برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی پاکستان میں رشتہ داری کی خبریں غلط ثابت، ان کی بیوی کس بالی ووڈ اداکار کی قریبی عزیز ہے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی پاکستان میں رشتہ داری کی خبریں غلط ثابت، ان ...
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی پاکستان میں رشتہ داری کی خبریں غلط ثابت، ان کی بیوی کس بالی ووڈ اداکار کی قریبی عزیز ہے؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

  


لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کے نومنتخب وزیر اعظم بورس جانسن کی اہلیہ کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں یہ کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق سرگودھا سے ہے لیکن اب ایسی خبریں غلط ثابت ہوگئی ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق بورس جانسن نے 1993 میں مرینا وہیلر نامی سکھ خاتون سے دوسری شادی کی تھی جو 2018 میں بورس کے ایک کم عمر لڑکی سے تعلق کی وجہ سے علیحدگی پر منتج ہوئی ۔ دونوں میاں بیوی میں باقاعدہ طلاق نہیں ہوئی لیکن دونوں ہی الگ رہ رہے ہیں۔

مرینا وہیلر کا تعلق معروف لکھاری خشونت سنگھ کے خاندان سے ہے۔ خشونت سنگھ کی چھوٹی بہن دیپ سنگھ نے بی بی سی کے صحافی چارلس وہیلر سے شادی کی تھی ۔ یوں مرینا وہیلر لکھاری خشونت سنگھ کی سگی بھتیجی ہیں اور بورس جانسن ان کے داماد ہیں۔

مرینا وہیلر کی اپنے ننھیال کے ذریعے بالی ووڈ کے پٹودی خاندان میں بھی رشتہ داری نکلتی ہے کیونکہ سیف علی خان کی سابق اہلیہ امرتا سنگھ کا تعلق بھی خشونت سنگھ کے خاندان سے ہے۔ اداکارہ امرتا سنگھ دراصل خشونت سنگھ کی بھانجی ہیں، یوں مرینا وہیلر اور امرتا سنگھ فرسٹ کزن ہیں۔

مرینا وہیلر کی ان تمام رشتہ داریوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے ان کاددھیال اور سسرال انگلستان جبکہ ننھیال ہندوستان ہے۔ پاکستانی میڈیا انہیں پاکستانی قرار دینے کی جو کوششیں کر رہا ہے وہ دراصل تقسیم سے پہلے کی باتیں ہے۔ مرینا وہیلر کے ماموں خشونت سنگھ اور ان کا خاندان تقسیم سے پہلے سرگودھا ڈویژن کے ضلع خوشاب میں مقیم تھا۔ اگر تقسیم سے پہلے کے معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے رشتہ داریاں نکالی جانے لگیں تو پھر معاملہ سارا ہی گڑ بڑ ہوسکتا ہے ۔

مثال کے طور پر سابق صدر پرویز مشرف دلی سے پاکستان آئے تھے لیکن کیا انہیں ہندوستانی کہا جائے گا؟ اسی طرح نواز شریف کے خاندان کا تعلق بھارتی پنجاب کے امرتسر سے ہے لیکن انہیں کبھی کسی نے ہندوستانی نہیں کہا۔ بھارت کے 2 بار وزیر اعظم رہنے والے منموہن سنگھ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن اس بنا پر وہ پاکستانی نہیں کہلائے۔

اسی طرح اگر زبردستی کی رشتہ داریاں نکالی جاتی رہیں تو پاکستان میں رہنے والا کوئی بھی شخص پاکستانی یا ہندوستانی نہیں رہے گا کیونکہ ان میں سے اکثریت کا تعلق افغانستان، ایران، خطہ عرب اور افریقہ وغیرہ سے نکل آئے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی


loading...