میرا گمان کہتا ہے کہ اے خان تجھے مہاتیر کہوں ، ماؤ یا پھر اردگان؟ 

میرا گمان کہتا ہے کہ اے خان تجھے مہاتیر کہوں ، ماؤ یا پھر اردگان؟ 
میرا گمان کہتا ہے کہ اے خان تجھے مہاتیر کہوں ، ماؤ یا پھر اردگان؟ 

  

مئی 2013 کی شام میرے آبائی شہر ملتان کی سڑکوں پر عوام کا ایک سیلاب امنڈ آیا تھا۔میری گاڑی کے سامنے ایک ایمبولینس تھی اور بری طرح ہجوم میں پھنسی تھی۔میں نو جوان لڑکوں کے ایک ہجوم پر شائستگی سے برسنے کی تیاری میں تھا جو ایمبولینس اور میرا راستے روکے آگے کھڑا تھا ۔اس سے پہلے کہ میں گاڑی سے اترتا ،اس ہجوم نے ایمبولینس کو تیزی سے راستہ دینا شروع کردیا ،میں نے بھی غنیمت جانا اور ایمبولینس کی اوٹ میں اس ہجوم کے بیچ میں سے نکل آیا۔صاف ستھرے کپڑے پہنے،سلجھے ہوئے لوگ،ہاتھوں میں بلے اٹھائے کہاں جارہے تھے؟یہ سب اسی شخص کے سیاسی جلسے میں شرکت کے لئے جارہے تھے کہ جس نے اس قوم کو کرکٹ کا بادشاہ بنایا تھا۔یہ شخص تھا عمران خان۔جنون،جوش،ولولہ یاں پھر حب الوطنی ایسا کیا تھا اس ہجوم میں7 مئی 2013 کی شام میں نے جوانوں کو سڑکوں پر روتے دیکھا۔معلوم ہوا کہ عمران خان لفٹر سے گر کر زخمی ہوگئے ہیں اور سب پریشان ہیں۔اس دن میں نے لوگوں کے چہروں پر خوف اور جذبے کے ملے جلے جذبات دیکھے۔وہ شخص خود کیا گرا،پوری قوم ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔دنیا میں گنتی کے چند لوگ ہوں گے جنہیں قومیں اتنا پیار کرتی ہیں۔شوکت خانم ہسپتال کے باہر پھولوں اور دعائیہ کلمات والے خطوط کے انبار لگادئیے گئے۔سوشل میڈیا پر ایک سمندر امنڈ آیا اور ایسا لگا کے جیسے 11 مئی کا فیصلہ قوم نے 7 مئی کو کرلیا ہے۔ 

یہ میرے دس مئی 2013 کو تحریر کیے گئے کالم ’ ہماری قوم کا مہاتیر ‘ کی چند سطور ہیں۔ عمران شوکت خانم ہسپتال میں تھا ،سارے تجزیہ نگار ،کالم نگار عمران خان اور تحریک انصاف کی 2013 کے الیکشن میں کامیابی کی نوید سنا چکے تھے، مگر الیکشن کی رات ساڑھے دس بجے نواز شریف نے تقریر شروع کی تو نتیجہ 180 کے زاویے پر فرق تھا، خیبر پختونخواہ میں حکومت اور مرکز میں تیس بتیس نشستیں، سب کچھ نواز لیگ نے سمیٹ لیا تھا اور تحریک انصاف بہت مضبوط اپوزیشن بنانے کی بھی پوزیشن میں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ اس پر تحریک انصاف نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا اور ملکی تاریخ کا سب سے طاقتور دھرنا دیا۔ اس دھرنے پر عمران خان پر شدید الزامات عائد کیے گئے، جس میں سب سے بڑا الزام خفیہ طاقتوں کے ساتھ مل کر حکومت گرانے کا بھی تھا، اسی طرح جمہوریت کو پٹری سے اتارنے اور ملک کو تاریخی معاشی نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ دھرنا بظاہر تو ختم ہوگیا، مگر اس کے نتائج یقیناً بہت دور رس تھے،جو دیکھنے میں اتنے گہرے نظر نہیں آرہے تھے۔ ن لیگ سرکار نے بوکھلاہٹ میں غلطیاں شروع کیں اور یہ دھرنا نواز شریف کی اداروں سے ٹکراؤں کی بنیادی سیاسی روش کو واپس لے آیا۔ سرکار کی شروعات میں ہی نواز شریف نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی سے وار کر لیے تھے اور عمران خان کے لیے انہیں گرانا آسان تھا۔ سنگین غلطیوں اور پھر ہر آئے دن کے ساتھ وزراء میں آئی فرعونیت اور زبان کا بے قابو ہوجانا، یہ سب ملک میں بڑھتی ،غربت، بے چینی اور دن بدن بین الاقوامی سطح پر پاکستانیوں کی عزت میں کمی کو اضطراب میں بدلتا گیا۔ 

پاکستانی قوم نے آزادی کے بعد سے جاگیرداری، وڈیرانہ نظام ، موروثیت اور آمریت کے علاوہ دیکھا کیا ہے۔ حیران کن طور پر 1996 ء میں گلوکار جواد احمد جیسی ایک بے ضرور سی سیاسی پارٹی بنانے والا کپتان ، چند سالوں میں 2013 ء کے طاقتور ترین دھرنے والا کپتان بن چکا تھا۔ اس دھرنے نے جہاں کپتان کو مضبوط کیا ، وہیں اس کو مضبوط ترین سیاسی ٹیم بھی دی، تحریک انصاف کو لڑنا آگیا اور دھرنے سے ایوانوں میں لوٹنے والی تحریک انصاف تعداد میں قلیل ،مگر ن لیگ حکومت کے لیے مہلک ترین اپوزیشن ثابت ہوئی۔ پچھلے دور حکومت میں لوڈ شیڈنگ اور دھشت گردی میں کمی کے علاوہ شاید کچھ ایسا نہیں ہوا جس کو ہم قومی سطح پر حکومتی تاج پہنا سکیں، پھر ن لیگ کا ضیا الحق کی گود سے مذہبی خاکہ لبرل جماعت کی جانب گامزن ہوتا ،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام مذہبی جماعتوں کو ناراض کرتا، اپنا اچھا خاصہ مذہبی ووٹ بنک بھی توڑ بیٹھا۔ ممتاز قادری کی پھانسی ، تحریک لبیک کا قیام، طاہر القادری کی بدترین مخالفت ،ماڈل ٹاؤن سانحہ، ختم نبوت کے قانون میں ترمیم اور پھر بے دریغ وزیروں کے فرعونیت کے نشے میں ایسے بیانات جو اشتعال بڑھاتے رہے، یہ سب نواز لیگ کی جڑوں میں بیٹھتا گیا۔ 

آج بھی محقق اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت عمران خان دھرنے کے بنیادی مطالبہ چار حلقوں کو کھول دیتی تو آج 2018ء میں اڈیالہ جیل کا دروازہ ان پر نہ کھلتااور پھر الیکشن میں پوری پارٹی کو یوں چت نہ ہونا پڑتا۔ دھرنے نے جہاں عمران کو انتقامی اپوزیشن سکھا دی، وہیں اسے مذہبی جماعتوں کی ہمدردی بھی ملی اور پھر پانامہ آگیا، خان کو ہنگامہ آگیا تھا اور یہ سب پہلے نا اہلی، پھر ریفرنس اور سزا ،اور اڈیالہ تک پہنچ گیا۔ سیاسی ناقدین کی رائے میں ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل نواز شریف اور مریم نواز کا واپس آنا اور اس پر خاندانی اقتداری تفریق میں کمزور ترین استقبال ثابت ہوا۔ خیال یہی تھا کہ نواز شریف کا استقبال نیلسن مینڈیلا جیسا ہوگا اور تاریخ بدل جائے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ بھی خیال تھا کہ اڈیالہ کے جیل کا پرانا گدا اور وینٹیلیٹر پر پڑی کلثوم نواز ہمدردی کا ووٹ شیر کی جھولی میں ڈال دے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اپنے آبائی شہر ملتان سے شروع کروں تو احمد حسین ڈاہڑ، ملک عامر ڈوگر، مخدوم شاہ محمود قریشی،زین قریشی اور محمد ابراہیم خان پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا۔ لاہور سے خواجہ سعد رفیق، این اے 53 اور پھر عباسیوں کے گڑھ مری سے خاقان عباسی، این اے62 سے چوہدری تنویر کے بیٹے اور ن لیگ کے سوشل میڈیا ہیڈ بیرسٹر دانیال، میانوالی عبداللہ شادی خیل، فیصل آباد سے عابد شیر علی اور طلال چوہدری اور بھی کئی بڑے بڑے برج پی ٹی آئی کی سونامی میں بہہ گئے۔ این اے 60 کے امیدوار ایفیڈرین کیس میں حنیف عباسی کی سزا، پھر کے پی کے میں فضل الرحمان اور بلور صاحب کی شکست اور کے پی کے میں دوسری بار ایسی پارٹی کا سویپ جس نے وہاں حکومت کی ہو، کراچی میں عامر لیاقت کا پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر فاروق ستار کو ایم کیو ایم کے گڑھ سے ہرا دینا ، کراچی میں 14 نشستیں جیت کر پی ٹی آئی کا ایم کیو ایم کے گڑھ سے سویپ کرنا ،یہ سب یقیناً پاکستان سیاست میں انقلاب ہے۔ ان انتخابی نتائج سے یہی لگ رہا کہ پاکستان کو عمران خان نے جو شعور دلانا تھا ،وہ 2013 میں سٹیج سے گرنے سے نہیں آیا، مگر دھرنے میں کی تقریروں سے آگیا۔ پاکستان کی عوام اب خاندانی سیاست، اور بدمعاشی کلچر سے تنگ آچکے ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے تھے اور انہوں نے اسی کو ووٹ دیا۔ ان الیکشن کے نتائج جہاں تبدیلی کو تقویت دے رہے ہیں وہیں2013 ء کے الیکشن کو سرکاری مشینری کے تابع ہونے پر بڑے پیمانے پر دھاندلی ہونے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔ سندھ آج بھی پیپلز پارٹی کا ہے،گو وفاق کی علامت یہ پارٹی اب صوبے تک محدود ہوگئی ہے اوریہ اعزاز بھی آنے والے وقت میں چھینا جاسکتا ہے۔ 

عمران خان کا نیشنل اسمبلی کی پانچوں نشستیں جیت کر ذو الفقار علی بھٹو کا سابقہ ریکارڈ توڑنا ، تحریک انصاف کی وفاقی جماعت ہونے کی نشانی ہے ۔ ووٹ صرف بلے کو پڑا، اس پر ایک اور ثبوت ، چوہدری نثار کی جیپ کی ہار ہے، راقم القلم دیلی پاکستان آن لائن کی الیکشن کوریج میں خود این اے59 گیا، لوگ شدید غصے میں تھے، نثار صاحب کے ذہن میں کیسی سیاست چل رہی تھی یا وہ بھی اگلے شیخ رشید بننا چاہ رہے تھے، جو بھی تھا، انہوں نے وفائی اور بے وفائی کے چکر میں اپنی سیاست کو جاوید ہاشمی ٹرن دے دیا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر غلام رسول نے انہیں بدترین شکست دی اور ساتھ ہی این اے 62 سے شیخ رشید کی قلم دوات جو در حقیقت بلا ہی تھی، بیرسٹر دانیال کو ہرا کر ، عمران خان ٹیم کا اہم ترین رکن بن کر اسمبلی پہنچ گئی۔ عمران خان نے وکٹری سپیچ کی اور پوری دنیا کے چینل جن میں سی این این، بی بی سی شامل تھے ،اس سپیچ کو لائیو کوریج دینے پہنچ گئے۔ کوئی کارکنان کا شور نہیں، کوئی بھڑکیں نہیں، کوئی ہاروں کی دل آزاری نہیں، سفید شلوار قمیض میں ایک کرسی میز پر بیٹھا، پرسکون عمران خان۔ یہ عمران کنٹینر پر تقریریں کرتے عمران سے یکثر فرق تھا۔ ہم غریبوں کے سمند ر سے امیروں کے پر تعیش لاقانون جزیرے ختم کریں گے ، کرپشن کا خاتمہ کریں گے، احتساب مجھ سے اور میرے وزیروں سے شروع ہوگا اور خوشحالی غریب کسانوں اور مزدوروں سے، ہم وزیر اعظم اور گورنر کے گھروں کو سکولوں یا ہوٹلوں میں تبدیل کردیں گے، مجھے بہت کچھ کہا گیا، مگر پاکستان کے لیے سب کو معاف کیا ، بھارتی میڈیا جو بھی کہے،ہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیوں والے تعلقات اور امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، مخالفین جو حلقہ کہیں گے کھول دیں گے، ہم معشیت کو مضبوط کریں گے اور پاکستان کا انٹرنیشنل امیج بہتر کریں گے۔ کرپشن اس ملک کو کھا گئی ہے ۔ اس کو قابو کریں گے۔ یہ تقریر واقعی مہاتیر، ماؤ یا اردگان کی تقریر تھی۔ یہ پاکستانی قوم کے لیڈر کی تقریر تھی۔ اس میں نہ نواز تھا، نہ زرداری اور نہ ہی ان کی کرپشن ، عمران پلاننگ کے ساتھ ٹیم لے کر آیا ہے۔ کے پی کے اور نیشنل اسمبلی میں عمران کی حکومت یقینی ہے، گو 60 سے اوپر ن لیگ کی نشستوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی 30 سے اوپر نشستیں، میثاق جمہوریت جیسے کسی الحاق یا اے پی سی وغیرہ سے مشکل ترین اپوزیشن بنا سکتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب سوال ہے سب سے بڑی سرکار ، پنجاب سرکار کا؟ اس میں پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نشستیں برابر ہیں اور پی ٹی آئی نے آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر پنجاب میں سرکار بنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ 

میری رائے میں یہ فیصلہ عمران خان کے لیے مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ اگر پنجاب میں حکومت ن لیگ کو دے دی جائے تو سنٹر کی اپوزیشن کو کاؤنٹر کرنا آسان ہوگا، گو یہ فیصلہ خود پی ٹی آئی کو حالات دیکھ کر کرنا ہے۔ یہ پانچ سال پاکستان کی بقا کے پانچ سال ہیں ، بادل بتا رہے ہیں کہ بارش ہونے کو ہے، اب یہ رحمت بنتی ہے یا زحمت یہ وقت بتائے گا۔ 2013ء میں لکھی گونج ایک بار پھر دہراؤں گا،قوم کو عمران مل گیا ہے، اب یہ عمرا ن کا مقدر ہے کہ وہ اسے مہاتیر بنا دے۔آخر میں پاکستان میں تاریخ ساز الیکشن کے انعقاد اور کسی قسم کی دھاندلی کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن اور پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جن کی وجہ سے آج جمہور کو اپنا حق ملا ،وہ حق کہ جس کو اکثر مسلم ممالک ترس رہے ہیں۔ ہم اس معاملے میں بہت خوش نصیب ہیں۔

۔

نوٹ:   روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ