثالی صورتحال اور فیصلوں کے بارے میں پڑھنا چاہ رہے ہیں تو اگلے کسی کالم میں ضرور طبع آزمائی کی جا سکتی ہے مگر اس کالم کو حقیقت پر ہی رہنے دیں۔ تین سوال اہم ہیں، پہلا، کیا مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کئے جانے کے بعد اس کے قائد میاں محمد نواز شریف اورصاحبزادی مریم نواز کو ضمانت پر رہائی مل جائے گی کہ انتخابات ہو چکے اور نواز لیگ کو ایک سانچے میں ڈھالا جا چکا لہذا اب وہ آکراسی سسٹم میں سیاست کریں۔ دوسرا، کیا مسلم لیگ ن کو پنجاب میں حکومت سازی کے لئے مساوی مواقعے فراہم کئے جائیں گے اور اس کے پاس بھی آزاد ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کی پوری آزادی ہوگی اور محکمہ زراعت والے انہیں تھپڑ وغیرہ نہیں ماریں گے۔ تیسرا،کیا مسلم لیگ ن کوعدالتوں اور نیب کی طرف سے کچھ ریلیف ملے گا تاکہ یہ جماعت تشکیل دئیے گئے اس سسٹم کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار سکون اور تسلی کے ساتھ ادا کر سکے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے جن دوستوں کو ایک مرتبہ پھر عزت سے نوازا ہے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اعلیٰ ظرف کے ساتھ ، سیاست کو انتشار سے بچانے کے عین قومی مفاد میں کچھ عزت دان کرنے کابھی فیصلہ کیا ہو، یہ عین ممکن ہے کہ شہباز شریف اب ناکام نہ رہے ہوں۔

مزید : رائے /کالم