شرح سود میں اضافہ‘ ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آنیکا خدشہ

شرح سود میں اضافہ‘ ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر آنیکا خدشہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) سٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود ایک فیصد بڑھا کر 13.35فیصدکئے جانے کے باعث مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے۔ یہ شرح سود گزشتہ  10سال میں بلند ترین سطح ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافہ مہنگائی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ (بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

بجٹ میں گیس‘ بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر اقدامات کے باعث آئندہ 2‘3ماہ میں قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے تاہم ٹیکس وصولیو ں اور قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین کی قوت خرید کم ہو گی جس سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔مہنگائی کی شرح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا خطرہ موجود ہے۔حکومت کی حالت یہ ہے کہ اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لئے بینکوں سے قرضے لے رہی ہے۔بلند شرح سود سے حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں اضافی طو ر پر سوا تین سو ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔شرح سود میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور نجی شعبے کے بینکوں سے قرضے لے کر کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ جنوری2018میں شرح سود صرف6فیصد تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک اس میں 6فیصد سے زائد اضافہ کیا جا چکا ہے۔دوسری جانب ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 4سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

شرح سود

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...