شاہد رہ، پولیس تشدد سے 40سالہ خاتون جا بحق، لواحقین کالاش جی ٹی روڈ پررکھ کراحتجاج

    شاہد رہ، پولیس تشدد سے 40سالہ خاتون جا بحق، لواحقین کالاش جی ٹی روڈ پررکھ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(کرائم رپورٹر)شاہدرہ پولیس نے ریڈ کے دوران تشدد کرکے40سالہ خاتون کوموت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتولہ کے لواحقین سراپا احتجاج بن گئے۔ جنہوں نے مقتولہ کی لاش مین جی ٹی روڈ پر رکھ کر احتجاج شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کے علاقہ بیگم کوٹ میں پولیس کی نفری بجلی چوری کے مقدمہ میں عمران کو پکڑنے کے لئے پہنچی جہاں بشیراں بی بی اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے آگے بڑھی تو ایس ایچ او مقصود گجر کے کہنے پر پولیس اہلکاروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بشیراں بی بی بے ہوش ہوکر گرگئی۔ خاتون کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے پولیس نے اہل خانہ پر تشدد جاری رکھا اس دوران خاتون دم توڑ گئی۔ خاتون کی ہلاکت پر اسکے محلے دار اپنے گھروں سے باہر نکل آئے جنہوں نے پولیس کے خلاف احتجاج شروع کردیا جس پرایس ایچ او شاہدرہ مقصور گجرنے مظاہرین کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔احتجاج ختم نہ ہونے پر ایس پی سٹی غضنفر شاہ نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جائے گا۔ مظاہرین کے احتجاج ختم کرنے پر پولیس نے مقتولہ کی لاش پوسٹمارٹم کے لئے مردہ خانہ جمع کروا دی اور اے ایس آئی سرور کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ بشیراں بی بی اپنے گھر میں چھوٹی سے دکان چلاتی تھی مقتولہ کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔مقتولہ کے بیٹے عمران کا کہنا ہے کہ انہوں نے افسران بالا کو ایس ایچ او مقصود گجر کے خلاف مقدمہ اندراج کا کہا مگر اس کرپٹ اورقاتل ایس ایچ او کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی موت طبیعت خرابی کی وجہ سے ہوئی ہے اسے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
مظاہرین میں شامل چند شرپسند عناصر جو احتجاج کی آڑ میں لوٹ مار کرنا چاہتے تھے انکو ایس ایچ او مقصود گجر کی طرف سے سمجھایا گیا تھا جسکی فوٹیج منظر عام پر آئی ہے۔ ایس ایچ او شاہدرہ کے شریف شہریوں کو دھمکیاں نہیں دی تھیں۔ مقتولہ کا پوسٹمارٹم کرایا جا رہا ہے رپورٹ آنے پر مزید تفتیش کی جائے گی۔

مزید :

علاقائی -