مفاہمت کی سیاست

مفاہمت کی سیاست
 مفاہمت کی سیاست

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد یہاں قیادت کا فقدان رہا یہی وجہ ہے کہ ملک آج تک مسائل کے گرداب سے نکل ہی نہیں سکا مسلم لیگ پاکستان کی خالق جماعت تھی جسے پاکستان میں ایک منظم کوشش کے بعد ا۔ب۔ ج۔ د۔ میں تقسیم کر دیا گیا، لیکن نظریاتی کارکن نواز شریف کے جھنڈے تلے آ جمع ہوئے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ہمیشہ ہی نواز شریف کا طواف کرتی رہی ہے آج بھی سیاست کا مرکز کوٹ لکھپت جیل میں پابند ِ سلاسل نواز شریف ہی ہے، جس کا کیس پانامہ سے شروع ہوکر اقامہ پر ختم ہوا جناب عمران خان نے ڈی چوک سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک عوام سے جوجوکہا وہ ان باتوں سے مکر گئے یہاں مجھے شیخ رشید کی بات کا ذکر کرنا پڑتا ہے،جنہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ سے ٹرمپ ہی ملنے جا رہا ہے جی شیخ صاحب نے بالکل درست فرمایا تھا، کیونکہ جناب ٹرمپ اور جناب عمران خان دونوں ہی یو ٹرن کے ماہر ہیں احسن اقبال نے کہا ہے کہ عمران خان نے واشنگٹن جا کر بھی ڈی چوک والی تقریر ہی کی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واشنگٹن جلسے میں قادیانیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی قادیانیوں کے حقوق کے لئے متحرک مشہور پاکستانی قادیانی جو صحافی ادبی اور انٹرنیشنل کانفرنس جیسے ناموں کے ساتھ ان کے لئے متحرک ہے وہ جلسے کی لابنگ کے لئے بھی متحرک رہی مونا کاظم پاشا اسلام دشمن حتیٰ کہ پاکستان کی بھی بہت بڑی مخالف ہے،جس نے ایک میٹنگ اپنی ہی طرح کی قادیانی اور کئی لبرل آنٹیوں کے ساتھ اوور سیز پاکستانیوں کے وزیر کے ساتھ امریکہ میں رکھی تھی۔


خان صاحب نے واشنگٹن میں کہا کہ شاہد خاقان کہتے تھے مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لو بس انہیں گرفتار کر لیا گیاساتھ خان صاحب فرماتے ہیں حکومت کا اپوزیشن کی گرفتاریوں میں عمل دخل نہیں یہ تضاد کیوں؟یہی بات تو معاملات کو متنازعہ بناتی ہے بھلا کون کرپٹ افراد کے خلاف احتساب کے عمل کو نہیں سراہتا، لیکن اس میں صرف اپوزیشن کو ہی نشانے پر نہ رکھا جاتا خان صاحب نے ہی جسے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو فرمایا تھا اسے ہی پنجاب کا سب سے اہم عہدہ دے دیا شیخ رشید صاحب سے خان اعظم کے تاریخی مکالمے بھی ریکارڈ پر ہیں، جسے آج ایک ریڑھی بان بھی جانتا ہے مومن کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا اور عمران خان تو پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کا اعادہ کرتے رہے ہیں،آپ کرپشن کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں اور کرپشن تو یہاں اور بھی زیادہ شدت سے ہو رہی ہے۔

جہاں تک ٹرمپ عمران خان ملاقات کا تعلق ہے توامریکی رویوں اور پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی۔ البتہ اس خوشگوار ملاقات کے اچھے نتائج کی توقع رکھنی چاہئے۔صدر ٹرمپ نے کشمیر کے حوالے سے جو ارشاد فرمایا اور جسے سب سے بڑی خبر سمجھا جا رہا تھا بھارت تو اس سے مکر گیا

کہ مودی نے کشمیر ایشو پر کسی سے ثالثی کا نہیں کہا اگرچہ دنیا پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ کشمیر پر بھارت کا تسلط ناجائز ہے اور کشمیریوں پر بھارتی سورماؤں کا جبر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، مَیں سمجھتا ہوں ہمارے ملکی معاملات تو ہم خود ہی حل کر سکتے ہیں اس کے لئے ذرا ظرف کی بلندی درکار ہے عمران خان 2013ء کواپنی انتخابی مہم کے دوران لفٹر سے گرکر زخمی ہوے تو نواز شریف تمام تر تلخیوں کے باوجود ہسپتال میں ان کی تیمارداری کو پہنچے تھے خان صاحب نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے تو اخلاقی برتری حاصل کر جاتے میں سمجھتا ہوں

ہمارے سیاست دانوں کو اخلاقیات کا کوئی سبق ازبر نہیں۔رشوت ستانی کو لیجئے ’نواز شریف اور اس کے خاندان کو ایک طرف رکھ دیجئے اور اپنے پورے ماحول کا جائزہ لیجئے کہ ہمارے ہاں کہاں کہاں کرپشن کا بول بالا نہیں ہو رہا سرکاری دفاتر میں ہی نہیں چھوٹی بڑی دکانوں پر بھی خود ساختہ مہنگائی کی جو صورتِ حال سامنے آرہی ہے اس کو آپ کیا کہیں گے پھر اپنے اپنے حلقوں کے تمام ممبران اسمبلی کو دیکھ لیجئے آپ کی آنکھوں کے سامنے منتخب ہونے سے پہلے ان کی معاشی حالت کیسی تھی اور اب کیسی ہے،جبکہ معاشرے میں ان کے بارے میں یہ تاثر سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص پر آج کل اللہ کا بڑا فضل ہے۔

اس وقت مفاہمت کی سیاست ناگزیر ہے اگر حکومت اور اپوزیشن تمام تر اختلافات سے نکل کر ملک کے لئے سوچیں تو ہمیں دنیا کا رہین منت نہ ہونا پڑے۔

مزید :

رائے -کالم -