پرا من الیکشن کے انعقاد کے لئے انتظامی اورسیکیورٹی کے اقدابات پر بھر پور توجہ دی، دوست محمد خان

پرا من الیکشن کے انعقاد کے لئے انتظامی اورسیکیورٹی کے اقدابات پر بھر پور ...

پشاور (سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ اُس کی حکومت نے صوبے میں پر امن اور کامیاب انتخابات کو احسن طریقے سے انجام دے کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی۔ انتظامی اور سکیورٹی سطح پر بھر پور اقدامات کئے گئے۔ ان اقدامات پر اعتماد کرتے ہوئے عوام نے گھروں سے نکل کر پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی وزراء سے بات چیت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں الیکشن کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اُنہوں نے انتظامی سیکرٹریوں اور مسلح افواج کا صوبے میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ کامیاب اور پرامن انتخابات کے انعقاد کا کریڈٹ تما م سٹیک ہولڈرز کو جاتا ہے جنہوں نے انتخابات کے کامیاب انعقاد کیلئے پورے انتخابی عمل میں خلوص اور لگن سے کام کیا۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں پرامن الیکشن کے انعقاد کی ذمہ داری ایک مشکل اور چیلنجگ کام تھا یہ اس لئے بھی مشکل تھا کہ دہشت گرد حملوں کے خطرات اور امن و امان کی صورتحال اور دیگر سکیورٹی اور انتظامی مسائل تھے لیکن ان ساری مشکلات کے باوجود ہم نے پرامن انتخابات کے عمل کو کامیابی سے ممکن بنایا ۔ اُنہوں نے کہاکہ میں بیرونی دشمن اور پاکستانی سیاست کے تناظر میں سیاسی قوتوں اور اُمیدواروں کے درمیان چپقلش اور جھگڑوں سے بخوبی آگاہ تھا اس لئے ان سیاسی حالات کے تناظر میں انتخابات کو پرامن اور نارمل بنانے کیلئے مناسب اقدامات اُٹھائے ۔پہلے ہی دن سے صوبے میں کامیاب اورپر امن الیکشن کے کامیاب انعقاد کیلئے انتظامی اور سکیورٹی کے اقدامات پر بھر پورتوجہ دی ۔نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں صوبے میں الیکشن کو کریڈیبل بنانے اور اس سارے عمل پرہر کسی کا اعتماد بحال کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھانے پڑے۔ اُنہوں نے تمام لوگوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایسی حکمت عملی اپنائی جہاں وہ محفوظ اور آزاد ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ اُنہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط بڑھائے ،سیاسی قوتوں کا تعاون حاصل کرنے کیلئے ان کے ساتھ اجلاس منعقد کئے جو صوبے میں اتفاق رائے سے الیکشن کے انعقاد کیلئے ناگزیرتھے۔ایک ایسا مربوط پلان دیا گیا کہ پورے صوبے کو انتظامی اور سکیورٹی سطح پر مربوط بنانے کیلئے طریقہ کار بنایا گیا۔ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات اُٹھائے گئے جس سے صوبے کی تاریخ کے پر امن الیکشن کے انعقاد میں کامیابی نصیب ہوئی۔سکیورٹی سے متعلق چیلنجز کی خوب جانچ پڑتال کے بعد ان پر قابو پانے کیلئے قابل عمل پلان ترتیب دیا۔ ہم نے انتظامی اور سکیورٹی اس تناظر میں پلان کی تاکہ انتخابات کا پرامن اور کامیاب ہونا ممکن ہو ۔ ابتداء میں الیکشن کے پورے عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک صبر آزما مرحلہ تھا انتخابات کو پرامن اور کامیاب بنانے کیلئے متعدد نوعیت کے انتظامی اور سکیورٹی اقدامات کئے گئے ۔ لوگوں کے خدشات دور کئے گئے تاکہ وہ زیادہ تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور اس حق رائے دہی کیلئے پرامن ماحول کا ہونا ضروری تھا ۔ سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطہ رکھا اُن کے ساتھ اجلاس کئے گئے اُن کی حمایت حاصل کی گئی اور یہ پر امن انتخابات کے انعقاد کیلئے ضروری تھا۔ ہم نے شروع ہی سے ایسے اقدامات اُٹھائے کہ انتظامی اور سکیورٹی لحاظ سے کوئی خلاء نہ رہے ۔ صوبہ پوری طر ح ایک یونٹ ہو اور اس میں کسی قسم کے چیلنجز سامنے نہ آئیں۔ ہمارے پورے انتظامی اور سکیورٹی پلان کی وجہ سے تاریخی طور پر پرامن انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا کسی کو اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کا موقع نہیں ملا ساتھ ساتھ سیاسی قوتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کشادہ دلی اور ہم آہنگی کے ماحول میں الیکشن کا انعقاد ہوااور یہ عمل انتخابی دن تک جاری رہا۔ نگران وزیراعلیٰ نے عوام کو اپنی مرضی کے مطابق پر امن ماحول میں اپنا ووٹ استعمال کرنے پر مبارکباد دی ۔ اُنہوں نے پولیس انتظامیہ اور فوجی جوانوں کو بھی مبارکباد دی اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نظر آنے والے متعدد چیلنجز کا سامنا تھا ایک مشکل صورتحال میں پرامن انتخابات کے انعقاد میں کامیابی ہمارے لئے اعزاز سے کم نہیں ۔ ہم اُن سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں پاکستان کے کاز کیلئے کوششوں میں کامیاب کیا۔ اُنہوں نے کہاکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے اخلاص کی وجہ سے سرخروکیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول