سی پیک منصوبے کا دوسرا مرحلہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے،پروفیسر ڈاکٹر شانگ جے ہوئی

سی پیک منصوبے کا دوسرا مرحلہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے،پروفیسر ڈاکٹر شانگ جے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (این این آئی) سی پیک منصوبے کا دوسرا مرحلہ پاکستان کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی تعاون کا دور شروع ہو گا اور پاکستان میں کئی اسپیشل اکنامک زونز قائم کئے جائیں گے جس سے کاروباری شراکتوں اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے سینئر ریسرچر اور سیچوان یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈین برائے انٹرنیشنل سٹیڈیز سانگ جے ہوئی نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گلوبل انٹرپرینیورشپ نیٹورک پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر کاشف ایم خان بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔پروفیسر ڈاکٹر سانگ جے ہوئی نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے پہلے مرحلے میں پاکستان میں توانائی اور انفراسٹریکچر کی ترقی پر توجہ دی گئی تھی اور اب دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی پر توجہ دی جائے گی جس سے پاکستان کی معیشت کیلئے فائدہ مند نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کئی کمپنیاں پاکستان میں سی پیک کے تحت بننے والے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور پاکستان میں فیکٹریاں لگانا چاہتی ہیں کیونکہ پاکستان ان کیلئے بہترین مارکیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے عمدہ مواقع موجود ہیں اور صنعتی تعاون کے دورمیں باہمی تعاون میں مزید مضبوط ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ایک ٹورازم پروموشن کانفرنس منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان سے اپنی درآمدات کو مزید بڑھانا چاہتا ہے جس سے چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت کو بہتر فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ چیمبر چین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صحیح پارٹرنز کی تلاش میں تعاون کرے۔  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ سی پیک کے علاوہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ و تعمیرات سمیت متعدد شعبوں میں چین کی کمپنیوں کیلئے جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کے عمدہ مواقع پائے جاتے ہیں لہذا انہوں نے چین کی کمپنیوں پر زور دیا کہ یہی مناسب وقت ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کر کے پاکستان میں اسپیشل اکنامک زونز سمیت دلچسپی کے شعبوں میں جوائنٹ وینچرز و سرمایہ کاری کرنے پر توجہ دیں۔ 


انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے چین کی کمپنیاں نہ صرف مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کر سکیں گی بلکہ فالتو مصنوعات مشرق وسطیٰ، سنٹرل ایشیاء اور جنوبی ایشیاء سمیت دیگر ممالک کی طرف برآمد کر سکیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چیمبر چین کی کمپنیوں کو پاکستان میں پارٹنرز تلاش کرنے کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کرے گا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری شراکتیں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید :

کامرس -