آفاق احمد پارٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوگئے

آفاق احمد پارٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوگئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد انتخابی نتائج سے دل برداشتہ ہوکر پارٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہوگئے۔آفا ق احمد نے کہا کہ انتخاب کی ایسی نظیر کہیں نہیں ملتی۔الیکشن میں بہت ساری انجینئرنگ کی گئی ہے۔ہم سازشوں کو ناکام بنانے میں ناکام رہے۔کارکنان مجھ سے بہتر چیئرمین منتخب کرلیں۔جو میں نے پچھلی نیوز کانفرنس میں کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا۔میں نے کہا تھا یہ کنٹرول انتخابات ہیں پھر بھی ہم نے حصہ لیا۔میں نے یہ بات بھی کہی تھی کے باہر کے لوگوں کو لانا چاہتے ہیں۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ شہر ان کے ہاتھوں سے چھینا جارہا ہے۔میری باتوں پر دھیان نہیں دیا گیا اور آج یہ شہر ہاتھوں سے نکل گیا۔میں نے ہمیشہ کہا کہ ہمارے ساتھ ایجنسیاں نہیں ہیں یہ داغ بھی دھل گیا۔عمران خان نے انقلابی تبدیلوں کا وعدہ کیا ہے۔جو وعدے کیے ہیں اس پر عمل کریں گے تو ہم ان سے تعاون کریں گے۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ ڈیفنس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔آفاق احمد کی جانب سے چیئرمین شپ چھوڑنے کے اعلان پر کارکنان کی جانب سے شدید مخالف کی گئی اور نعرے بازی کی اور کنان رونے لگ گئے۔آفاق احمد نے کارکنان نے اسرار کے باوجود استعفی واپس لینے سے انکار کر دیا۔ آفاق احمد نے کی پارٹی چیئرمین شپ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں نتائج کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔میں فیصلے تبدیل کرنے والا فرد نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اب نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے الیکشن میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ پارٹی میں جمہوریت روایات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ کارکن کے ساتھ قیادت بھی غلطی کرسکتی ہے۔ کارکن کی حیثیت سے اس قوم کے لئے آخری سانس تک جدوجہد کروں گا۔ کارکنان مینجنگ کمیٹی بنائیں اور پارٹی کو دوبارہ مضبوط کریں۔انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ شہر ان کے ہاتھوں سے چھینا جارہا ہے۔میری باتوں پر دھیان نہیں دیا گیا اور آج یہ شہر ہاتھوں سے نکل گیا۔انہوں نے کہا کہ آفاق احمد مہاجر قوم سے آخری سانس تک جڑا رہے گا۔میں کارکن کی حثیت سے کام کروں گا۔بہت سے لوگ میری اصول پسندی کی وجہ سے پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔انہوں نے کارکنان سے کہا کہ مجھے فاروق ستار نہ بناو میں نے فیصلہ کرلیا تو کرلیا۔مجھ سے بہتر چیئرمین منتخب کرلیں۔ آفاق احمدنے کہا کہ میں کارکنوں کے ساتھ رشتہ ختم نہیں کرہا۔میں اپنے نظریے پر قائم ہوں۔ہم سازشوں کو ناکام بنانے میں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری پارٹی کے لوگوں کو بھی اپنا لیڈرز کا احتساب کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ پریس کانفرنس جو کہا وہ سچ ثابت ہوا۔میں نے کہا تھا یہ کنٹرول انتخابات ہیں پھر بھی ہم نے حصہ لیا۔سب ہی شکایت کررہے ہیں کہ کسی کو فارم 45 نہیں دیا گیااور کوئی اور شکایت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو رات 3 بجے تک انتظار کرایا گیا۔انتخاب کی ایسی نظیر کہیں نہیں ملتی۔الیکشن مہم کے دوران یہ بات بھی کہی تھی کے باہر کے لوگوں کو لانا چاہتے ہیں۔میں کہا تھا پی ایس پی,ایم کیو ایم اور ہم موجود ہیں۔الیکشن میں بہت ساری انجنئیرنگ کی گئی ہے۔غلطیاں ہوئیں ہیں مجھے اس پر دکھ ہے۔ان نتائج نے سب کو حیران کردیا ہے۔میں اس جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتا جو ہوگیا سو ہوگیا۔ہم پر جو الزامات تھے وہ غلط ثابت ہوگئے۔میں نے ہمیشہ کہا کہ ہمارے ساتھ ایجنسیاں نہیں ہیں یہ داغ بھی دھل گیا۔ہم جمہوری قوتوں کے ساتھ ہیں ۔ووٹ کی قدر و قیمت ختم ہورہی ہے ۔یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ ہم نے ووٹ دیا اور ڈبے سے نکلا نہیں ہے۔مہاجر قومی موومنٹ اس ملک اور شہر کی بہتری کے لیے جو کرسکی کرے گی۔1986 والا ماحول تھا اور لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے تھے۔ہمارے لوگوں کی یہ شکایت بھی تھی کہ مہاجر قومی موومنٹ کا کارڈ لیکر جانے پر پولنگ اسٹیشن میں جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ عمران خان نے جو باتیں کیں وہ مناسب تھیں ۔عمران خان نے انقلابی تبدیلوں کا وعدہ کیا ہے۔جو وعدے کیے ہیں اس پر عمل کریں گے تو ہم ان سے تعاون کریں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول