”جینڈ ر بیسڈوائیلنس کورٹس“میں مردوں کو بھی فیئر ٹرائل کا حق دینا ہوگا:چیف جسٹس

”جینڈ ر بیسڈوائیلنس کورٹس“میں مردوں کو بھی فیئر ٹرائل کا حق دینا ہوگا:چیف ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ ہمارا آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے اور ان حقوق کے تحفظ کےلئے ہم نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سے جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹس کا قیام بھی ایک ہے۔وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین سے متعلق دوسری تین روزہ ورکشاپ اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے ۔اختتامی سیشن سے سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصورعلی شاہ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم خان نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 (اے )ہرشہری کوشفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے، جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹ صرف خواتین کےلئے نہیں ہے،ان عدالتوں کا یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ جو بھی بندہ گیا اس میں اس کو سزا دے دی جائے گی،ہمیں بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف عدالتوں میں ملزموں کو فیئر ٹرائل کا حق دینا ہے، یہ تاثر نہ جائے کہ یہ صرف خواتین کے تحفظ کی عدالت ہے، ہم جج ہیں ہمیں انصاف کرنا ہے اور قانون کے مطابق کرنا ہے، انہوںنے کہا کہ ہم نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرناہے ،چند روز پہلے ہم نے بول کر ٹائپنگ کرنے کا تجربہ کیا ہے، ویسے بھی ججز زبانی لکھواتے ہیں، آپ بولیں گے اور کمپیوٹر ٹائپ کرے گا،اس مصنوعی ذہانت کا استعمال ہماری عدلیہ میں انقلاب برپا کردے گا، چیف جسٹس نے شرکاءکا بتایا کہ اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے 5 اہم پروگرام شروع کئے ہیں، ہمارا پہلا اقدام جھوٹی شہادتوں اور جھوٹے گواہان کے خلاف ہے اور آج مختلف عدالتوں میں جھوٹے گواہان کے خلاف مختلف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا اہم اقدام ججز کی استعداد کار میں اضافہ ہے اورپنجاب جوڈیشل اکیڈمی اس مقصد کے حصول کےلئے ہمارے شانہ بشانہ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہ عوام کی فلاح کےلئے تیسرا اقدام پولیس اصلاحات ہیں جس کےلئے بہت موثر اقدامات کئے جارہے ہیں،ہمارے پاس پولیس ریفامز کمیٹی ہے، اس کمیٹی کے 9 ممبر ہیں اور ان میں سابق آئی جی پولیس شامل ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ پولیس کا امیج عوام کے سامنے بہتر ہو سکے، پولیس نے گزشتہ 3 ماہ میں خود بخود 71 ہزار شکایات نمٹائی ہیں جبکہ پہلے یہی معاملات عدالتوں میں آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت ضلعی عدلیہ میں نئے دائر ہونے والے مقدمات میں 11 فیصد کمی ہوئی ہے اور اعلیٰ عدلیہ میں ایسے مقدمات میں 20 فیصدکمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اگلا قدم پولیس ایسسمنٹ کمیٹیوں کا قیام ہے جن میں ریٹائرڈ سیشن ججز اور وکلاءشامل ہوں گے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہماری جانب سے عوامی فلاح کےلئے اٹھایا جانے والا چوتھا اقدام عدالتوں کی استعداد کار میں اضافہ ہے جس کےلئے ہر عدالت کو ریسرچ سنٹر سے منسلک کیاجارہا ہے جہاں ہر طرح کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا طریقہ کار اپنایا جائے گا تاکہ مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے ججز کو ہر طرح کی ممکنہ معاونت کو یقینی بنایا جاسکے،ہم نے ریسرچ انجینئربنائے، اس کےلئے آفیسر تعینات کئے، ریسرچ سنٹرز سے جج دنیا بھر کی عدالتوں کے فیصلے صرف ایک کلک پر حاصل کر سکتے ہیں، ججوں کو ریسرچ سنٹرز کی وجہ سے کیسز کے فیصلے کرنے میں آسانی ہو گی، اس سے مقدمات کے فیصلوں کو کیس لاز اور قوانین کے مطابق بنایا جائے گا اور فیصلوں میں پیدا ہونے والی مختلف خامیوں پر قابو پایا جاسکے گا اور ججز فیصلے کرتے ہوئے بہت مختاط ہوجائیں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا طریقہ کار ہماری عدلیہ میں انقلاب پیدا کردے گا اور مقدمات کے فیصلے دنوں کی بجائے گھنٹوں میں اور گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں لکھے جائیں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا ہمارا ایک اور اہم اقدامات ماڈل کورٹس کا ہے، آج ہمیں بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ گزشتہ 96 دنوں میں ملک بھر میں قائم کریمینل ماڈل کورٹس میں 10 ہزار 600 قتل اور نارکوٹس کے ٹرائلز مکمل کئے گئے،ہم نے جوڈیشل مجسٹریٹس کی ماڈل کورٹس بھی قائم کر دی ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹس کی ماڈل کورٹس نے 11 دنوں میں 5 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کر دیئے، ہم نے کچھ بھی اضافہ نہیں کیا، بس فائن ٹیون کیا ہے، اس کا کریڈٹ ہمارے ججز، وکلائ، پولیس اور پراسیکیوٹرز کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ہدف ہماری انہی عدالتوں نے مکمل کیا ہے جن پر کام نہ کرنے کا شکوہ کیا جاتا ہے۔ ان اہداف کو پورا کرنے میں انہی وکلاءاور متعلقہ اداروں نے کردار ادا کیا ہے جن پر مقدمات کو غیر ضروری التواءمیں ڈالنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ یہ سب کسی معجزہ سے کم نہیں ہے لیکن ہمارے اندر عوامی فلاح کےلئے کام کرنے کی لگن ضروری ہے پھر کوئی بھی کام ناممکن نہیں رہتا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 معاشرے کے ہر فرد کو فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ ہر شخص کو انصاف کی فراہمی ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔ لازمی نہیں ہے کہ ہر معاشرے میں ایک صنف مظلوم رہے گی اور دوسری صنف ظالم ہی تصور کی جائے گی۔ جینڈر بیسڈ وائیلنس کرائمز میں فیئر ٹرائل کو یقینی بنانے کےلئے ججوںکو اوپن مائنڈ کے ساتھ بیٹھنا ہے، کسی ایک صنف کو مظلوم تصور کرتے ہوئے مقدمات فیصلہ نہیں کرنا بلکہ حقائق اور قوانین کے مطابق فیصلوں کو یقینی بنانا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے اختتامی سیشن سے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جینڈر بیسڈ وائیلنس ہماری سوسائٹی کا ایک خوفناک پہلو ہے۔ جسے کچھ عرصہ قبل تک ٹھیک سے جانا بھی نہیں گیا تھا، اگر کوئی ایسے جرائم کا شکار فرد عدالت میں آتا تو اسے ایک بھری عدالت میں اپنے اوپر ہوئے ظلم کی کہانی سنانا پڑتی تھی جس وجہ سے ایسے جرائم کا شکار متاثرین عدالتوں میں آنے سے ڈرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایشیائی ترقیاتی بنک کے اشتراک سے اس پہلو کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور پھر لاہور میں پاکستان کی پہلی جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹ کا آغاز کیا جہاں صرف جینڈر بیسڈ جرائم کی سماعت شروع ہوئی۔ فاضل جسٹس نے کہا کہ ہمارے لئے باعث خوشی ہے کہ لاہور میں شروع کی جانے والی پہلی جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹ کا پیغام پورے میں پھیلا اور آج ہم سب یہاں جینڈ بیسڈ جرائم کی روک تھام اور تدارک کےلئے قوانین پر بات کرنے کےلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ ایک ضلع اور ایک عدالت سے شروع ہونے والا سفر پورے ملک کے ہر ضلع تک پہنچ چکا ہے جس کےلئے ہم چیف جسٹس آف پاکستان سردار آصف سعید خان کھوسہ جیسی وژنری شخصیت کے مشکور ہیں۔ فاضل جسٹس نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 37 خواتین کو تحفظ دیتا ہے، ہمیں صنفی حساسیت کے حوالے سے بھی کام کرنا ہے، کام کرنے کی جگہوں پر صنفی حساسیت بہت ضروری ہے تاکہ کوئی صنف کسی دوسری صنف کو ہراساں نہ کرسکے۔اب لوگوں میں شعور آرہا ہے اور ہم نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے صنفی حساسیت سے متعلق شعور کو مزید پختا کرنا ہے تاکہ کسی بھی جگہ پر صنفی حساسیت سے متعلق مسائل سامنے نہ آسکیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا، خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق نہ دینا جرائم کی زمرے میں آتا ہے، وقت کا اہم تقاضا ہے کہ جینڈر بیسڈ وائیلنس جیسے جرائم کی روک تھام کےلئے مل کر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم کے متاثرین کو ہماری خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین جینڈر بیسڈ وائیلنس کی بری طرح شکار ہیں لیکن کلچر کا بہانا کرکے ایسے جرائم کی اکثریت عدالتوں میں لائی جاتی۔ فاضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارا دین ہر فرد خصوصی طور پر خواتین کو ہر طرح کے بنیادی حقوق دیتا ہے، ہم میں سے کوئی بھی اللہ تبارک وتعالی کی جانب سے عطا کردہ حقوق کو پامال نہیں کرسکتا۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق قوانین میں اسلامی بنیادی حقوق قوانین کو حاص مقام حاصل ہے۔ ہم خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پاس قرآن مجید کی صورت میں تمام بنیادی حقوق و فرائض پر مبنی آئین موجود ہے لیکن اس کے باوجود معاشرے میں زیادتیاں اور ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ چیف جسٹس نے بہترین ورکشاپ کے انعقاد پر پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کی خدمات کو سراہا اور اشتراک کےلئے ایشیائی ترقیاتی بنک کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، سیکرٹری لاءاینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر محمد رحیم اعوان، ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کی کنٹری ڈائریکٹر فار پاکستان ذی ہانگ یانگ، ایشیائی ترقیاتی بنک کی نمائندہ ارم حسن نے بھی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر مہمانان خصوصی نے ورکشاپ کے شرکاءمیں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے اور اکیڈمی کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان اور دیگر مہمانوں کو سوونیئرز بھی پیش کئے گئے۔ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس عرفان سعادت خان، لاہور، پشاور، اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے فاضل ججز، سپریم کورٹ آف آسٹریلیا کی سابق جج رابن لیٹن ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کے نمائندے نے شرکت کی۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول


loading...