کیا تعلیم پر حسب وعدہ کوئی سرمایہ کاری کی جارہی ہے؟

کیا تعلیم پر حسب وعدہ کوئی سرمایہ کاری کی جارہی ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور بورڈ اور دیگر تعلیمی بورڈوں سے پاس ہونے والے طلباء اور طالبات کا تناسب سرکاری کالجوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ ہے اور اس سال بھی لاکھوں طلباء و طالبات نجی تعلیمی اداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے،اس کا اندازہ لاہور سے میٹرک کر لینے والے طلبہ اور طالبات کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔طلباء کے لئے سرکاری کالجوں میں 51ہزار900کی گنجائش (سال اول) ہے،طالبات کے لئے سرکاری کالجوں میں یہ29135 ہے، پاس ہونے والے طلباء اور طالبات کی ضرورت سے کہیں کم ہے۔یوں یہاں لاکھ سے زیادہ طلباء اور اتنی ہی تعداد میں طالبات سرکاری کالجوں میں داخلے سے محروم رہیں گی۔ جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے تو پہلے سال کے لئے سرکاری کالجوں میں فیس سالانہ 3100 سے4500 روپے تک ہے،لیکن نجی کالجوں میں اسی سال کی فیس 35سے70 ہزار تک لی جاتی ہے، اور یہاں معیار کا فرق بھی نمایاں ہے۔لاکھوں طلباء و طالبات سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے سے محروم رہیں گے۔ حکمران تعلیم کا بہت چرچا کرتے اور دعوے کرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ کسی قسم کے ترقیاتی کاموں کی ضرورت نہیں، بس تعلیم پر سرمایہ کاری کی جائے، لیکن عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلے مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ تعلیمی میدان میں ہنگامی طور پر اقدامات کئے جائیں، اساتذہ پورے کئے جائیں، موجودہ کالجوں کی مرمت اور توسیع کی جائے اور تعلیم کے لئے اتنے کالج ضرور بن جائیں کہ تمام خواہش مندبچوں کو داخلہ مل سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -