وہ سب جو نہ ہوسکا 

وہ سب جو نہ ہوسکا 
وہ سب جو نہ ہوسکا 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

25جولائی سے پہلے لاہور اور اسلام آبادکے بیشتر قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ٹی وی پروگرام کے سلسلے میں جانے کا موقع ملا۔الیکشن سے پہلے کی گہما گہمی اور پولنگ کا دن یہ دو مختلف باتیں ہیں۔یہ اس لیے کہہ رہا ہوں خود کئی حلقوں کا نتیجہ دیکھ چکا ہوں ان حلقوں میں عوام کی رائے سن چکا ہوں۔پورے لاہور میں الیکشن ضرور تھا مگربات صرف اس حلقے پر زیادہ ہورہی تھی جہاں سے عمران خان اور خواجہ سعد رفیق میدان میں اترے تھے۔اسی حلقے کا رہائشی رہا ہوں یوں سمجھیے پیدائش بھی اسی حلقے میں ہوئی۔

پولنگ ڈے پر این اے   130،131،136سمیت کئی صوبائی حلقوں کے پولنگ سٹیشنز دیکھے ووٹرز سے بات بھی کی۔اگلے دن کئی احباب نے پوچھا پولنگ ڈے پر کوئی دھاندلی ہوئی تو میرا جواب تھا، پولنگ کا عمل شفاف رہا،یہ بات اپنی جگہ ریکارڈ پر ہے متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولنگ دیر سے شروع ہوئی۔خوو ہم جب ووٹ کاسٹ کرنے گئے تو پولنگ کے وقت سے آدھے گھنٹے کی تاخیر سے پولنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

ہمارا پولنگ سٹیشن رہائش سے تقریبا 8کلومیٹر کی دوری پر ایک دیہات میں بنایا گیا تھا۔اسی طرح الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے میڈیا کارڈ جاری کیے جانے کے باوجود میڈیا کے نمائندوں کو کئی پولنگ سٹیشنز میں داخل ہونے کی سیکورٹی اداروں کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی۔ایسا لگتا تھا جیسے پولنگ سٹیشنز پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کو اس حوالے سے بتایا ہی نہیں گیا کہ میڈیا کو جاری کردہ کارڈز پر انہیں پولنگ کے عمل کا جائزہ لینے کی اجازت ہے۔

نتائج میں تاخیر اور کئی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس کو رزلٹ دیے بغیر باہر نکال دینے کی خبروں نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے۔یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے بہرحال غفلت ہوئی ہے۔یہ پاکستان کا سب سے بڑا ایونٹ تھا جس سے پورے پاکستان کے عوام کے جذبات وابستہ ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے الیکشن کے نتائج میں اتنی تاخیر سے شکوک و شبہات اور فرسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ نامزدوزیراعظم عمران خان قوم سے متاثر کن لہجے میں خطاب کرچکے ہیں۔اپنے حامیوں کے ہی نہیں مخالفین کے دل میں بھی پہلے خطاب سے جگہ بناچکے ہیں۔مجھے اس خوشگوار پہلو پر بھی بات کرنی ہے کہ این اے 131 میں کئی اوورسیز ملے جو پوری فیملی کے ساتھ پاکستان صرف ووٹ کاسٹ کرنے آئے ہوئے تھے ۔جتنے بھی اوورسیز ملے یہ سب عمران خان کے ووٹرز تھے۔لاہور کے اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق الیکشن جیتتے آئے ہیں سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان بھی یہاں سے ایم این اے رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔اسی کے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے پرانے لیگی ورکر یسین سوہل نے پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کو شکست دی ہے۔خود عمران خان یہاں صرف چند سو ووٹوں سے جیتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ عمران خان اگر اس نشست کو چھوڑتے ہیں تو یہ نشست دوبارہ مسلم لیگ ن کے پاس جاسکتی ہے۔ الیکشن سے پہلے کئی افواہیں اس زبردست اندازمیں پھیل چکی تھیں کہ عوام میں ایک تاثر تھا کہ یہ سب ہو کر رہے گا۔پہلے یہ افواہ زبان زد عام تھی الیکشن سے پہلے کچھ ہوجائے گا اور الیکشن ملتوی کردیے جائیں گے۔مگر ایسا نہیں ہوا۔

یہ تاثربھی عام تھا کہ جس امیدوار کو بھی جیپ کا انتخابی نشان ملا ہے اس امیدوار کے پیچھے ایسی کوئی طاقت ہے جس کی وجہ اس امیدوار کی فتح یقینی ہوچکی ہے۔مگر حالت یہ ہے کہ چوہدری نثار ایسے ہیوی ویٹ ایک صوبائی نشست کے علاوہ سب ہار گئے۔ایک افسوسناک بات بھی گردش کرتی رہی کہ خدانخواستہ محترمہ کلثوم نواز کی وفات کی خبر الیکشن سے ایک دن پہلے دی جائے گی اور پھر پانسہ ن لیگ کے حق میں پلٹ جائے گا۔اس طرح کی باتیں کرنے والے بقراطیوں کو یاد رکھنے میں کوئی حرج نہیں،ایک تاثر جو بہت عام تھا کہ کچھ بھی ہوجائے عمران خان وزیراعظم نہیں بنیں گے بلکہ وزیراعظم کوئی گمنام سا بندہ ہوگا،اسی طرح کہا جاتا رہا پاک سرزمین پارٹی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہ بھی کافی نشستیں لے جائے گی اب حقیقت یہ ہے کہ مصطفی کمال اپنی نشست بھی حاصل نہیں کرسکے۔یہ بھی کہا گیا لیاری میں اگر پیپلز پارٹی کھمبے کو ٹکٹ دے تو وہ بھی جیت جاتا ہے مگر اسی حلقے سے بلاول بھٹو ہار گئے۔اسی طرح بہت سی باتیں اور افواہیں جو ہمارے سقراط اور بقراط پھیلاتے رہے، خیر مجھے وہ سب یاد کرواکر آپ کامزہ کرکرا نہیں کرنا۔دعا ہے کہ نئے پاکستان میں سب اچھا اچھا ہو۔

..

نوٹ:   روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ