شکست خوردہ عناصر کا اسلام آباد میں اکٹھ، اب کیا نیا ہو نیوالا ہے؟

شکست خوردہ عناصر کا اسلام آباد میں اکٹھ، اب کیا نیا ہو نیوالا ہے؟

ڈیرہ غازی خان (خصوصی رپورٹ) ملک بھر کی طرح ڈیرہ غازی خان کے عوام نے بھی کہا ہے کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور سرکاری ملازمین (بقیہ نمبر6صفحہ12پر )

مبارکباد کے مستحق ہیں کہ 2018کے عام انتخابات کا پرامن‘ صاف اور شفاف انعقاد یقینی بنا۔ فافن کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور دیگر غیرملکی مبصرین نے بھی 2018کے عام انتخابات کی شفافیت کا اظہار کیا ہے۔ ایسے میں متوقع وزیراعظم عمران خان کے ایک متوازی خطاب نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ دوسری طرف شکست خورہ عناصر آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہیں اور مستقبل کی پلاننگ کی جارہی ہے۔ بھلا کون سوچ سکتا تھا کہ مولانا فضل الرحمن‘ محمود خان اچکزئی‘ اسفند یار ولی‘ یوسف رضا گیلانی‘ اویس احمد خان لغاری‘ جمشید دستی اور ان جیسے دوسرے سیاست میں ناقابل شکست چاروں شانے چت ہوجائیں گے۔ جمشید دستی کو اللہ نے بہت عزت دی تھی لیکن وہ کسی اور دنیا کے رہنے والے نکلے۔ ان کی گرفتاری اور ڈیرہ غازی خان قید پر سب سے زیادہ احتجاج اور ان کی حمایت پاکستان تحریک انصاف نے کی لیکن وہ پی ٹی آئی کے بارے میں بھی کبھی اچھی رائے نہ رکھتے تھے۔ ان نتائج سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ فلم چاہئے جتنی بھی دلچسپ ہو تین گھنٹے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ٹرن اوور اتنا زیادہ کبھی نہیں رہا جتنا 2018کے عام انتخابات میں نظر آیا۔ قوم اس وقت متوقع وزیراعظم عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے جو عزم و ہمت کی روشن مثال ہیں اور یہ بھی امید کی جارہی ہے کہ عمران خان اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ‘ پنجاب اور بلوچستان میں بھی حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ ضلع ڈیرہ غازی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 190پر پی ٹی آئی کے امیدوار سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی کامیابی کے اعلان کے بعد اچانک انکے سیاسی شاگرد اور کزن سردار امجد فاروق خان کھوسہ کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی طرف سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کامیابی کے اعلان کے بعد اچانک رزلٹ کی تبدیلی کے فیصلے کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا کہا گیا ہے۔ شہر بھر میں یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ سردار اویس احمد خان لغاری کو بھاری اکثریت سے ہرانے والی زرتاج گل کو شاید قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر ذمہ داریاں دی جائیں۔

نئی صف بندی

مزید : ملتان صفحہ آخر