نہ پوچھ عالم ِ برگشتہ طالعی آتش ؔ

نہ پوچھ عالم ِ برگشتہ طالعی آتش ؔ
 نہ پوچھ عالم ِ برگشتہ طالعی آتش ؔ

  


مرزا غالب نے علاؤالدین علائی کی والدہ کے انتقال پہ انہیں ایک عجیب و غریب خط لکھا تھا۔ خط کے الفاظ میں ”تعزیت کے واسطے تین باتیں ہیں، اظہارِ غم، تلقین ِ صبر اور دعائے مغفرت۔ سو بھائی، اظہارِ غم تکلفِ محض ہے۔ جو غم تم کو ہوا، ممکن نہیں کہ دوسرے کو ہوا ہو۔ تلقینِ صبر بے دردی ہے۔

یہ سانحہء عظیم ایسا ہے جس نے غمِ رحلتِ نوابِ مغفور کو تازہ کیا۔ پس ایسے موقع پر صبر کی تلقین کیا کی جائے۔ رہی دعائے مغفرت، سو مَیں کیا، میری دعا کیا“۔ مَیں غالب ہوتا تو اپنے دوست ڈاکٹر خرم قادر کو اِسی مضمون کا پرچہ یہ سوچ کر لکھ بھیجتا کہ تاریخ کا یہ استاد ہر انسانی تجربے کو عمومی اسباب و نتائج کی لڑی میں پرو دینے کا ماہر ہے۔ پر والدہ کی رحلت نے خرم قادر کو ایک ایسے تجربے سے دوچار کیا ہے جسے عمومیت کے دھاگے میں باندھا گیا تو تسبیح کے سبھی دانے بکھر جائیں گے۔

اگر آپ دانے بکھر جانے کے خوف کو سمجھنا چاہیں تو سب سے پہلے نظامِ شمسی پہ غور کرنا پڑے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ نظامِ شمسی کے سیارے سورج ہی کے گرد گھومتے ہیں۔ پھر ہر سیارے کی گردش اپنے محور کے گرد بھی ہوتی ہے اور مدار کے اندر رہتے ہوئے بھی۔ ایک منظم حرکت کے الگ الگ چھوٹی بڑی اکائیوں میں بانٹے جانے کا یہی عمل مذکورہ سیارے کے لئے روز و شب اور مہ و سال کے پیمانوں کو جنم دیتا ہے۔ ماہرینِ فلکیات، سائنسدان اور فلسفی حیران ہیں کہ انہیں حتمی تجزیہ میں وقت کے پیمانے سمجھیں یا فاصلے کی اکائیاں۔

شاعرِ مشرق نے تو ’نہ ہے زماں نہ مکاں‘ کہہ کر اپنے تئیں دونوں کی بساط لپیٹ دی تھی۔ پھر بھی ہر غم اور خوشی کو فلسفیانہ سطح پہ لے جانے والا اقبال اپنے سورج سے بچھڑا تو ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ یہی محسوس ہوا کہ اُس کی کائنات ٹوٹ گئی ہے۔ آج خرم قادر کو یہی آزمائش درپیش ہے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب اُس سورج کے غروب ہونے کی خبر ملی جسے نوجوانی میں لوگوں نے ’بانگِ درا‘ کے دیباچہ والے سر عبدالقادر کی بہو جانا اور کم عمر بہی خواہوں نے بریگیڈیر شوکت قادر اور ڈاکٹر خرم قادر کی والدہ کے طور پر سر آنکھوں پہ بٹھایا۔ اہل ِ خاندان اور اُن دوستوں کے لیے جو قریب ہو کر بھی میری طرح ’سلسلہء قادریہ‘ سے باہر ہیں، محترمہ برجیس قادر کی طبیعت کا توازن، وسعت ِ نظر اور ہم جلیسی کیا معانی رکھتی تھی؟ یہ سمجھانا چاہوں تو کوشش کے باوجود سمجھا نہ پاؤں گا۔

جنازے میں شرکت کے لئے لاہور سے راولپنڈی کی طرف کار دوڑاتے ہوئے جذبات کی رَو میں بہہ کر بیوی سے یہ کہنے کو دل تو چاہا کہ آج میری ماں بیس سال بعد دوبارہ موت کی آغوش میں چلی گئی ہے۔ پر یہ بھی پوری سچائی نہیں، جزوی صداقت تھی۔ پورا سچ یہ ہے کہ اُس دن میرے مرحوم ماں باپ ہی نہیں، دادا اور دادی بھی نئے سرے سے زندہ ہوئے اور پھر ایک ساتھ دوبارہ حدودِ وقت کو پار کر گئے۔

وجہ یہ کہ اپنے اِن چاروں بزرگوں کی چیدہ چیدہ صفات کو یکجا کروں تو بھی شاید خرم کی امی کا ہیولہ بن نہ سکے۔ یہی دیکھ لیں کہ اب سے چالیس سال پہلے ٹھیک جولائی کے مہینے میں میرے رونقی طبیعت والے دادا دنیا سے رخصت ہوئے تو مَیں یونیورسٹی کالج آف نارتھ ویلز میں تعلیمی سال مکمل کر کے وطن واپسی کے سفر میں بلا مقصد ایک ہفتے کے لئے لندن میں رکا ہوا تھا۔

اِس دوران یہ تکلف بھی نہ کیا کہ برطانیہ سے ڈائرکٹ فون کال کی جو سہولت میسر تھی اُس سے فائدہ اٹھا کر والدین کو اپنی آمد کی تاریخ اور پرواز کی تفصیل سے آگاہ کر دیتا۔ سوچا کہ گھر والوں کو سرپرائز دوں گا۔ گھر پہنچنے پر سرپرائز تو مجھے ملی۔ سب چپ چپ سے تھے۔ حسبِ عادت جاتے ہی دادا کا پوچھا۔ ماں نے کہا ”بتاتے ہیں“۔ پھر دوپٹے سے آنسو خشک کئے اور بولیں ”اباجی تو آٹھ دن ہوئے فوت ہو گئے ہیں“۔

میرے منہ سے نکلا ”کوئی بات نہیں“ مگر اُس آدمی کی مسکراتی ہوئی تصویر ہمیشہ کے لئے حافظے کے البم میں چپک گئی جو اسی سال کی عمر تک جتنی بار ٹھوکر کھا کر گرا اتنی ہی مرتبہ کپڑے جھاڑ کر پھر تن کے بھی کھڑا ہو گیا۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں دادا نے مسرت نذیر کی فلم ’یکے والی‘ نوے دفعہ دیکھی تھی۔ ہر دفعہ سنیما سے واپسی پہ یہی کہا ”جیسا کام مسرت نے کیا ہے، عورتوں کو اِتنا ہی با ہمت ہونا چاہئے“۔ میرا مقصد یہ جائزہ لینا نہیں کہ کِس نے کتنی فلمیں دیکھیں۔ اصل چیز ہے زندگی کی ترنگ، جو آج کے کالم میں میری ممدوحہ کا محض ایک وصف ہے۔

بدھ کو میری اپنی ماں او ر باپ اِس لئے زندہ ہو کر دوبارہ راہیء عدم ہوئے کہ ایک میں گھرداری کا سلیقہ نمایاں تھا اور دوسرے میں بچوں کے لئے تعلیمی و تہذیبی ترقی کا بے پناہ جذبہ۔ اُن کے علاوہ میری دادی جنہیں سراپا دعا کہنا غلط نہ ہوگا۔

یہاں پہنچ کر خرم قادر کی والدہ کا جی پی اے پھر اوپر ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے میرے ایم اے کے آخری سال تک دادی نے ہر صبح وداع کرتے ہوئے یہ نصیحت ضرور کی کہ ”بَلو، سڑک دھیان سے پار کرنا، موٹریں بہت تیز آ تی ہیں“۔بریگیڈیئر شوکت، پروفیسر خرم اور ڈاکٹر فرح کی امی میں اپنے بچوں کے لئے دردمندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لیکن میری دادی کا سا وہ عجز نہیں تھا جو اچھے بھلے انسان کو ای ایم فوسٹر کی زبان میں ’فلیٹ کیریکٹر‘ بنا دیتا ہے۔

میری ممدوحہ کی طبیعت میں تو ایک اور سطح کا توازن تھا، جسے کہوں گا ’شفقت مِلا تحکم‘۔ شیکسپیئر کے ’کنگ لئیر‘ میں بادشاہ نے اپنے وفادار ارل آف کینٹ کو غضب ناک کیفیت میں شاہزادی کورڈیلیا کے ساتھ ہی ’عاق‘ کر دیا تھا۔ یہی ارل آف کینٹ مصائب و ابتلا کے شکار بادشاہ کے سامنے جب بھیس بدل کر پیش ہوا تو چہرے بشرے کے ذکر پر شاہ نے پوچھا کہ مجھ میں کِس خصوصیت کی جھلک نے تمہیں ’میرے آقا‘ کہنے کی ترغیب دی۔ کینٹ نے کہا ”اتھارٹی“۔

تو یہ وہی اتھارٹی ہے جسے مَیں نے شروع میں شفقت ملا تحکم کہا۔ ادب کے طالب علم یہ بھی جانتے ہیں کہ شیکسپیئرین کلاؤن کو بارہا ’وائیز فُول‘ بھی سمجھا گیا ہے۔ اب میری عزتِ نفس کی خاطر یہ بحث نہ چھیڑیں کہ فی الوقت اِس سے کون صاحب مراد ہیں، لیکن دانشمند مسخرے کو یاد ہے کہ مادرِ مہربان سے اُس کی اولین بامعنی ملاقات ڈاکٹر خرم قادر اور ڈاکٹر ثمینہ قادر کی تقریبِ ولیمہ پہ راولپنڈی کے فلیٹیز ہوٹل میں ہوئی۔یہ اُنتالیس سال پہلے کا فلیٹیز ہے جہاں ماحول کی انگریزیت پوری طرح معدوم نہیں ہوئی تھی۔

مسخرہ سرخوشی کے عالم میں دولہا میاں سے بغل گیر ہوا۔ پھر اُن کے سر پہ ہاتھ رکھ کر مصنوعی پدرانہ شان سے کہنے لگا ”بیٹا، یہ میری آخری ذمہ داری تھی،جو اللہ نے بحسن و خوبی پوری کر دی ہے۔ اب مَیں اور تمہاری چچی کچھ ہی دن میں حج کو چلے جائیں گے“۔ ہمدمِ دیرینہ سہیل قمر مرزا کے بقول والدہ نے یہ پرفارمنس دیکھ کر کہا تھا ”مجھے خرم کا یہ دوست بہت پسند آیا ہے“۔ گل ہوئی ناں، مَیں نے سوچا۔

پھر بھی باہمی التفات کی اِس کہانی کو لے کر آگے چلوں تو اُس میں بڑے بڑے گَیپ دکھائی دیں گے اور کچھ میری خود پسندی کا شائبہ بھی۔ دراصل،دانش مند مسخرے کی اپنی تربیت میں بزرگوں اور دوستوں کا ویسا روایتی احترام سیکھنے میں کمی رہ گئی تھی کبھی کبھی جو چاپلوسی کی حدوں کو چھو جاتا ہے۔جیسے خرم قادر سے دوستی کے ابتدائی مرحلے پر مَیں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کے لئے سر عبدالقادر کا پوتا یا شیخ منظور قادر کا بھتیجا ہونا کوئی ہینڈی کیپ تو نہیں۔ کمال ملائمت سے کہنے لگے کہ اِس میں نہ تو فخر کا پہلو ہے، نہ خفت کی کوئی بات۔

اُن کی اپنی زندگی تھی، ہماری اپنی ہے۔ خدا جانتا ہے کہ خرم کی والدہ مرحومہ سے مل کر، جو تاریخ ِ پیدائش کے لحاظ سے میرے والد کی ہم سن تھیں، عمر کا فرق تبادلہء خیال میں کسی ایک موقع پر رکاوٹ بنتامحسوس نہ ہوا۔ ہاں علمی نکتہ ہو تو میرے لئے ’آپ‘ کا صیغہ، انتظامی بات ہو تو ’تم‘۔

یہاں پہنچ کر میرا تاثر یہ ہے کہ جس شخصیت کی جھلک دکھانا مقصود تھی، ہزار خواہش کے باوجود اُس کے عناصر ترتیب میں نہیں آ سکے۔ ہر پیرا گراف ختم ہونے پر صوفی مفکروں والی ایک اجنبی صدا گونجنے لگتی ہے۔ الفاظ ہیں ’’جتنا چاہو زور لگا لو، مثال ناقص ہے“۔

ایک مانوس آواز اِس کے علاوہ کانوں میں پڑ رہی ہے جو ’وقت نیوز‘ پہ دانشمند مسخرے کی روزانہ گفتگو سُن کر حسب ِ ملاقات متن اور ادائیگی کا مختصر تجزیہ کیا کرتی تھی، لیکن آج خلافِ معمول لہجہ کچھ تیکھا ہے: ”مَیں نے آپ کی تقریر سُنی ہے۔ ٹھیک تھی مگر، بیٹا، عورت کی سب سے بڑی ذمہ داری اُس کا گھر ہے، خاص طور پہ بچوں کی تربیت۔ اِس پر ایک لفظ نہیں کہا“۔ اِس سوال کا عملی جواب دونوں بھائیوں، بہن اور اُس کی بھابھی کی صورت میں سب کے سامنے ہے تو سہی، مگر پوری بات سننے کے لئے مَیں اُس شخص کی طرف دیکھ رہا ہوں جو گھر بیٹھے کائناتوں کے ٹوٹنے اور پھر دوبارہ جُڑنے کے مسلسل عمل کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...