”اگر میں سلیکٹر ہو تا تو میں ۔۔۔“محمد عامر کی ریٹائرمنٹ پر شعیب اخترگرم ہو گئے ، سیدھی سیدھی سنا دیں

”اگر میں سلیکٹر ہو تا تو میں ۔۔۔“محمد عامر کی ریٹائرمنٹ پر شعیب اخترگرم ہو ...
”اگر میں سلیکٹر ہو تا تو میں ۔۔۔“محمد عامر کی ریٹائرمنٹ پر شعیب اخترگرم ہو گئے ، سیدھی سیدھی سنا دیں

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کے سابق فاسٹ باولر شعیب اختر نے محمد عامر کی ریٹائر منٹ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر میں سلیکشن بورڈ میں ہوتا تو میں ایسے لڑکوں کسی بھی فارمیٹ میں کھیلنے نہ دیتا، وہاب ریاض اور حسن علی بھی ان کے قدموں پر چل سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شعیب اختر نے اپنے پیغام میں کہاس کہ خصوصاًسپاٹ فکسنگ سکینڈل میں پابندی کے بعد قومی ٹیم میں واپس آنے پر یہ عامر کی ذمے داری بنتی تھی کہ وہ اس وقت پاکستان کرکٹ کو کچھ دے کر جائیں کیونکہ ان پر بہت سرمایہ کاری کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میں سلیکٹر ہوتا تو کسی بھی ایسے کھلاڑی کو منتخب نہ کرتا جس نے ون ڈے اور ٹی 20 پر توجہ دینے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی ہو۔شعیب نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب عامر کی ریٹائرمنٹ کے بعد قومی ٹیم کے مزید کھلاڑی بھی یہ قدم اٹھا سکتے ہیں جن میں حسن علی اور وہاب ریاض جیسے باولرز شامل ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ سپاٹ فکسنگ کے بعد انہیں ٹیم میں واپس لانے کیلئے بہت محنت کی گئی اور اب جب وہ اچھا پر فارم کر رہے ہیں تو انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی ۔شعیب اختر نے مزید کہا کہ یہ تمام کھلاڑی ٹی20 کے باو¿لرز بننا چاہتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے، عامر، وہاب اور حسن علی صرف ٹی20 کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، ون ڈے کرکٹ کھیلنا بھی ان کے لیے ایک مشکل کام ہے۔سابق فاسٹ باو¿لر نے کہا کہ اگر میں سلیکشن بورڈ میں ہوتا تو میں ایسے لڑکوں کسی بھی فارمیٹ میں کھیلنے نہ دیتا، ایک وقت آتا ہے جب آپ پیسہ بناتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان کو آپ کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کیونکہ اگر عامر 27سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے تو اس سے اس کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، میرے خیال میں وزیر اعظم عمران خان کو بھی اس معاملے پر سنجدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔

مزید : کھیل


loading...