عدم اعتماد، کس کا فائدہ، کس کا نقصان

عدم اعتماد، کس کا فائدہ، کس کا نقصان
 عدم اعتماد، کس کا فائدہ، کس کا نقصان

  


سینٹ میں قائد ایوان شبلی فراز مشہور انقلابی، ترقی پسند شاعر احمد فراز (مرحوم) کے صاحبزادے ہیں، خود بھی اچھا مزاج رکھتے اور نرم خو بھی ہیں، وہ ان دنوں سینٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام بنانے کے مشن پر ہیں، گزشتہ کئی دنوں سے وہ ایک وفد کے ساتھ اپوزیشن والوں سے ملاقاتیں کرتے رہے کہ سینٹ کے تقدس کو بحال رکھا جائے اور عدم اعتماد کا کھیل نہ کھیلا جائے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال بھی ان کے ساتھ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ صادق سنجرانی کا تعلق ان کی جماعت سے ہے۔

اب تک یہ حضرات مولانا فضل الرحمن کے علاوہ اپوزیشن کے نامزد امیدوار میر حاصل بزنجو سے بھی مل چکے کسی جگہ بھی ان کو کامیابی نہیں ملی۔ اب شبلی فراز کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو اپنا امیدوار بہتر فضا کے لئے واپس لینا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو حزب اختلاف کو شرمندگی ہو گی، کیونکہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکتی، خود اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کئی سینیٹرز صادق سنجرانی کے حسن سلوک کے قائل اور ان کے خلاف نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اپوزیشن بضد رہی تو اسے ناکامی ہوگی کہ اس کے کئی سینیٹر حاضر نہیں ہوں گے اور یہ عذر پیش کریں گے کہ وہ حج پر گئے ہوئے ہیں (تاحال کسی سینیٹر کے حج پر جانے کی اطلاع نہیں) یوں سینٹ میں قائد ایوان نے از خود ایک تاثر پیدا کیا جس پر حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ان کو ڈرایا نہ جائے، نمبر گیم پوری ہے اور حکومت کی طرف سے ہارس ٹریڈنگ ناکام ہو گی۔

سینٹ ہو یا قومی اسمبلی یا پھر ملک کے اندر کی بات ہو مفاہمت بہت بہتر عمل ہے اور پارلیمانی جمہوریت تو نام ہی افہام و تفہیم کا ہے،لیکن بدقسمتی سے گزشتہ برس کے انتخابات کے نتائج سے یہ مفاہمت پیدا نہیں ہو سکی اور محاذ آرائی بڑھ گئی اور اب تو اس کی شدت پوری طرح محسوس کی جا رہی ہے اور فریقین آمنے سامنے ہیں۔

سینٹ میں تعداد کے لحاظ سے حزب اختلاف کا الزام کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کی کوشش کر رہی ہے کچھ بجا بھی محسوس ہوتا ہے کہ سینٹ میں اپوزیشن کو 66اور تحریک انصاف کو 37اراکین کی حمایت حاصل ہے حزب اختلاف کے مطابق ان کے 66کے 66اراکین متحد ہیں، جبکہ حکومتی دعویٰ ہے کہ کئی سینیٹر ان سے رابطے میں ہیں اور وہ عدم اعتماد کی حمائت نہیں کریں گے اپوزیشن نے دو روز قبل اجلاس منعقد کرکے حاضری سے ثابت کیا کہ ایوان میں اکثریت ان کی اور کوئی بھی شخص ایوان کے اعتماد کے بغیر چیئرمین نہیں رہ سکتا۔

جہاں تک عددی صورت حال ہے تو اپوزیشن کو واضح برتری حاصل ہے اور اب تک جو بھی کوشش کی گئی اسے متوقع پذیرائی نہیں ملی اور اگر 66میں سے کوئی یا ایک سے زیادہ ووٹ چیئرمین کے حق میں جاتے ہیں تو ان کو فرق نہیں پڑے گا کہ فرق بہت ہے اور جو اپوزیشن کے مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرے گا وہ خود نکو اور لوٹا ہو کر رہ جائے گا،66میں سے 6بھی توڑ لئے جائیں تو اپوزیشن کو 60کی حمایت حاصل ہو گی جبکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 52سینیٹروں کی ضرورت ہے۔ اس وقت کل 103ارکان ہیں، اسحاق ڈار ملک میں نہیں۔

صادق سنجرانی تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی مشترکہ حمائت سے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور اب پیپلزپارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور دوسری جماعتیں بھی ان کے خلاف ہیں اور کھلم کھلا سامنے ہیں، ایسے میں ان کے کسی سینیٹر (متنخب) کا لوٹا بننا دھچکا ضرور ہو گا لیکن نمبر گیم پھر بھی متحدہ اپوزیشن کے حق میں رہے گی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی کیا وجہ ہے کہ ان کی جگہ اپوزیشن کا سینیٹر چیئرمین بنایا جائے عدم اعتماد پیش کرنے والوں کا موقف ہے کہ صادق سنجرانی واضح طور پر حکومتی رکن بن چکے ہیں اور وہ اپوزیشن کو مروجہ مراعات بھی نہیں دیتے،

اپوزیشن کا چیئرمین بن جانا حکومتی حلقوں کے لئے بڑا دھچکا ہوگا اور حزب اختلاف کا حوصلہ بڑھے گا، سنجیدہ فکر حلقوں کے مطابق اس طرح حالات میں تبدیلی نہیں ہوگی تلخی بڑھ جائے گی کہ اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے اور بزنجو چیئرمین بن جاتے ہیں تو اپوزیشن کی تحاریک کو دبایا نہیں جائے گا اور یوں ایک پیغام دینا بھی مقصود ہے جو وزیراعظم عمران خان کے علاوہ غیر مرئی قوتوں کے لئے بھی ہو گا کہ اپوزیشن زندہ ہے اور بازی پلٹ بھی سکتی ہے، یوں بھی اب جو کوشش تحریک انصاف کی طرف سے کی گئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو بھی افہام و تفہیم کا قائل ہونا پڑے گا۔

جہاں تک ہارس ٹریڈنگ کا تعلق ہے تو اب تک کے حالات سے یہی لگتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس عزت کا بھی یہی راستہ ہے کہ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد منظور ہو اور ان کا اپنا چیئرمین آ جائے۔ اگرچہ ایسے چیئرمین کو بھی حزب اقتدار کے تعاون کے بغیر ہی کام چلانا ہو گا جو مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ اس لئے یہ محاذ آرائی اور بڑھ جائے گی۔جمہوری دنیا میں تو ایسا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہاں تو وزیراعظم اقلیتی جماعت سے بھی منتخب ہو جائے تو کام چلتا رہتا ہے، بہرحال اپوزیشن کا پلہ بھاری ہے اور یکم اگست سے قبل دیرپا مفاہمت کی ضرورت ہو گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...