شکست خوردہ لوگوں کا بیانیہ

شکست خوردہ لوگوں کا بیانیہ
شکست خوردہ لوگوں کا بیانیہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہار جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہوتا ہے اور اسپورٹس مین اسپرٹ یہی ہوتی ہے کہ شکست کو بھی خوشدلی سے قبول کیا جائے مگر سیاست کے کھیل میں ہمارے یہاں گنگا الٹی بہتی ہے انتخابات شفاف ھوئے ہوں یا میلے ہارنے والوں نے قسم کھائی ہوتی ہے کہ نتائج تسلیم نہیں کرنے ہیں۔ 

مرکز۔ ینجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت بناتی نظر آرہی ہے سندھ پیپلزپارٹی کا اور بلوچستان حسب روایت سب کا ہوگا۔اپوزیشن نے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر لی ہے جس میں پیپلزپارٹی نے شرکت سے گریز کیا اور کہا کہ انکی اپنی پارٹی میٹنگ چل رہی تھی۔

بظاہر تو سب نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے مگر ان میں سب سے زیادہ اونچی آواز مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی نظر آرہی ہے کیونکہ انکو اپنے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑے مارجن سے شکست ہوئی ہے اور انکے حلقے کے لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

ن لیگ کو کہیں یہ امید نظر آرہی ہے کہ شاید وہ پنجاب میں حکومت بنا لے اس لئیے اسکے رویے میں مزاحمت نظر نہیں آرہی ہے ۔ ویسے بھی شہبازشریف صاحب کا بیانیہ مصالحانہ ہے مگر نوازشریف کے جارحانہ رویے کے باعث وزارتِ عظمیٰ تو کیا ہاتھ آتی خادمِ اعلیٰ کا منصب بھی دور جاتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی عدم شرکت بھی بہت سے سوالوں کو جنم دے رہی ہے ۔ یوں تو بلاول بھٹو نے بھی انتخابی نتائج مسترد کر دئیے ہیں مگر احتجاجی سیاست کے بجائے انکا فوکس سندھ پر رہے گا اور دباؤ قائم کرنے کے لیئے بیانات چلتے رہیں گے۔

سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ پاکستان کے عوام کو کیا پڑی ہے کہ فضل الرحمن اور محمود اچکزئی جیسے مسترد شدہ لوگوں کے لئیے احتجاج کرے اور مزاحمت کی سیاست کرے۔جلسوں کی سیاست اور ہوتی ہے جبکہ دھرنے اور لانگ مارچ کے لئیے دل جگرا چاہیے جسکے لئیے ڈاکٹر طاہرالقادری بننا پڑتا ہے جس کے پا س اسٹریٹ پاور بھی ہو تنظیم بھی ہو اور خواتین کارکنان کی بھرپور تعداد بھی ہو جو احتجاجی تحریک کا ماحول بناتی ہیں مدارس کے طلباء کے ساتھ جلسے کرنا اور عوامی احتجاج کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ ویسے بھی جمیعت علماء اسلام میں خواتین کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ رہی محمود خان اچکزئی تو شاید انہیں اپنے حلقے میں ہی دھرنا دینا پڑے ۔دوسری مناسب جگہ افغانستان ہے جہاں انکا بیانیہ مقبول ہے۔ سراج الحق صاحب نے پانچ سال تحریک انصاف کا اتحادی رہنے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن سے تعلق جوڑ لیا مگر یہ گٹھ جوڑ بھی انکے کام نہ آسکا ایک سیٹ وہ جیت گئے ہیں مگر جماعت اسلامی کو بہت کمزور کر گئے ہیں انکی ایک ہی پالیسی ہے کہ انکی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ 

اگر یہ جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انکے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے تو انکا کام تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے سامنے بیٹھ جاتے اور جب تک درست رزلٹ نہیں ملتا نہیں اٹھتے تو انکا موقف زیادہ مضبوط ہوجاتا۔منتشر ہوتی ہوئی متحدہ بھی شکست سے دو چا ر ہوئی ہے ،اسکی مثال کراچی کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی مگر متحدہ رہنماؤں کی آپس میں کو آرڈینیشن اتنی اچھی ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں پہنچ گئے جبکہ کنوینئر رابطہ کمیٹی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تحریک انصاف والوں سے رابطے کر رہے تھے۔

ساری عمر لیلیٰ اقتدار کا طواف کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن احتجاجی سیاست کا علمبردار بن سکیں گے یہ منظر دیکھنے والا ہوگا۔دوسری طرف عمران خان نے اپنی ابتدائی تقریر میں کہہ دیا ہے جو حلقے کھولنے ہے وہ اسکے لیئے تیار ہیں یہ کہہ کر انہوں نے گیند اپوزیشن کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔اقتدار کی صف میں سب کے ساتھ کھڑا ہونا آسان ہے۔ وہاں مفادات مشترکہ ہوتے ہیں جبکہ ایوزیشن میں اسکے بر عکس حالات ہوتے ہیں ،شکست خوردہ لوگوں کا ایک ہی بیانیہ ہوتا ہے کہ ہمیں اقتدار سے کیوں نکالا۔

۔

نوٹ:   روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ