”عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن یہ کام نہیں کر سکیں گے“ عالمی جریدے ’ٹائم‘ نے ایسی بات کہہ دی کہ کپتان پریشان ہو جائیں گے

”عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن یہ کام نہیں کر سکیں گے“ عالمی جریدے ...
”عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن یہ کام نہیں کر سکیں گے“ عالمی جریدے ’ٹائم‘ نے ایسی بات کہہ دی کہ کپتان پریشان ہو جائیں گے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں سوِل ملٹری کشمکش کوئی نئی بات نہیں۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو ایک بحث چھڑ جاتی ہے کہ آیا اس حکومت کے دور میں سوِل ملٹری تعلقات کس طرح کے ہوں گے اور پالیسی سازی میں سویلین حکومت کا کردار کتنا ہو پائے گا۔ ان عام انتخابات میں تحریک انصاف کی حکومت بننے پر عالمی جریدے ’دی ٹائم‘ میں شائع ایک آرٹیکل میں بھی اسی موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ لندن کے تھنک ٹینک ایشیاءپیسیفک پروگرام کی ماہر فرزانہ شیخ نے اپنے اس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ”عمران خان وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن پالیسی سازی میں ان کا کردار اپنے پیشروﺅں سے زیادہ نہیں ہو پائے گا۔عام انتخابات کے نتائج سے ابھرنے والے ’نئے پاکستان‘ کا جو بھی منظرنامہ ہو لیکن اس نئے پاکستان میں بھی حکومت کی علاقائی پالیسیوں میں تبدیلی کی توقع بے کار ہے۔ جیت کے بعد عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں جو کچھ کہا اس سے واضح ہو گیا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے تسلسل پر مصر ہیں اوراس کی وجہ سمجھنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔“

فرزانہ شیخ مزید لکھتی ہیں کہ ”دہائیوں سے پاکستان کی افغانستان اور بھارت سے متعلق علاقائی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں رہی ہے اور اسے نیشنل سکیورٹی کا ذیلی عنصر ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب کبھی کسی منتخب حکومت نے ہمسایہ ممالک، بالخصوص بھارت کے متعلق آزادانہ علاقائی پالیسی بنانے کی کوشش کی یا مذاکرات کا آغاز کیا اس کا منطقی انجام بھاری سزا کی صورت میں سامنے آیا۔ یقینا کئی سیاسی جماعتیں میاں نواز شریف کی نااہلی سے سبق سیکھ چکی ہوں گی جنہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور افغانستان میں لڑنے والے شدت پسندوں کی حمایت ختم کرنے کی کوشش کی اور غیض و غضب کا شکار ہو گئے۔تحریک انصاف کی نئی منتخب حکومت اپنی جیت کے جذبے سے مغلوب ہو کر بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوئی آزمائشی کوشش کر سکتی ہے تاہم اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ اس کوشش میں اسٹیبلشمنٹ کے متعین کردہ راستے سے ہٹنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح پاکستان کی افغانستان، ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا بھی کوئی امکان نہیں۔“

مصنفہ مزید کہتی ہیں کہ ”تحریک انصاف کی حکومت چین کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دے گی۔ وہ چینی قرضے کے حوالے سے میاں نواز شریف اور ان کی جماعت پر غصہ اتارتی رہی ہے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے پاک چین اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو کیونکہ یہ ایسا منصوبہ ہے جسے پاکستان کے تمام طبقات کی حمایت حاصل ہے اور فوج بھی اس منصوبے کا بھرپور دفاع کرتی آ رہی ہے۔“

مزید : برطانیہ