قومی ہاکی کے ساتھ یتیموں والا سلوک کیوں؟

قومی ہاکی کے ساتھ یتیموں والا سلوک کیوں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان ہاکی حکومتی عدم توجہ کے باعث دن بدن تیزی سے تنزلی کا شکار ہے اور جس طرح سے کھیل کا ملک میں مستقبل تباہ ہوتا نظر آرہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایک دن پاکستان میں یہ کھیل ہی ناپید ہوجائے گا۔ اگر پاکستان ہاکی کا ماضی دیکھا جائے تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اولمپکس میں تین بار کی چیمپئن ٹیم 2016ء کے اولمپکس کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرسکے گی۔ اس بدترین کارکردگی کے پیچھے فیڈریشن کی نااہلی اور کھلاڑیوں میں شوق کی کمی نمایاں ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پہلے ہاکی ورلڈکپ سے باہر ہوئے اور اب اولمپکس کیلئے بھی ٹیم کوالیفائی نہیں کرسکی۔ ہاکی کے اولمپئن کھیل پر توجہ دینے کے بجائے صرف اپنی نوکریاں بچانے کے لئے کام کررہے ہیں ان کو اس بات کی کوئی فکر ہی نہیں کہ کھیل کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا ہے اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے کیامسائل ہیں وہ تو صرف اور صرف اپنی مراعات بڑھانے کے لئے کام کررہے ہیں اور آج یہ کھیل اسی وجہ سے اس قدر تنزلی کا شکار ہوچکا ہے کہ اب اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بھی ایک طویل جدوجہد درکار ہے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کی ٹیم ا س وقت تاریخ کی بدترین رینکنگ پر پہنچ گئی ہے اور انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اپنی تازہ ترین رینکنگ جاری کردی ہے جس کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم پانچ د رجہ تنزلی کے بعد اب بارہویں سے سترہویں نمبر پر پہنچ گئی ہے سابق عالمی چیمپئن آسٹریلیا پرولیگ جیت کر پہلے نمبر پر آگئی ہے جبکہ بیلجئم دوسرے ہالینڈ تیسرے ارجنٹائن چوتھے اور بھارت کی ہاکی ٹیم پانچویں نمبر پر ہے اگر دیکھا جائے پاکستان ہاکی کی اپنی تاریخ میں یہ بدترین رینکنگ ہے نئی رینکنگ میں کینیڈا ملائشیاء جنوبی افریقہ اور جاپان کی رینکنگ پاکستان سے بہت بہتر ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ بھی افسوس ناک بات ہے کہ اب اگلے آٹھ سال پاکستان کوئی اولمپئن نہیں بنائے گا اور نہ اگلے آٹھ برسوں میں کوئی پاکستانی اولمپئن بننے میں کامیاب ہوگا۔ جو ٹیم، جو فیڈریشن اور جو حکومت اگلے آٹھ سال کوئی ایک اولمپئن نہیں بناپائے گا اس کے بارے میں کیا کچھ لکھا جائے جبکہ ہاکی کھیل کی ترقی کے لئے سابق اولمپیئن آصف باجوہ کو باضابطہ طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا سیکریٹری جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔سابق عظیم اولمپیئن شہباز سینئر کے استعفے کے بعد سے سیکریٹری جنرل کا عہدہ خالی تھا لیکن آصف باجوہ بھاری اکثریت سے سیکریٹری جنرل منتخب ہو گئے۔پی ایچ ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے بعد کانگریس کے اراکین نے بھی آصف باجوہ کو بھاری اکثریت میں ووٹ دے کر ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ہاکی فیڈریشن کونسل کے 110 ارکان میں سے 75 نے آصف باجوہ کو سیکریٹری جنرل بنانے کے حق میں ووٹ دیے۔سابق اولمپیئن کو رواں سال مئی میں پی ایچ ایف کے صدر نے سیکریٹری مقرر کیا تھا تاہم اب ایگزیکٹو بورڈ اور کانگریس اراکین کی جانب سے انتخاب کے بعد ان کی باضابطہ طور پر تقرری عمل میں آئی ہے۔آصف باجوہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سے میرا ایک ہی ہدف ہے کہ پاکستان ہاکی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اور مقامی سطح پر ہاکی کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دو سال کے وقفے کے بعد نیشنل ہاکی چیمپیئن شپ کے دوبارہ آغاز قومی کھیل کے لیے خوش آئند امر ہے اور امید ہے اس سال کے ایونٹ سے ہمیں نئے کھلاڑی ملیں گے۔آصف باجوہ دوسری مرتبہ ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری منتخب ہوئے ہیں جہاں اس سے قبل بھی وہ 2008 سے 2013 تک اسی عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔سابق سیکریٹری جنرل شہباز سینئر کے دور میں پاکستانی ہاکی تنزلی کا شکار رہی جہاں عالمی سطح پر پاکستان کی رینکنگ دن بدن گرتی رہی بلکہ مقامی سطح پر ڈومیسٹک ہاکی ایونٹس کا انعقاد بھی نہ ہو سکا اور فیڈریشن پر مالی بے ضابطگی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ جبکہ اس وقت ہاکی کے کھیل کی جو صورتحال ہے اس کو تو دیکھتے ہوئے یہ لگتا ہے کہ مستقبل میں کھیلے جانے والے میگا ایونٹس خاص طور پر ورلڈ کپ میں تو پاکستان کی ہاکی ٹیم شاید کوالیفائی ہی نہ کرسکے پاکستان کی ہاکی ٹیم کی اس صورتحال سے قومی ٹیم کے کھلاڑی بھی تشویش کا شکار ہیں جن کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان کامستقبل کیا ہے اور اس کھیل کے ساتھ وہ مستقبل میں منسلک رہ سکیں گے کہ نہیں پاکستان ایک وقت میں اس کھیل میں بہت اوپر تھا اور ہر ٹیم ہی اس کے خلاف کھیلتی ہوئی ڈرتی تھی اور آج صورتحال اس سے مختلف ہے اور پاکستان کی ٹیم ورلڈ رینکنگ میں اس وقت سب سے پیچھے رہ گئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے اور ان کو سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں جب تک کھلاڑیوں کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق سہولیات مہیا نہیں کی جائیں گی اس وقت تک پاکستان کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی اس کھیل میں آگے نہیں بڑھ سکتے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کھیل پر اسی طرح سے توجہ دی جائے جس طرح سے کرکٹ کے کھیل پر توجہ دی جاتی ہے اور آج تک کسی نے بھی اس کھیل پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے اس کھیل میں پاکستان کی ٹیم بہت پیچھے رہ گئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ حکومت جو ملک میں اس کھیل سمیت دیگرکھیلوں کی ترقی کے لئے بلند و بانگ دعوے کررہی ہے کیا وہ اس کھیل کی ترقی کے لئے کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتی ہے کہ نہیں اب وقت ہے کہ اس کھیل کی طرف حقیقی معنوں میں توجہ دی جائے اور وقت ضائع کئے بغیر اس کھیل کی ترقی کے لئے عملی طور پر کام کیا جائے اور ایسے لوگوں کو ہاکی فیڈریشن میں ذمہ داریاں دی جائیں جن کی بدولت وہ اس کھیل میں ترقی کرسکیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کھیل سے وابستہ افراد کی کمی نہیں ہے اور اب تک ان کو اس کھیل کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح سے ہاکی فیڈریشن کے کئی عہدے داروں کی نوکریاں خطرہ میں پڑسکتی ہیں مگر اب وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور سپورٹس مین ہونے کا عملی ثبوت دیں ان کو سیاسی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ اب ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لئے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے میرٹ کاخاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور جب تک میرٹ پر فیصلے نہیں کئے جاتے اسوقت تک پاکستان میں ہاکی کا کھیل ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی نیت صاف ہے اور اب تک انہوں نے عملی طور پر ملک کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل تعریف ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ان کو ملک میں کھیلوں کی ترقی کے لئے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب وہ اس جانب توجہ دیں اور پاکستان کے سابق ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑیوں کو موقع دیں کہ وہ اس کھیل کی ترقی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں اس وقت پاکستان کا یہ قومی کھیل بہت ہی پسماندگی کا شکار ہے اور اگر اس وقت اس پر توجہ نہ دی گئی تو پھر یہ کھیل اسی طرح سے مسلسل تنزلی کا شکار ہوجائے گا اور ایک وقت یہ بھی آسکتا ہے کہ اس کھیل کی واپسی کا وقت ہی گز ر جائے اور یہ کھیل پاکستان میں ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں اس کھیل کے ساتھ اس حکومت کی طرف سے کیسا سلوک کیا جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مگر اس کھیل کی ترقی پر توجہ دی جائے تو یہ کھیل ماضی کی طرح ایک مرتبہ دوبارہ عروج پر پہنچ سکتا ہے اور اس کے لئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس حکومت کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اسی میں اس کھیل کی بقا ہے اور اس حکومت کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قومی کھیل کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور اس کے لئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو چاہے ذاتی طور پر اس حوالے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے امید ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے گی ورنہ ملک میں ہاکی کا کھیل ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔جبکہ دوسری جانب شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی ہاکی کے کھیل کی زوال پزیری پر دل گرفتہ ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ ملک میں اس کھیل کو دوبارہ پروان چڑھایا جائے اور اس کے لئے وہ عملی طور پر خود بھی میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں پاکستان کی نامور اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہاکی کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور ہاکی کے کھیل کی ترقی پر خصوصی توجہ دیں سپورٹس مین ہونے کے ناطے ان کو تو ملک میں کھیلوں کی ترقی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے امید ہے کہ پاکستان میں یہ کھیل ایک مرتبہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی اور ان کے ساتھ ہاکی کھیلی جبکہ کھلاڑیوں نے مہوش حیات کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -