کم از کم استحصالی نظام تو بدل دیں

کم از کم استحصالی نظام تو بدل دیں
 کم از کم استحصالی نظام تو بدل دیں

  


بھرے ہال میں سوال و جواب کا سیشن تھا، اچانک ایک نوجوان کھڑا ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ ملک میں کوئی ایسا محکمہ، دفتر یا ادارہ بھی ہے جہاں عام آدمی کا کام بغیر رشوت یا سفارش کے میرٹ پر ہوتا ہو؟…… میں یکدم گڑبڑا گیا۔ کس محکمے کا نام لوں، کس دفتر کا بتاؤں، مَیں نے اپنے تئیں ایک دو محکموں کے نام لئے، مگر ڈرتے ڈرتے،کیونکہ مجھے معلوم تھا جواب ضرور آئے گا۔ سو وہی ہوا، سوال پر سوال ہوئے۔ جیسے وکیل جرح کرتے ہیں، بالآخر تالیاں اسی بات پر بجیں کہ فی الوقت کوئی محکمہ بھی ایسا نہیں جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ وہاں بغیر رشوت و سفارش کے میرٹ پر کام ہوتا ہے۔

اب اس کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اس پر کون سی رقم خرچ ہوتی ہے، زرمبادلہ درکار ہے کہ دفاتر کی حالت بہتر بنا دی جائے، عمال سرکار کو پابند کیا جائے کہ وہ رشوت و سفارش کے بغیر خلق خدا کے کام یقینی بنائیں۔ آخر اس طرف تبدیلی کے دعویداروں کی توجہ کیوں نہیں۔ کیوں ایسے دو چار سرکاری افسروں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا گیا جو برسرعام بد عنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں، جن کے دفاتر یا محکموں کا ماحول ہی بتا دیتا ہے کہ وہاں پیسے کی زبان چلتی ہے، دوسری کوئی زبان سمجھنے والا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی انتخابی مہمات میں نظام کو تبدیل کرنے کے جو دعوے کئے تھے، وہ آخر کہاں گئے۔چلیں یہ تو مان لیا کہ قرضہ بہت زیادہ تھا، اقتدار سنبھالتے ہی جان کے لالے پڑ گئے، لیکن یہ کیا ہوا نظام کی تبدیلی بھی غتر بور ہو گئی۔ وہی گلاسڑا نظام، وہی بدبودار ماحول، وہی خلقِ خدا پر ظلم، وہی رشوت، وہی اقربا پروری، وہی ظلم،وہی زیادتی، نہ داد نہ فریاد، اوپر سے نیچے تک عوام پر بے حس، بے درد اور بے ضمیر سرکاری عمال کا تسلط، کوئی باہر نکل کر کسی دفتر کا رخ تو کرے، کسی سرکاری محکمے میں تو جائے، گرمی و حبس میں لوگ مارے مارے پھرتے نظر آئیں گے۔

ایک بے جا اعتراض،کبھی دوسرا، دفتروں کے ٹھنڈے ماحول میں بیٹھ کر حکم جاری کر دینا کتنا آسان ہے، لیکن کسی غریب آدمی کا میلوں دور واقع کسی دوسرے دفتر میں جا کر معمولی سے اعتراض کو درست کرا کے واپس آنا اور واپسی پر صاحب بہادر کا اٹھ جانا، کس قدر اذیت سے دو چار کرتا ہے کوئی عام پاکستانی سے پوچھے۔ جب حکومت نے وزیر اعظم سٹیزن پورٹل قائم کیا تھا مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ یہ حکومت بھی عملاً کچھ نہیں کرنا چاہتی۔ اس میں اتنی سکت اور طاقت نہیں کہ استحصالی نظام کے کس بل نکال سکے، بیورو کریسی کو نکیل ڈالے اور دفتری نظام کو جوابدہ بنائے۔

معاملہ زمین پر خراب ہے اور آپ شکایت کا پتہ آسمان کا دے رہے ہیں، کیوں؟ یہ کس ملک میں ہوتا ہے، کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی ایسا سٹیزن پورٹل قائم کر رکھا ہے، کیا برطانوی وزیر اعظم اسی پورٹل کے ذریعے نظام چلا رہا ہے، حتیٰ کہ انڈیا کا وزیر اعظم بھی ایسے کسی تماشے کے ذریعے لوگوں کو ریلیف نہیں پہنچاتا۔ سب جگہوں پر ایک نظام کام کرتا ہے، اس نظام کے کل پرزوں کی اتنی جرأت نہیں کہ من مانی کر سکیں، کسی کے صوابدیدی اختیار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں تو ایک جابرانہ نظام مسلط کر کے ادنیٰ سے سرکاری کل پرزے کو بھی اتنے اختیارات دے دیئے گئے ہیں کہ وہ خود مغل بادشاہ بن بیٹھتا ہے۔ کام میں ایسا گنجل ڈالتا ہے کہ بڑے سے بڑا سرا بھی اس گنجل میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں 60 فیصد لوگوں کو درخواست بھی لکھنی نہیں آتی، وہاں سٹیزن پورٹل جیسے اقدامات کیا ریلیف دے سکتے ہیں؟ اگر عوام کی دسترس میں موجود سرکاری دفتر انہیں ریلیف نہیں دیتا تو اسلام آباد کے راستے وہ ریلیف کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر سب کچھ ماضی کے گلے سڑے نظام کے تحت ہی چلنا تھا تو نئے پاکستان کا نعرہ کیوں لگایا گیا؟ آج بھی وہی کھلی کچہریوں کے ڈرامے جاری ہیں۔ ان سرکاری افسروں سے کوئی پوچھے کہ کیا تم کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہو۔ جو انصاف دینے کے لئے کھلی کچہریاں لگاتی ہے۔

تم اپنے دفاتر میں بیٹھ کر خلق خدا کے کام کیوں نہیں کرتے۔ مجھے بہت ہنسی آتی ہے جب مَیں یہ خبر پڑھتا ہوں کہ ڈپٹی کمشنر نے شہر کے فلاں حصے میں کھلی کچہری لگائی، یعنی یہ ڈپٹی کمشنر بہادر سمجھتا ہے کہ وہ مغل شہزادہ ہے اور عوام کی فریادیں سننے ان کے پاس آیا ہے۔

اگر وہ اپنی ناک کے نیچے قائم ان اداروں کو ہی درست کر دے جن سے خلق خدا کو روزانہ واسطہ پڑتا ہے تو عوام کے مسائل ختم ہو جائیں۔ وہاں تو اس نے ہر قسم کی زیادتی، بے حسی، رشوت اور لوٹ مار کی چھٹی دی ہوئی ہے اور پہنچ جاتا ہے مساجد یا محلوں میں کھلی کچہری لگانے، یہی کام پولیس افسران کرتے ہیں، شامیانے لگا کر کھلی کچہری سجاتے ہیں، اپنے ان ماتحتوں کی شکایات سنتے ہیں جو ان کے لئے سونے کی چڑیا کا کام دیتے ہیں، پھر انکوائری انہی کو مارک کر دیتے ہیں، یہ لیپا پوتی کا عمل پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے، کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس سے عوام کو کوئی ریلیف ملا، یا ظالمانہ نظام میں تھوڑی بہت ہی تبدیلی آئی…… وہی رشوت، وہی سفارش، وہی بندر بانٹ، وہی ظلم جو اس ملک خداداد کے مظلوم عوام کا مقدر بنا ہوا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان، شاید ایسے ہی چاپلوسوں میں گھر گئے ہیں جو ان کی واہ واہ کر کے سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ تحریک انصاف میں خوشامدیوں اور چا پلوسی کا کلچر کس قدر زور پکڑ چکا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوا، جب وزیر اعظم عمران خان دورہئ امریکہ کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے۔

پہلی بار دیکھا گیا کہ ہر وزیر اپنے ہاتھوں میں شادیوں میں پہنا جانے والا ہار لے کر کھڑا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا وزیراعظم کو ہار پہنانے کے لئے ٹوٹا پڑ رہا ہے۔ آخر اس ڈرامے کی کیا ضرورت تھی؟ عمران خان ایک پارٹی سربراہ کے طور پر دورہ کر کے نہیں آئے تھے،وہ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے گئے اور آئے۔ انہیں یوں ہار پہنانا عالمی سطح پر کیا تاثر چھوڑ گیا، کسی نے اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بڑی سطح کی کرپشن تو نیب پکڑ رہا ہے، اسے کام کرنے دیا جائے،مگر جو چھوٹی سطح کی کرپشن عوام کا جینا محال کئے ہوئے ہے، اس کا سد باب تو حکومت نے کرنا ہے۔

پنجاب میں دیکھئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے عوام کو کرپٹ نظام سے نجات دلانے کے لئے کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ بس وہ دو چار دن کے بعد ایک دھمکی آمیز بیان ضرور جاری کر دیتے ہیں کہ جس نے کام نہ کیا وہ گھر جائے گا۔ ارے میرے پیارے بزدار صاحب بیانیہ یہ نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ جس نے کرپشن کی وہ گھر جائے گا۔ جس نے عوام کے جائز کام نہ کئے وہ عہدے پر نہیں رہے گا، جس نے میرٹ سے ہٹ کر فیصلے کئے وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔

انہیں اپنے اچانک دوروں کے درمیان صفائی کی ناقص صورت حال تو نظر آ جاتی ہے، وہ کبھی اس ”گندگی“ پر بھی نظر ڈالیں جو سرکاری افسروں اور اہلکاروں نے اپنی کرپشن اور بد اعمالیوں سے پھیلا رکھی ہے، حتیٰ کہ یہ گندگی ضلعی اکاؤنٹس دفاتر میں بھی موجود ہے،جہاں پنشنروں تک کو کمیشن دیئے بغیر واجبات نہیں ملتے۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں مانیٹرنگ کا کون سا نظام وضع کیا ہے۔ ایک افسر کو ڈپٹی کمشنر بنا کر وہ بھول جاتے ہیں کہ اس نے ضلع کی کیا حالت بنا رکھی ہے۔جب خلقِ خدا نکونک ہو جاتی ہے اور اخبارات اس افسر کی نا اہلی اور کرپشن سے بھر جاتے ہیں تو اس کا ٹرانسفر کر کے کسی اور ضلع میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔ اب تو لگتا ہے انٹیلی جنس والے بھی کرپٹ افسروں سے مل گئے ہیں، حالات کی صحیح رپورٹ ہی اعلیٰ سطح پر نہیں بھیجتے…… وزیر اعظم صاحب!اگر معاشی حالات کی وجہ سے آپ عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو کم از کم انہیں کرپشن فری نظام تو دے سکتے ہیں۔

عوام سرکاری محکموں کے بارے میں دہائیاں دیتے ہیں، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ سرکاری محکموں کے ضابطے سادہ اور آسان بنائیں۔ سرکاری افسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کریں۔ افسران کی نگرانی کا فول پروف نظام بنائیں۔ عوام کو کچھ تو احساس ہو کہ تبدیلی کے شگوفے پھوٹ رہے ہیں۔ اگر تو سب کچھ اسی طرح چلنا ہے جیسے تبدیلی کے دعوؤں سے پہلے چل رہا تھا تو پھر اس تبدیلی کے خلاف کسی ردعمل کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم


loading...