قبائلی عوام نے مفاد پرست عناصر کو مسترد کر دیا:مفتی عبدالشکور

قبائلی عوام نے مفاد پرست عناصر کو مسترد کر دیا:مفتی عبدالشکور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور(سٹی رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (ف) قبائلی اضلاع کے امیر و رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے کہا ہے کہ سلیکٹیڈ حکومت نے قبائلی اضلاع کے انتخابات سے قبل نتا ئج کو ہائی جیک کر نے کیلئے مختلف حر بے استعما ل کئے گئے تھے جبکہ قبائلی عوا م نے دوسروں کی کند ھوں پر بندوق ر کھنے والوں کو مکمل طور پر مسترد کر کے بتا د یا کہ اشاروں والوں کو ہم نے گزشتہ سال بھی ووٹ نہیں د یا اور اب دینے کو تیا ر نہیں ہے،عمرا ن نیازی،وزیر اعلیٰ اور دیگر صو با ئی وزراء نے انتخابات سے قبل قبائلی اضلا ع کے دورے کر کے قومی وسائل کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کر د یا تھا جبکہ پی کے 115کے نتائج کو چیلنج کر کے دوبار ہ گنتی میں بھی جیت گئی قبائلی اضلاع کے بعض حلقوں پر ہمارے تحفظات اور مذ کور ہ حلقوں کے حوالے سے ہم آر اوکے پاس درخواستیں جمع کرا ئی۔گزشتہ روزپشاور پریس کلب میں اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود قبائلی عوام نے تحریک انصاف کے امیدواروں کی اکثریت کو مسترد کر دیا جبکہ اب سلیکٹیڈ حکمران آزاد ممبران کو زبردستی اپنے جماعت میں شامل کررہے ہیں جو کہ ہارس ٹریڈنگ کے مترادف ہیں تاہم وزیر ستان میں الیکشن سے ایک دن پہلے لوگوں کو بلا بلا کربیٹ پر مہر دینے کوکہا تھا۔انہوں نے کہاکہ ایف آر کی نشست پر حکومت کی جانب سے ریٹرننگ آفسر پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ جے یو آئی کے ووٹوں کو کسی بھی طرح مسترد کردیا جا ئے لیکن ریٹرننگ آفسر نے ہماری امیدوار کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست کرتے ہے کہ قبائلی اضلا ع کے انتخابات میں حکومت کی جانب سے کئے گئے پری پول دھاندلی کا نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل حکومت نے خفیہ سروے بھی کر دیئے تھے جس میں انہوں نے اپنا چہر ہ دیکھ لیا تھا کہ اس با ر عوا م ہمیں ووٹ د ینے کی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ گورنر،وزیراعلی اور صوبائی وزرا نے قبائلی عوام کے مینڈیٹ کو چرانے کے لئے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونا شروع کر دیااور قبائلی عوام کے مینڈیٹ کو چرانے کے منصوبے بنانے لگے اورکزئی سے جمعیت کی حمایت سے الیکشن جیتنے والے آزاد امیدوار کو زبردستی پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے تمام تر دعوں کے باوجود قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے، جبکہ افواج پاکستان نے اپنے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے قبائلی عوام کی ترقی کے لئے 50ارب مختص کرائے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے روایتی حربے استعمال کرتے ہوئے قبائلی اضلا ع کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی روش کو نہیں چھوڑا تو صوبے بھر میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکن سڑکوں پر نکل آ ئینگے۔