سیاست میں شائستگی اور معیشت میں ترقی کا فقدان

سیاست میں شائستگی اور معیشت میں ترقی کا فقدان
 سیاست میں شائستگی اور معیشت میں ترقی کا فقدان

  

سیاست اور معیشت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ایک شعبہ کی ترقی و خوشحالی دوسرے کی چہل پہل بڑھاتی اوران میں سے کسی ایک کی زبوں حالی دوسرے کی ویرانی کا باعث بنتی ہے۔ ملک میں اگر سیاسی استحکام او ر پالیسیوں میں تسلسل ہو توسرمایہ کاروں اور کارو باری افراد میں اعتماد بڑھتا ہے۔بلا خوف و خطر سرمایہ کاری اور صنعتکاری پر توجہ دیتے اور اسے بڑھاتے ہیں۔ملک کے اندر سیاست دان باہمی لڑائی جھگڑوں اقتدار کی رسہ کشی اور دوسروں کو چور ڈاکو کہنے اور ثابت کرنے میں وقت اور صلاحیتیں برباد کرتے ہوں تو غیر ملکی سرمایہ کاری دور کی بات ہے ملکی سرمایہ کار بھی ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

صنعتو ں کی پیدا واری صلاحیت محدود اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ ملک میں معاشی و اقتصادی ترقی کی خواہشمند حکومتیں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کی راہیں تلاش کرتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں معاشی ماہرین کی خدمات سے استفاد کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ موجودہ حکومت کے بعض اقدامات سے شعوری یا لاشعوری طورپر سرمایہ کاری اور کاروباری سرگر میوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ بعض اقدامات کی نتیجے میں سیاست دانوں اور کاروباری طبقہ کے ساتھ اختلافات کی خلیج وسیع ہو رہی ہے۔

بھائی چارہ بڑھانے محبت کی مہک عام کرنے، مشاورت کادائرہ وسیع کرنے اورسب کو ساتھ لے کر چلنے کا رویہ اپنانے کی بجائے دوسروں کو چور ڈاکو کے القابات سے نوازنے کی روش عام ہوئی ہے۔ایسے حالات ہوں گے تو لا محالہ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کارسرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گے۔ جہاں تک معاشی ماہرین کی مہارتوں سے استفادہ کا تعلق ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لیا تو اس نے مہارت کے نا م پر اپنے پسندیدہ افراد ملک کے کلیدی عہدوں پرتعینات کر الیے۔ مقصد یہ ہے کہ عوام اورکاروباری طبقوں کو ریلیف ملے یا نہ ملے۔ ملک معاشی لحاظ سے ترقی کرے یا تنزلی کی طر ف لڑھک جائے۔ آئی ایم ایف کو اس کے قرض کی رقوم ہرصورت واپس مل جائیں۔

مصر میں آئی ایم ایف کے سابق کرتا دھرتا جناب رضا باقر کی سٹیٹ بنک آ ف پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے تعیناتی اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اربا ب اقتدار نے بہت کم دیکھا ہے کہ جناب رضا باقر نے کہاں کہاں کام کیا ہے۔ جس ملک میں کام کیا اس کی معیشت کیسی رہی۔ پاکستان تشریف لانے سے قبل جناب رضا باقر مصر میں تھے۔ دیکھنے کی بات تھی کہ مصر کی معیشت کا کیا بنا۔ اس کی کرنسی کہاں پہنچی۔ ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ جناب رضا باقر کی کاوشوں سے کسی ملک کی معیشت نے شاندار ترقی کی ہو۔

سٹیٹ بنک کے گورنر کی حیثیت سے آپ نے معیشت کی سہ ماہی رپورٹ جاری کی تو آپ نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جس سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو ا۔ کاروبار ٹھپ اور مارکیٹیں بند ہونے لگی ہیں۔ مینو فیکچرنگ سیکٹر کی پیداواری صلاحیت منفی ہو چکی ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جناب گورنر صاحب کے فرمان و اعلان نے کاروباری طبقہ اور عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں بجلی گیس اور یوٹیلیٹیز کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ایسے اعلان سے ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے عہدیداروں کو اطمینان و سکون ملے لیکن ہر پاکستانی کے اضطراب و تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

جناب گورنر صاحب نے یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ ایک سال بعد ملک کی معیشت سانس لینے لگے گی۔ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک کے مصداق لوگ آج مہنگائی کی و جہ سے قریب المرگ ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی ناقابل برداشت گرانی اور کمیابی کے ساتھ اگر مرد یا خاتون پنے لیے کپڑا خریدنے بازار جائیں تو تین ہزار روپے والا سوٹ اب چار ہزار روپے میں بمشکل ملتا ہے۔پوچھنے پر دوکاندار ٹیکسوں کی دو ہائی دینے لگتے ہیں۔ انڈسٹری آج بند ہو رہی ہے۔ بے روزگاری آج بڑھ رہی ہے۔

لوگ آج نان جویں کو ترس رہے ہیں بچوں کی سکول فیس آج ادا کرنا مشکل ہو چکی ہے۔گورنر سٹیٹ بنک ایک سال بعد معیشت میں جان آنے کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔آئی ایم ایف کے ماہرین اگرپاکستان میں معیشت کی بحالی اور عوام کی پریشانیوں کا مداوا چاہتے ہیں تو ملک میں کاروبار کرنا آسان بنائیں۔

بجلی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق کم کریں۔ صنعتکاری کو بے تحاشا ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلائیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عام آدمی کا جینا ممکن بنایا جائے تاکہ ملک سے محبت کے جذبے زندہ و پائندہ رہیں۔سیاست دان حب الوطنی کا موٹیو ہمیشہ سامنے رکھیں باہمی لڑائی نو ریٹرن پوائنٹ تک نہ پہنچائیں کہ عوام کی چیخ و پکار کوجواز بنا کر سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے اور سب ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -