صدر ٹرمپ نے پاکستان کیلئے ایف 16طیاروں کی تکنیکی،لاجسٹک سپورٹ بحال کردی

صدر ٹرمپ نے پاکستان کیلئے ایف 16طیاروں کی تکنیکی،لاجسٹک سپورٹ بحال کردی

  واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے لیے ملٹری سپورٹ دوبارہ شروع کر دی، امریکا پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی ٹیکنیکل اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے ایف سولہ طیاروں کے لیے پاکستان کو لاجسٹک اور ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے کی منظوری دے دی جس کے تحت امریکا پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کے پرزے اور فنی خدمات فراہم کرے گا۔یہ اعلان وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے بعد سامنے آیا ہے۔امریکا کی جانب سے بھارت کے سی 17 ٹرانسپورٹ طیاروں کے لیے بھی 67 کروڑ ڈالر کے سپورٹ پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔امریکی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آلات اور سپورٹ کی مجوزہ فروخت سے خطے میں فوجی توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف 16 طیاروں کی فروخت سے امریکی خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکیورٹی کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس طرح سے امریکا ہر وقت اپنے فوجیوں کی موجودگی سے اپنی ٹیکنالوجی کا تحفظ کر سکتا ہے۔امریکی دفاعی سیکیورٹی کی آپریشن ایجنسی نے ضروری دستاویزات فراہم کرتے ہوئے کانگریس کو اس ممکنہ فروخت کے بارے میں اطلاع دے دی۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے ٹیکنیکل سپورٹ سروسز کی درخواست کی تھی جس میں امریکی حکومت اور کانٹریکٹر ٹیکنیکل اینڈ لاجسٹکس سپورٹ سروسز بھی شامل ہیں۔’پاکستان نے امن مہم  میں ایف-16 پروگرام‘  میں تعاون، آپریشنز کی نگرانی کے لیے لاجسٹک سپورٹ بھی طلب کی تھی۔پروگرام لاگت 12 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ 'اس فروخت کی پیشکش سے خارجی پالیسی اور امریکا کی قومی سلامتی کو امریکی اہلکاروں کی 24 گھنٹے نگرانی کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی کو تحفظ حاصل ہوگا'۔اس سپورٹ کی پیشکش سے خطے میں فوجی توازن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔خیال رہے کہ اس پروگرام کے لیے کانٹریکٹر بوز ایلن ہملٹن انجینیئرنگ سروسز ایل ایل سی ہے۔اس پروگرام پر عمل در آمد کے لیے کانٹریکٹر کے 60 نمائندوں کی پاکستان امن مہم ایف 16 پروگرام کی آپریشنز کی نگرانی کے لیے معاونت فراہم کریں گے۔امریکی دفاعی سیکیورٹی کی آپریشن ایجنسی نے کانگریس کو بتایا کہ 'فروخت کی پیشکش سے امریکی کا دفاعی تیاریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا'۔ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نوٹس قانون کے مطابق ضروری ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ فروخت کی جاچکی ہے'۔واضح رہے کہ اس طرح کی تمام درخواستیں ایک بحث کے بعد منظور کی جاتی ہیں، اگر کانگریس کی جانب سے درخواست مسترد کردی گئی تو بھی ٹرمپ انظامیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ سروسز فراہم کرسکتی ہے۔اس سے قبل پاکستان کو فراہم ہونے والی تمام ایف ایم ایس سپورٹ پروگرامز ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد پر افغان مقاصد میں واشنگٹن کی مدد نہ کرنے کے الزامات لگاکر روک دیے گئے تھے تاہم عمران خان کے دورہ واشنگٹن میں دونوں ممالک نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغان مسئلے پر ایک پیج پر ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ جلد طالبان رہنماؤں کو اسلام آباد بلا کر ان سے براہ راست بات کریں گے۔امریکی صدر نے امریکا اور طالبان وفود کے درمیان براہ راست ہونے والے دوحہ مذاکرات میں پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کیاادھرامریکہ نے پاکستان کے لئے عائد ٹریول ایڈوائزری پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی، ٹریول ایڈوائزری میں نرمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔  امریکہ نے پاکستان کا ایک مطالبہ مان لیا ہے اور پاکستان کے سفر کے لئے ٹریول ایڈوائزری پر نظرثانی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں حالیہ دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری میں نرمی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔  پاک امریکہ ٹریڈ انوسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ کونسل کا اجلاس بھی اس سال منعقد کرانے پر اتفاق ہوگیا ہے، امریکہ کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری میں نرمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

فنڈز بحال

مزید : صفحہ اول


loading...