دہشت گرد رابطے کے لئے افغان سمیں استعمال کرتے ہیں

دہشت گرد رابطے کے لئے افغان سمیں استعمال کرتے ہیں
دہشت گرد رابطے کے لئے افغان سمیں استعمال کرتے ہیں

  


نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد رابطوں کیلئے اب بھی افغان سمیں استعمال کر رہے ہیں۔ نو کروڑ سموں،1 ہزار ویب سائٹس اور تین ہزار سے زائد سوشل میڈیا پیجز کی بندش ناکافی ثابت ہوئی۔ دہشت گردوں کے انٹرنیٹ رابطے کو چیک کرنا بہت مشکل، قانون میں بھی سقم موجود ہیں۔ دہشت گردوں نے رابطوں کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رکھا ہے۔

نیکٹا اور دیگر ادارے سوشل میڈیا کا غلط استعمال روکنے میں ناکام رہے۔

افغانستان ہمارا ہمسایہ مسلم ملک ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کا خواہاں رہاہے کیونکہ جب بھی افغانستان میں بدامنی ہوئی، پاکستان نے اس کا بہت نقصان اٹھایا ہے۔ ہماری قیادت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ افغانستان میں امن آئے۔ پاکستان نے افغانستان سے کہا کہ مسائل کا سیاسی حل نکالیں اور معاملات کو بات چیت سے طے کریں۔ افغانستان دہشت گردوں کی جنت بن چکا ہے اور پوری دنیا سے دہشت گردوہاں کھچے چلے آرہے ہیں کیونکہ وہاں ایسی جگہیں ہیں جن پر افغان گورنمنٹ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ داعش کے خلاف روس، چین اور امریکہ کو بھی تشویش ہے۔

سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد خطرناک دہشت گردوں نے افغانستان کا رخ کیا۔ وہاں جا کر یہ دہشت گرد مقامی انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر مزید مضبوط ہوگئے۔ وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کراتے ہیں۔ ایسے ہی ایک دہشت گرد جان ولی عرف شینا کو افغانستان کے صوبے کنڑ میں نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کر دیا۔ جان ولی دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث تھا اور متعدد مقدمات میں مطلوب تھا۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشنز کے بعد جان ولی عرف شینا باجوڑ ایجنسی سے فرار ہوکر افغانستان چلا گیا تھا۔اسی طرح ملا فضل اللہ پر پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر حملہ کرنے اور پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا۔

پاکستانی حکومت افغان حکومت سے کئی بار یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کیا جائے یا پھر ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کی اجازت دی جائے۔فضل اللہ پرگزشتہ برس افغانستان میں اپنی گاڑی میں جاتے ہوئے ڈرون حملہ کیا گیا جس سے وہ موقع پر اپنے محافظوں سمیت ہلاک ہوگیا۔

افغان صدرکا کہنا ہے کہ افغانستان کے 60 فیصد علاقہ پر ان کی سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے باقی علاقہ پر نہیں ہے۔ ہمارے مطلوبہ لوگ اسی 40فیصد علاقہ میں ہیں، جس میں افغان فورسز کا کنٹرول نہیں ہے۔

اس علاقے میں داعش جڑ پکڑ رہی ہے جو یقیناً پاکستان کیلئے خطرے کا باعث ہے۔

داعش مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے اور اس میں ایسے دہشت گردوں کو شامل کیا جا رہا ہے جن کا تعلق مشرق وسطیٰ کی ر یاستوں سے ہے۔ داعش میں اس وقت دس ہزار سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں اور یہ افغانستان کے 34صوبوں میں سے 9صوبوں میں فعال ہیں۔ پاکستان میں حالیہ حملوں میں طالبان اور داعش دونوں شامل ہیں۔ ایران بھی خطے میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے ہونے والی کاروائیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

داعش افغانستان میں کام کرنیوالے اپنے عسکریت پسندوں کو صوبہ خراسان کا نام دیتی ہے۔ داعش کی جانب سے افغانستان اور پاکستان میں متعدد حملے کئے جا چکے ہیں۔پاکستانی سرکاری ذرائع کاکہنا ہے داعش نے افغانستان کے ایسے خطرناک علاقوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کئے ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں اور یہ سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔پاکستان، چین، روس اور ایران نے طالبان کیساتھ رابطے قائم کئے ہیں تا کہ انہیں عسکریت پسندی کی کاروائیاں ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے اور مذاکرات کی طرف راغب کیا جا سکے۔

پاکستان کا عزم ہے کہ اس کی سرزمین افغانستا ن کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی مگر ہمارے خلوص کااسی طرح جواب نہیں آیا۔ ہم نے بارڈر منیجمنٹ کی بھی کوشش کی مگر افغانستان نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ افغان حکام کو سوائے پاکستان پر الزام لگانے کے اور کوئی کام نہیں ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق بھارت بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف کاروائی کیلئے استعمال کرتا ہے اس پر ہم اقوام متحدہ میں ڈوزیئر بھی جمع کروا چکے ہیں۔

پاکستان نے اپنے علاقہ سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔اب امریکہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرے۔

افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو افغان جنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ افغان مہاجرین، اسلحہ و منشیات سے نمٹنا پڑا ہے۔ مشرقی افغانستان میں دہشت گردوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ افغانستان میں بیٹھے دہشت گرد گروپ ہی پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم شرپسندوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کا خاتمہ، پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے دہشت گردوں کو ختم کرے۔افغانستان کے امن و استحکام میں پاکستان کا مفاد ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں جنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان میں امن نہیں لایا جا سکتا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف امریکہ کی موثر کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مالی اور مادی امداد کی بجائے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا 120 ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا۔ پاکستان میں دہشت گردی کا مرکز افغانستان ہے۔ افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ تاہم ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے ہاں کوئی بھی دہشت گرد قیادت میں موجود نہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...